نامعلوم وجوہات کی بنا پر مجھے تھک ہار کر بھی فارغ بیٹھنا اچھا نہیں لگتا ٹی وی دیکھتے ہوئے بھی میرا دل چاہتا ہے کہ ہاتھ میں کوئی کام ہونا چاہیے ۔ اب ہر وقت تو پڑھائی لکھائی نہیں ہو سکتی لہذا میں دن میں کچھ وقت لازمی مختلف مشاغل میں صرف کرتی ہوں ۔
پہلے اپنے کپڑے سلائی کرتی تھی ۔ اب نوکری نہیں رہی اور دیسی کپڑے بھی زیادہ استعمال میں نہیں آتے تو سوچ بچارکی کہ اور کیا کیا جا سکتا ہے ۔ دل جیولری میکنگ پر آ کر ٹک گیا ۔ لہذا اس سال میں نے جیولری میکنگ، خاص کر وائر جیولری سیکھی اور اب کروشیہ اور بنائی پر کام جاری ہے ۔
سلائی کڑھائی کا کام کر کے بھی مزہ آتا تھا مگر کروشیہ ، بنائی اور وائر توڑنے مروڑنے سے عجیب سا ذہنی سکون محسوس ہوتا ہے۔ میں طویل عرصے سے ڈپریشن کے عفریت سے لڑ رہی ہوں تو ڈپریسڈ اور پرسکون ذہن یا طبعیت کا فرق نہایت واضح معلوم ہوتا ہے ۔
جب میں خود ان کاموں کا اپنی زندگی پر خوشگوار اثر دیکھتی ہوں تو شدت سے خیال آتا ہے کہ ہم نے اپنے بچپن میں خواتین کو جس قدر سلائی بنائی وغیرہ میں مصروف دیکھا تھا اب ایسا نہیں ۔ باقی مشاغل تو شاید مہنگے ہوں مگر یہ بے ضرر سی مصروفیت اس وجہ سے چھوڑ دی گئی ہے ارے سب کچھ تو بازار سے مل جاتا ہے ۔ مل تو جاتا ہے مگر اپنے ساتھ وہ خوشی اور اعتماد نہیں لاتا جو اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی چیز لاتی ہے۔ گھر میں استعمال نہیں تو آس پاس کے لوگوں کو تحفہ دے دیں ، بیچ دیں ۔ چیرٹی کر دیں (ڈبل سکون)
اچھی ذہنی و جسمانی صحت کے لازمی کوئی مشغلہ اپنائیں ۔ ہاتھ کی مسلسل حرکت قدرتی اینٹی ڈپریسینٹ ہے کیونکہ سیروٹینن اور ڈوپامن پیدا کرتی ہے ۔ توجہ ، اعتماد اور یاداشت بہتر ہوتی ہے ۔
اور سب سے بڑی بات بڑھاپے میں جب کوئی کام اور ذمہ دار باقی نہیں رہتی تو انسان کو کسی سے توجہ اور وقت کی بھیک نہیں مانگن پڑتی ۔ امریکہ میں جب میں لائبریری میں کام کر رہی تھی تو وہاں ہر مہنیے کسی دن بنائی اور سلائی وغیرہ کے خواتین کے گروپ اکٹھے ہوتے تھے ۔ بنائی والا گروپ گرم کپڑے بُن کر چیرٹی کر دیتا تھا۔ یہاں دنمارک میں بھی بہت سی خواتین میڑو یا ٹرین میں بنائی کرتی نظر آتی ہیں ۔
اچھا اب میرا ورک ان پروگریس رنگا برنگا کروشیے میٹ لائک کرنا نہ بھولیں ۔📷
محنتی اور مستقل مزاج آدمی کو کسی رہنما کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دنیا عالم ممکنات ہے۔ پڑھیں لکھیں محنت کرتے رہیں کامیابی خود ڈھونڈ لے گی ۔ آج کے دور میں سب رہنما وہنما سب بیکار کی باتیں ہیں ۔ بس الیکشن میں نمائندہ چنتے ہوئے اس کا میرٹ دیکھیں نہ کہ نسلی لسانی مذہبی تعلق۔
ساری عمر ہمیں صرف حاصل کرنے کی تگ و دو رہتی ہے۔ اور جس چیز کی خواہش ہو وہ مل جانے کے بعد سب ہی خوش ہوتے ہیں۔
