CRISTIANO RONALDO. FOREVER. 🇵🇹✨
Cristiano Ronaldo has played his final World Cup match. 💔🏆
Thank you for the endless memories, CR7. Your legacy and your 5 Ballons d’Or are eternal. 🌕
🔗 All the information: https://t.co/hbrHVmFoyI
#cristianoronaldo#portugal#ballondor #worldcup #cr7
یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ ہم بحیثیت قوم اپنی نسل کی صحیح ذہن سازی میں ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں۔ گداگری اک قومی مسئلہ ہے اور کوئی فرد واحد اسے نہیں روک سکتا۔ ہر روز اک نیا طریقہ واردات نکلتا ہے اور لوگوں کے جذبات ابھار کر اپنی جیبیں بھاری کی جاتی ہیں، عزت کی خیر ہے۔
کل رات سپر مارکیٹ میں قبلہ جنید اور زاہد گشکوری کے ساتھ موجود تھا۔ ہم نے وہاں سے کوئی چیز لینی تھی اس کے لیے رکے۔
زاہد وہ چیز لینے چلا گیا تو اتنی دیر میں ایک لڑکے نے گاڑی کی ونڈو پر ناک کیا۔
دیکھا تو ایک پندرہ سولہ سال کا لڑکا تھا۔ اچھی صورت اور اچھے حلیے کا لگ رہا تھا۔
میں ایسے موقعوں پر ان سے ضرور کوئی چیز خرید لیتا ہوں۔ وہ گاڑی میں پرفیوم والے کارڈز بیچ رہا تھا۔ میں نے پہلے ایک لیا پھر ایک اور بھی لے لیا کہ چلیں اچھا ہے نوجوان بچے مزدوری کر کے اپنا خرچہ نکال لیتے ہیں۔ کسی سے مانگ نہیں رہے۔ ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چائیے کہ ان کا ایمان اس پر رہے کہ مزدوی ملتی ہے۔
خیر اس نوجوان بچے کو ہزار روپیہ دیا۔ کچھ بقیہ تھا اسے کہا رکھ لو۔
میں ونڈو بند کرنے لگا تو وہ نوجوان بچہ بولا آپ سے ایک اور بات کہنی ہے اگر آپ ناراض نہ ہوں۔
مجھے فورا سمجھ آگئی کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔
میں نے کہا پلیز آپ نہ کہیں جو بھی آپ نے کہنا ہے۔
وہ پھر بھی کہتا رہا اور کا مدعا تھا کہ اسے ڈھائی ہزار روپے کی ضرورت تھی اگر میں اس کی مدد کرسکوں؟
میں نے کہا بچے ایک بات کہوں۔ آپ نے میرا سارا موڈ خراب کر دیا ہے۔ آپ کو کام کرتے دیکھ کر میرا دل بہت خوش ہوا تھا کہ دیکھیں ایک پیارا سا نوجوان بچہ محنت مزدوری کررہا ہے۔ میں نے بھی اپنا حصہ ڈال دیا تاکہ تم محنت کرتے رہو۔ دو سو روپے کی چیزیں ایک ہزار میں خرید لیں تاکہ تمہاری عزت نفس ہرٹ نہ ہو۔
اتنی دیر میں قبلہ جنید مسکراتے ہوئے میرے خراب موڈ کو انجوائے کر رہے تھے۔
میں نے کہا مجھے افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ آپ نے پیسے مانگ لیے، افسوس اس بات کا ہے کہ مجھے علم ہوتا آپ نے پیسے ہی مانگنے ہیں تو یہ میں یہ دونوں چیزیں آپ سے نہ لیتا۔ آپ بھی ایک فیصلہ ابھی زندگی میں کر لو کہ آپ نے یہ چیزیں بیچ کر ایمانداری سے زندگی میں دھیرے دھیرے ترقی کرنی ہے اور اپنا مقام بنانا ہے جیسے ہم سب نے زندگی میں محنت کی ہے اور ابھی بھی کرتے ہیں یا پھر آپ نے اس طرح پیسے مانگنے ہیں۔ یا محنت کر لو یا بھیک مانگ لو۔
اس کے چہرے کے تاثرات سے لگا وہ دونوں کام کرے گا۔ پہلے وہ سو دو سو روپے کی چیز ہزار میں بیچ کر پھر مظلومیت کی کہانی سنا کر ڈھائی ہزار مانگے گا۔
چوبیس گھنٹے گزر گئے ہیں مجھے اپنے منہ میں ابھی بھی کڑواہٹ سی محسوس ہورہی ہے۔
تحریر/رئوف کلاسرا
#RaufKlasra
At least 41 people have been killed as Israel launched 50 air attacks on southern Lebanon in 24 hours, despite a ceasefire being in place since 16 April.
