Alhamdolilah 4 everything❤️
My Twitter account is just bcz of my sweet bhaiya @WaseemBadami 💖
WB bhaiya is my inspiration.
Member of
#Teamsareaam#Teamwbians
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)
امیر المومنین سیدنا عمر فاروق ؓ اپنے خطبہ میں یوں دعا مانگا کرتے تھے:
" اے اللہ! اپنی رسی کے ساتھ ہماری حفاظت فرما اور اپنے دین پر ہمیں ثابت قدم رکھ "
،
،
(حلية الأولياء حصه اول ص ٦٤)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ ��یں چنگاری پکڑنے والا“ ۔
(جامع ترمذی،۲۲۶۰)
آپ ﷺغزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو علیؓ کومدینہ میں اپنا نائب بنایا۔علیؓ نےعرض کیا کہ آپؐ مجھے بچوں اورعورتوں میں چھوڑےجا رہے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا، کیاتم اس پرخوش نہیں ہوکہ میرے لیے تم ایسے ہوجیسے موسیٰ کےلیے ہارون تھے۔لیکن فرق یہ ہےکہ میرےبعدکوئی نبی نہیں ہوگا۔
(بخاری،۴۴۱۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سےکوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھ��یا جاتا ہے۔اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔
(بخاری، ۱۳۷۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجے“۔
(جامع ترمذی،۳۵۴۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی ،۲۱۴۷)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔
(بخاری، ۷۳۱۲)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
آپ ﷺنےفرمایا:
میرا حوض (کوثر) ایک مہینے کی مسافت کےبرابر ہو گا۔ اس کاپانی دودھ سےزیادہ سفید اور اس کی خوشبومشک سےزیادہ اچھی ہو گی اور اس کےکوزے آسمان کےستاروں کی تعداد کےبرابر ہوں گے۔جوشخص اس میں سےایک مرتبہ پی لےگاوہ پھر کبھی بھی (میدان محشر میں) پیاسا نہ ہو گا۔“
(بخاری،۶۵۷۹)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“۔
(جامع ترمذی، ۲۱۶۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ ��عالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی، ۹۶۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا:
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا،
ماں باپ کی نافرمانی کرنا،
کسی کی جان لینا
اور جھوٹی گواہی دینا۔
(صحیح بخاری،۲۶۵۳)