اصل مسئلہ تو کھونے کا ہے۔ بچپن سے ہی چیزیں کھونے، نقصانات ہونے ، انسانوں کے بچھڑ جانے ، تعلق ٹوٹ جانے اور چھوڑے جانے کے دھچکے وقار سے سہنے کی بھی عادت ہونی چائیے۔
جو کھونا نہیں سیکھتے وہ یا تو متششدد ہو جاتے ہیں یا مظلومیت کا شکار ۔
خواتین ، اگر امیر بندہ ڈھونڈتی ہیں تو مرد حضرات کیا تحائف دینے کے لیے بد صورت عورت تلاش کرتے ہیں۔
مسئلہ زور زبردستی ہے کا وہ کسی صورت اور کسی بھی پارٹی کی جانب سے نہیں ہونی چائیے۔
میرا کرائم موویز دیکھنے کا وسیع تجربہ مجھے پیشن گوئی پر مجبور کر رہا ہے کہ پنکی ماری جائے گی۔
امیروں کا نشہ بیچنے کا یہی نقصان ہے۔ ایک تو انہیں زبردستی نشہ بیچتی تھی اور اب بدنام بھی کرے گی۔ یہ تو زیادتی ہے😫۔
ویسے راجہ پرویز وہی تو نہیں جن کے آخر میں اشرف اتا ہے؟
رعایت اللہ فاروقی کی حدیقہ کیانی پر پوسٹ پڑھ کر گھٹیا پن کے ایک نئے درجے کا انکشاف ہوا۔ 😡
اس عمر میں بھی انسان ایسا واہیات اور گھٹیا ہو تو اسے خود زہر کھا کر مر جانا چائیے۔
سنا ہے ڈاکٹر سارنگ کے قتل میں اس کی بیوی کے ملوث نکلی۔
ایسی خبریں سن کر سوچتی ہون کہ یہ بے وقوفی کی انتہا نہیں کہ انسان کسی دوسرے انسان کی زندگی ختم کرنے کی خواہش میں خود اپنی زندگی برباد کر لے۔
شاید خود بھی ڈاکٹر ہے۔ کیا ملا ۔ اب جیل کی چکی پیسے گی ۔ طلاق بہتر آپشن نہین تھا۔ کیا اتنے پڑھے لکھوں کو تھوڑا سا جمع ضرب کرنا نہین آتا🥺۔
میری بہت ساری سندھی کولیگ تھین ہم سب نے اچھے دوستون کی طرح وقت گزارا۔ مگر فیس بک پر پہلی بار انجان لوگوں بلکہ زیادہ طرح پنجاب میں رہنے والے جیالوں نے مجھے پناہ گیر ون کی اولاد ، پیک تھوکنے والے ، لٹیرے ، غیر ملکی کہا صرف پیپلز پارٹی پر کسی تنقیدی پوسٹ کرنے پر ۔
حالانکہ میں نے کبھی کسی اور جماعت کی وجہ بے وجہ مدح سرائی بھی نہیں کی نہ عزت نفس سے محروم احساس کمتری کے شکار انسانوں کی طرح مرے زندہ لیڈروں کو مرشد کے مرتبے پر فائز کیا۔
میں پوچھنا یہ چاہتی ہون کہ کیا پیپلز پارٹی ہی سندھ ہے ؟ کیا اس پر تنقید سندھ کی مخالفت ہے ؟
میرا تو کراچی میں گھر ہے ہر سال جاتی ہون ۔ اس سے پہلے زندگی کے تیس سال وہاں گزارے ہین ۔ جو جیالے پنجاب میں رہتے ہیں اور سال ہا سال سے کبھی اپنی تشریف لے کر سندھ یا کم از کم کراچی نہیں آئے ہیں وہ کاہے زخموں پر پیرس پاشی کرنے چلے اتے ہیں۔
سندھ میں رہنے والے جیالوں کو بد تمیزی اور پیپلز پارٹی کی گونگی بہری عقیدت معاف ۔ ان کا قصور نہیں زمینی حالات ہی ایسے ہیں۔
میں پاکستان میں نہیں ہوں مگر وہاں کی گرمی کا حال سن کر یہ خیال ا رہا ہے کہ جولائی میں موسم نسبتا بہتر ہو جاتا ہے تو اسکول کی چھٹیاں مئی جون میں کیون نہیں دیتے ۔ ننھے ننھے بچوں کا کیا حشر ہو رہا ہو گا۔ 🥹
بد قسمتی سے ہر سیاسی جماعت نے کراچی کی تباہی میں اپنا پورا پورا حصہ ڈالا ہے لیکن اس زخمی شہر کو پیرس کہے کر جس بے شرمی اور بے حیائی کا ثبوت پیپلز پارٹی اینڈ جیالا کمپنی نے دیا ہے وہ بے مثال ہے۔
