پیٹرول 26 روپے قیمت کم ہونی تھی لیکن حکومت نے صرف 4 روپے کم کی کیونکہ انہوں نے لیوی 22 روپے مزید بڑھا دی
یہIMF کا جواز جو پیش کیا جاتا ہے وہ بھی غلط ہے کیونکہ IMF نے کہا تھا 80 روپے تک لیوی بڑھائی جاۓ عالمی مارکیٹ کے مطابق پاکستان میں تی�� کی قیمت 236 روپے ہونی چاہیے تھی
ثروت ولیم
بلو نے کہا ایک قیدی ہے 420 وہ کہتا ہے میں نے Absolutely not کہا پھر اس کا جواب شیخ وقاص جیسے بحروپیے کی بجاے جماعت اسلامی کے سراج الحق صاحب نے دیا۔
سراج الحق صاحب اپ نے ہمارا دل جیت لیا
فوج کے حوالے سے منیب فاروق کا مؤقف بھی وقتاً فوقتاً بدلتا رہتا ہے۔ جب وہ اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ نہیں تھے تو ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اپنی فوج اور ریاستی اداروں پر تنقید کا حق حاصل ہے، کیونکہ یہ ادارے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے چلتے ہیں۔ لیکن اب صورتِ حال یہ ہے کہ جو بھی فوج یا ریاستی اداروں پر تنقید کرے، منیب فاروق اسے غدار قرار دینے لگتے ہیں۔
عمران خان صاحب پتہ نہیں کتنے سالوں سے جیل میں ہیں۔ انہوں نے پتا نہیں کوئی سبق سیکھا ہے یا نہیں سیکھا، لیکن ایک بات ضرور سمجھ آ گئی ہوگی کہ جو قوم میرے پیچھے لگی ہوئی تھی، وہ میرے جیسے بڑے لیڈر کو Deserve ہی نہیں کرتی۔ محمد حنیف
@mohammedhanif
گلگت بلتستان میں بڑی تعداد میں خواتین کا ووٹ دینے کے لیے باہر نکلنا معنی خیز ہے۔ پی ٹی آئی کو یہاں سے پہلی فیور نکل مل گئی ہے۔ لوگ اب سائفر کو نہیں مانتے، عمران خان لوگوں کے دل میں گھُس کر بیٹھ گیا ہے، اسد اللہ خان
بلوچستان کی گیس فوجی فاؤنڈیشن کو پانی سے بھی سستی دی جا رہی ہے،پیداواری لاگت کے محض 13 فیصد پر۔
یہ رعایت نہیں، کھلی معاشی ناانصافی ہے ماہر معاشیات قیصر بنگالی
منسٹری آف آئی ٹی کی ایک سرکاری کمپنی ہے اس کمپنی میں سارے یار دوست لگے ہوئے ہیں اس کمپنی سے انہوں نے اپنے گھروں میں 10/10 کے وی کے سولر لگوائے ہیں ! ثناءاللہ خان ۔۔
🚨مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔
لاہور کی ایک معروف نجی سوسائٹی میں مالک مکان ملازمہ کو گھر کے اندر بند کر کے چلا گیا۔ رات گئے اس کے جانے کے بعد گھر میں سے آوازیں باہر آئیں کہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ اہلِ علاقہ نے چیخوں کو سن کر مشکل سے بچی کو گھر سے نکال لیا۔
اللّٰہ معاف کرے اس معصوم بچی کی چیخیں کس کرب اور اذیت سے ہوں گی جس کو ایسے حالات میں رکھا گیا۔ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہی کہہ لیں کہ ہم سامنے والے غریب کے بچے کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے کیڑے مکوڑے جانتے ہیں کہ یہ غریب ہیں انہیں نہیں کاٹنا یا پھر ان کو اگر کسی نے کاث بھی لیا تو کُچھ نہیں ہو گا۔
یہی نام نہاد چند پیسے والے لوگ اپنے بچوں کا کتنا خیال کرتے ہیں آپ نے اردگرد دیکھا ہی ہو گا۔ یہ ظلم ہے، یہ بچے بھی اسی طرح نازک ہیں جیسے آپ کے بچے ہیں۔ اگر اس دنیا میں یہاں سے بچ بھی نکلے تو اگلے جہان میں اس رابِ ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا جس کے ہاں سب برابر ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل نہیں ہے۔ وہاں پھر حساب دینا ہی پڑے گا۔
اگر انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گلگت بلتستان ہم نے اس پارٹی کو دینا ہے یا ان لوگوں کو فارم 47 دینا ہے اور کشمیر میں ہم نے دوسری کسی جماعت کو الیکشن جتوانا ہے اور ان لوگوں کو فارم 47 دینا ہے جو ان کی مرضی کے ہیں تو یہ الیکشن والا تماشا اس ملک سے بند کر دینا چاہیے، انہیں لوگوں کو ویسے ہی ایک نوٹس ایک آرڈر ایشو کردینا چاہیے کہ یہ لوگ یہ ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں اور عوام کے ووٹ اور عوام صرف اور صرف یہاں پہ پسنے کے لیے اور غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارے کے لیے ہیں، یہاں پہ عوام تابعداری کرے نوکری کرے غلامی کرے ان جاگیر داروں، سیاستدانوں اور اشرافیہ کی، عوام کا پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کا حق اگر آپ وہی ان سے چھین لیتے ہیں تو پھر عوام نے یہاں پہ کیا کرنا ہے؟ اگر آپ انہیں اس ووٹ ڈالنے والے سسٹم کا حصہ ہی نہیں بننے دیتے اور ان کی مرضی کے لوگوں کو چننے ہی نہیں دیتے تو وہ کیسے عوام سمجھے گی کہ یہ نظام ہماری وجہ سے کھڑا ہے؟ یہ بہت ضروری ہے اور یہ ملک کے لئے بڑا ضروری ہے کہ عوام کو واقعی اپنے آپ کو شیئر ہولڈر سمجھنا چاہیے کہ یہ جو لوگ چنے گئے ہیں یہ ہماری وجہ سے ہیں اور یہ جو نظام ہے یہ ہماری وجہ سے کھڑا ہے، آج ان کے وزیر وہاں (جی بی) جا کے کہتے ہیں میں یہاں پہ دو سو میگا واٹ بجلی دے دوں گا یہاں پہ اتنے ڈیم بنا دوں گا اور جو ملک کے اندر پہلے ہی چھالیس ہزار میگا واٹ آپ نے بجلی لگا دی ہے اس کا کیا کرنا ہے؟ ایم این اے چوہدری مبین عارف جٹ
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
ڈرگ ڈیلر پنکی کا ایک ملٹی نیشنل بنک میں سیلری اکاؤنٹ تھا اس اکاؤنٹ میں اربوں روپوں کی ٹرانزیکشنز ہوئیں بلائیں اسٹیٹ بنک کے گورنر کو اس ملٹی نیشنل بنک کے چیف ایگزیکٹو کو بلائیں پوچھیں اس کا اکاؤنٹ کیسے کھل گیا آپ اس بنک میں اکاؤنٹ کھول کر دکھائیں آپ کا شجرہ نکال لیں گے ! شبر زیدی
اویس لغاری اور حنیف عباسی نے جس پیشہ ورانہ انداز میں قوم سے جھوٹ بولا ہے، انہیں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنی چاہیے۔ حد ہو گئی ہے ڈھٹائی کی۔ آپ ایک سال پہلے کا بجلی کا بل اٹھا کر دیکھ لیں، اب ایک جیسے یونٹس ہونے کے باوجود اس سال کا بجلی کا بل دوگنا ہوگا۔ اور تو اور، فیڈرل بیورو آف اس��یٹسٹکس (FBS) کی رپورٹ ہی اٹھا کر دیکھ لیں کہ بجلی میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کیا یہ قوم کو بےوقوف اور جاہل سمجھتے ہیں؟
@SanaullahDawn
ہمارے پاس بجلی کی انسٹالڈ کیپسٹی 40 ہزار میگاواٹ جبکہ 35 ہزار ہر وقت دستیاب ہوتی ہے گرمیوں میں جب بجلی کی کھپت پیک پہ ہوتی ہے تب بھی ہمارے پاس 7 ہزار میگاواٹ جبکہ سردیوں میں 8 ہزار بچ جاتی ہے اس کے باوجود حکومت 57 ارب ڈالر خر�� کر کے مزید 26 ہزار میگاواٹ ایڈ کرنا چاہتی ہے ! محمد مالک
گیس کا اصل استعمال: صرف 383 روپے
لیکن عوام سے وصولی: 2,270 روپے
یعنی:
گیس چارجز ➝ 383 ��وپے
میٹر رینٹ ➝ 40 روپے
فکسڈ چارجز ➝ 1,500 روپے
جی ایس ٹی ➝ 346 روپے
اور آخر میں بل بنا دیا گیا: 2,270 روپے!
سوال یہ ہے کہ جب استعمال صرف 383 روپے کا ہے تو باقی تقریباً 1,900 روپے کس بات کے؟
کیا غریب صرف ٹیکس دینے کے لیے رہ گیا ہے؟
دوسری طرف ایک عام سا پرفیوم:
اصل قیمت (ٹیکس کے بغیر) ➝ 3,813 روپے
صرف سیلز ٹیکس ➝ 686 روپے
کل قیمت ➝ 4,500 روپے
یعنی ایک پرفیوم پر بھی سینکڑوں روپے ٹیکس!
آخر یہ ٹیکس کہاں استعمال ہو رہا ہے؟
اگر اتنا پیسہ عوام سے لیا جا رہا ہے تو پھر:
پٹرول کیوں مہنگا ہے؟
گیس کیوں مہنگی ہے؟
بجلی کیوں مہنگی ہے؟
بازار میں ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے باہر کیوں ہو رہی ہے؟
عوام کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا؟
حکومت خدا کا خوف کرے۔
ایک مزدور، ایک سفید پوش، ایک تنخواہ دار شخص آخر کہاں جائے؟
گھر کا کرایہ دے، بچوں کی فیس دے، راشن خریدے یا صرف ٹیکس ہی بھرتا رہے؟
یہ صرف بل نہیں، یہ عوام پر بوجھ ہے ۔
لوگ اب آسائشیں نہیں، اپنی بنیادی ضروریات قربان کر رہے ہیں۔
عوام کو ��ندہ رہنے دیں، صرف ٹیکس مشین نہ سمجھیں۔
@CMShehbaz
@NawazSharifMNS
وزیراعظم شہباز شریف چائینہ کے دورے پر ہیں۔ سٹیٹ میڈیا وزیراعظم کے ساتھ ہے مگر پی ٹی وی نہیں بلکہ پاکستان ٹی وی۔
پاکستان ٹی وی جسے عادل شاہزیب ہیڈ کر رہے ہیں جبکہ پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کو ثاقب تنویر اور دونوں ہیڈ ہ�� اس دورے کئے کوریج کے لئے اس وقت چائینہ میں ہیں۔
اب ایک ہی چینل سے دو لوگوں کا ساتھ جانا اہم سوال ہے جبکہ عادل کے ساتھ ایک اور رپورٹر بھی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا چائینہ میں پاکستان ٹی وی کا کوئی نمائندہ نہیں ہے؟ کیا دونوں ہیڈز کے جانے کا خرچ سرکاری خزانے سے ادا ہوا؟ وغیرہ وغیرہ