More than 2,000 people have been killed as Israel's invasion of Lebanon continues.
آپ میں سے کتنے لوگ بچپن میں کہانیاں پڑھتے تھے؟
وہ بھی کیا دن تھے جب دوپہر کی خاموشی میں یا رات کو سونے سے پہلے "داستانِ امیر حمزہ" اور "عمرو عیار" اور ٹارزن کی کہانیاں ہمیں ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی تھیں۔ جہاں عقل اور بہادری کا مقابلہ کالے جادو اور پراسرار طلسمات سے ہوتا تھا۔
عمرو عیار کی کہانیاں ہمارے بچپن کا وہ یادگار حصہ ہیں جنہیں یاد کر کے آج بھی دل خوش ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جادوئی زنبیل جس میں سے ہر ضرورت کی چیز نکل آتی تھی ہمیں ایک الگ ہی دنیا کی سیر کرواتی تھی، ہمیں وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب ہم اسکول سے آ کر بڑے شوق سے ان کتابوں کو کھول کر بیٹھ جاتے تھے جن میں عمرو اپنی عقل اور ہوشیاری سے بڑے بڑے جادوگروں اور جنوں کو ہرا دیتے تھے، ان کا وہ کمال کہ کسی بھی مشکل صورتحال میں گھبرانے کے بجائے اپنی حاضر دماغی سے راستہ نکالنا ہمیں بہت متاثر کرتا تھا، وہ زنبیل سے کبھی رسی نکالنا تو کبھی کوئی عجیب و غریب آلہ نکال کر دشمن کو چکر دے دینا ایک ایسا جادو تھا جس نے ہمارے تخیل کو نئی پرواز دی، آج بھی جب ہم ان پرانے قصوں کو یاد کرتے ہیں تو وہی بچپن کا جوش محسوس ہوتا ہے جو ہمیں سکھاتا تھا کہ زندگی میں کسی بھی رکاوٹ کو اپنی ذہانت سے پار کیا جا سکتا ہے اور یہ یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں ایک انمول خزانے کی طرح محفوظ رہیں گی۔
'Amal was on fire… she told me: Zeinab, I’m burning' — Journalist Zeinab Faraj breaks down recounting final moments with colleague Amal Khalil
Both hunted and struck by Israeli fire, from their car to a building, before she realized: 'Amal was gone'
Israeli forces have killed 12 Palestinians, including six police officers, in multiple attacks across Gaza.
Despite a six-month long ceasefire, Israeli forces are committing daily violations that have killed almost 1,000 people.
Israeli guards at notorious Sde Teiman prison USE DOGS TO RAPE Palestinians — Israeli activist
'Unfortunately, there is a good deal of evidence'
Shaiel Ben-Ephraim says TWO guards confessed to him 'was too awful to talk about'
Footage: 2024 Sde Teiman gang-rape scandal
BREAKING: Lebanese journalist Amal Khalil has been killed in an Israeli attack, confirms her employer. Lebanon’s Health Ministry said Israel “pursued” Khalil by “targeting” the house where she took shelter after an Israeli attack.
🔴 LIVE updates: https://t.co/DwMTyK2AOV
A group of Israeli settlers torched a Palestinian home overnight in the occupied West Bank and prevented the family from escaping. Eight people were injured in the attack, including a one-year-old.
"Social media has exposed Israel’s behavior for the world to see."