✨ The Giver
A Novel by Lois Lowry
Translated by Asma Hussain
⏰ Releasing on 20 April 2026
📚 Pre-Order Your Copy Now:
👉 https://t.co/wbCz53RaY2
Orders & Inquiries:
📞 0321 5440882
☎ 0544-621953
گرمیاں ا رہی ہیں اور ایران اسرائیل جنگ کے بعد مزید اضافے کی پیشن گوئی ہے ۔ دعا ہے کہ پاکستان مردوں کو بھی تھوڑی غیرت ا جائے اور اپنے گھر کی عورتوں کو یا تو برقعے پہنے سے منع کر دیں یا سختی سے لان کاٹن کے بنوانے کا حکم دیں۔ خود بنیا نوں میں گھومتے ہیں بے شرمی سے اور ساری شرم وحیا سنبھالنے کا ٹھیکا عورتوں کے حوالے کیا ہوا ہے۔
مجھے دو ڈینش نام غاسموس اور ٹورسٹن اکثر سننے کو ملتے ہیں ۔ تجسس کے ہاتھو ں مجبور ہو کر گوگل کیا تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ڈنمارک میں بچوں کے نام رکھنے کا عمل مکمل طور پر ریگولیٹڈ ہے، بلکہ پورے اسکنڈے نیویا میں ہی ریگولٹیڈ ہیں۔ میرے تو کبھی یہ بات ذہن میں بھی نہیں آئی تھی کہ نام پر بھی ریاستی کنڑول ہو سکتا ہے ۔
ناموں پر کنٹرول کی وجوہات میں سے ایک یہ کہ بچوں کو ایسے ناموں سے محفوظ رکھا جا سکے جو ان کے لیے شرمندگی یا تضحیک کا باعث ہوں ۔ ڈینش زبان کے اصولوں کے مطابق ہو۔
سب سے اہم بات یہ کہ سرکاری سسٹم میں یکسانیت رہے۔ یعنی سرکاری رجسٹریشن، صحت، تعلیم، امیگریشن اور دیگر ریکارڈ سسٹم میں بچوں کے ناموں کی املا ، جنس، واضح اور یکساں رہیں تاکہ غلط فہمیاں یا قانونی پیچیدگیاں پیدا نہ ہو ں۔
حکومت گاہے بگاہے منظور شدہ ناموں کی فہرست اضافے یا ردو بدل کے ساتھ شائع کرتی رہتی ہے۔ فہر ست میں تقریباً اکتالیس ہزار لڑکے، لڑکیوںاور یونی سیکس فرسٹ نام اور ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار نام شامل ہیں اور والدین کو لازماً انہی ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
لاسٹ نام میں بھی دو ناموں کی کیٹیگری ہے۔ نان پروٹیکٹیڈ لاسٹ نام جیسا کہ ہینسن ، جینسین یا نیلسن کوئی بھی رکھ سکتا ہے ۔ مگر پروٹیکٹیڈ ایسے ہیں جنہوں رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس نام کا خاندان سے تعلق ہو یعنی دادا ، دادی کے نام کا حصہ ہو۔
اگر بچے کے والدین کوئی ایسا نام رکھنا چاہیںجو فہرست میں شامل نہ ہو یا مختلف ثقافت، مذہب یا اوریجن سے تعلق ہو تو انہیں باقاعدہ تحریری درخواست دینا پڑتی ہے اگر نام منظور کر لیا جائے تب نام رکھا جا سکتا ہے ۔
مجھے تو جان کے بہت خوشی ہوئی کہ ریاست کو افراد کی اتنی فکر ہے کہ کہیں اس کے شہری کا کسی عجیب نام کی وجہ سے مذاق نہ اڑایا جائے اور اس کی ذہنی صحت متاثر نہ ہو۔
کہانی: داستانِ شیر/ ایتگار کیریٹ
اُنہوں نے اُسے کتے کی طرح مار ڈالا اور مجھے تھپڑ مارا۔۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے، مردوں کو کتے کی طرح گولی مار دیتے ہیں اور عورتوں کو تھپڑ۔۔
میرا دل نہیں چاہتا کہ تجھے ماروں، حالاں کہ تُو اسی کی " حق دار ہے۔۔ " اُن کے لیڈر نے کہا۔۔ ایک عجیب بات تھی کہ وہ سب سے زیادہ کوتاہ قد تھا۔۔
" ہم تیری عصمت دری بھی نہیں کریں گے۔۔ "
اُس نے مزید کہا، میں اُس کی آنکھیں دیکھ کر سمجھ گئی کہ وہ خود کو کوئی شہزادہ سمجھتا ہے لیکن اُس کی مہربانی کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے، میں رونے لگی۔۔
عورت ہونا بہت کٹھن ہے، تھپڑوں کو سہنا اور اُن مردوں کو کھونا جنہیں آپ عزیز رکھتی ہیں۔۔ اگر تم مرد ہوتے ہو تو وہ آدھی رات کو تمہیں بستر سے نکالتے ہیں، سڑک پر گھسیٹتے ہیں اور ٹھائیں ٹھائیں۔۔ سب ختم ہو جاتا ہے۔۔ لیکن اگر تم عورت ہو، تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔۔
رونا فطری ہے۔۔" اُس نے میرا سر سہلاتے ہوئے کہا۔۔ "
یہ صدمہ" ہے۔۔ اور پھر اُس نے دوبارہ کہا: " ہم تیری" عصمت دری نہیں کریں گے، حالاں کہ تم اس کی حق دار ہو۔۔ "
پھر وہ چلے گئے۔۔ اس لیے نہیں کہ وہ خوف زدہ تھے، مرد کسی چیز سے نہیں ڈرتے۔۔ شاید میں نے اُن کا زیادہ شکر ادا نہیں کیا تھا۔۔ میں نے اُوزاروں کے صندوق سے بیلچہ نکالا اور جہاں زمین نرم تھی، وہاں ایک گڑھا کھو دلیا۔۔
یہ کام کرنے میں مجھے تین گھنٹے لگے اور میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے۔۔۔ ایک آدمی کے لیے بڑا گڑھا کھودنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر میرے شوہر جیسے قوی الجثہ آدمی کے لیے، میں نے اُس کی لاش گڑھے تک پہنچا دی، مگر مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اُسے مٹی سے ڈھانپ سکوں، اس لیے میں نے اُسے ہمارے پھول دار کمبل سے ڈھانپ دیا اور اس کے اوپر بچوں کی طرف سے مجھے پچھلی سالگرہ پر ملی ایسپریسو مشین رکھ دی تا کہ کمبل اُڑ نہ جائے۔۔ یہ پرانا طریقہ ہے؛ میری ماں نے بھی یہی کیا تھا جب میرے والد کا انتقال ہوا تھا۔۔
پھر میں نے کچن میں جا کر ریفریجریٹر سے داستانِِ شیر کا ڈبہ نکالا، دو گلاس پیے اور تھوڑی سی ہچکیاں لیں۔۔ عورتوں والی ہچکیاں۔۔ جب وہ ہچکیاں لیتا تھا، پورا گھر لرز جاتا تھا۔۔
سور مت بنو۔۔" میں اُسے کہتی اور وہ ہنس دیتا تھا۔"
میں بستر پر گئی مگر شوہر کے بغیر سونا مشکل تھا، اُس سے بھی زیادہ مشکل تھا، اتنی سرد رات میں کمبل کے بغیر سونا۔۔ آخر کار جب آنکھ لگی تو خواب دیکھا کہ رات کے وسط میں ہمیں گھر سے باہر نکالا گیا اور مجھے کتے کی طرح گولی مار دی اور پہلی بار اُسے تھپڑ اور " ہم تیری ساتھ عصمت دری نہیں کریں گے، " قبر اور داستانِ شیر سے واسطہ پڑا اور اس بات نے مجھے اتنا جذباتی کر دیا کہ میں پوری طرح گیلی اُٹھی جو صرف ایک عورت ہی ہو سکتی ہے۔۔
••••
مترجم: اسماء حسین
حوالہ: کتاب پائپس اور دیگر افسانے
انتخاب و ٹائپنگ: احمد بلال