A photo of an Israeli soldier smashing a statue of Jesus Christ in Lebanon has sparked outrage in the US, including from parts of President Trump’s base https://t.co/HunZF5rD9H
یہ ہمارے لیہ میں گائوں جیسل کلاسرا کی آج کی ویڈیو ہے جو میرے مسات سمیع اللہ کلاسرا کے کھیت کی ہے جہاں آج اس کی فصل کٹ کر تھریشر کے زریعے گندم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
سمیع اللہ نے برسوں کے بعد ہمارے علاقے کی بھولی بسری روایت کو زندہ کر دیا ہے. گندم تھریشر سے نکالنے کے موقع پر زبردست علاقائی ڈھولچی منگوائے اور مزدورں کے ساتھ مل کر ڈھول پر زبردست جھمر ماری ہے۔۔
اپریل کا ماہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں جہاں گندم کی کٹائی ہوتی ہے بڑا خوشیوں والا ہوتا ہے۔ اس خوبصورت ناچتی گاتی ویڈیو نے مجھے اپنے گائوں کا بچپن اور لڑکپن یاد کرا دیا جب گندم کی فصل کاٹنے لے لیے ونگاریں ہوتی تھیں؛ شاندار دیگ پکتی تھی، دیسی گھی کی روٹیاں، مکھن اور تازہ تازہ لسی کے ڈول۔
ڈھول والے بلائے جاتے تھے اور فصل کاٹنے کے مقابلے ڈھول کی تھاپ پر ہوتے تھے کہ کون سا گروپ کتنی زیادہ فصل کاٹتا ہے۔ ونگار ( گائوں کے رضاکاروں کی ٹولیاں) میں دو دو گروپ فصل کاٹنے اکٹھے ہوتے تھے تاکہ ایک دن ایک زمیندار کی پوری فصل کاٹ دیں۔ پورے علاقے کے لوگ کسی ایک کی فصل کاٹنے مفت میں اکٹھے ہوتے۔ کوئی مزدوری کوئی پیسہ نہیں۔ سب مل کر کاٹتے اور اگلے دن وہ زمیندار اس زمیندار کی فصل کاٹنے میں شریک ہوتا جو کل اس کی کٹائی آیا تھا۔ اس طرح پورے علاقے کی گندم کٹتی تھی۔ بس ایک شرط ہوتی تھی کہ کھانا بہت اچھا اور ڈھولچی زرا تگڑا ہو۔
ہر کوئی اپنی اپنی تیز درانتی گھر سے لے کر کھیت پہنچ جاتا۔ دو دو گروپ بنائے جاتے مقابلہ پر۔ صبح سویرے سویرے سورج ابھرنے سے پہلے سب کھیت میں موجود اور ڈھول کی پہلی تھاپ پر کٹائی کا مقابلہ شروع۔
اس سے پہلے سب کو مکھن روٹی گڑ کے ساتھ ناشتہ اور دوپہر کے بعد دیگ کا سالن اور گرم روٹی اور سوجی کا حلوہ یا میٹھی سویاں اور پھر ٹھنڈی لسی اور پھر ڈھول کی تھاپ پر کٹائی شروع۔
شام کو گندم کے گھٹے گنے جاتے اور جس کے زیادہ ہوتے تو وہ ڈھول کی تھاپ پر ناچ ناچ کر پورا کھیت برابر کر دیتے۔ ہارنے والے گروپ پر تبرے اور لطیفے نعرے۔۔ رات گئے گھروں کو لوٹ جاتے۔۔
سارا دن گرم کھیت میں ڈھول بجتا رہتا اور اس کی تھاپ پر درانتیوں کی رفتار بھی تیز ہوتی رہتی۔ یوں لگتا مردوں کی کلائیوں سے زیادہ درانتی ڈھول کی دیوانی ہے جو گندم کے کھیت میں مستی سے جھومتے جارہی ہے۔
پوری بستی اس موسیقی بھرے رنگ میں بسنتی کی طرح رنگ جاتی۔ ہر طرف ہنستے مسکراتے چہرے، ڈھول پر گیت گاتے مزدور کسان اور پھر جس دن تھریشر کے بعد گندم نکالی جاتی تو پھر گائوں کے بچے اپنا حصہ لینے پپنچ جاتے ( میں بھی یہ حصہ لیتا رہا ہوں) اور کھیت کا مالک سب کو کچھ نہ کچھ گندم دیتا کہ خوشی کا دن ہے اور ہم بچے وہ گندم دکان پر فورا بیچ کر مٹھائی کھاتے۔
گندم کی فصل اچھی پیداوار دے جاتی تو زمیندار بیٹے کی شادی کر دیتا اور اگر زیادہ اچھی ہوجاتی تو اپنی بھی ساتھ دوسری شادی کر لیتا اور اگر بمپر کراپ کے بعد جیب بھر جاتی تو دو تین پرانی دشمنیاں نکال کر جیبیں بھر کر تھانے اور وکیل کے پاس پپنچ کر وہیں جیبیں خالی کر آتا۔
اب سمیع اللہ سے پوچھنا پڑے گا اس کی فصل کس لیول کی ہوئی ہے۔۔ 😎
ابھی آپ ڈھول کی تھاپ پر ہمارے دیہاتیوں کے محنتی خوبصورت مزدورں کی خوشی سے لطف اندوز ہوں۔
زندگی سے لطف اندورز اور مزہ لینا کےلیے بہت امیر یا ارب پتی ہونا ضروری نہیں۔ روز مزدوری مل جائے، عزت سے سارا دن کام کر لیں، شام کو اپنا کام ختم کر کے ناچنے کے لیے ایک تگڑا ڈھولچی مل جائے۔ اور انسان کو زندگی سے اور کیا چائیے۔۔
مزہ لیں ڈھول کی تھاپ پر ناچتے ہمارے ان مزدورں کی خوشی بھری اس سادگی بھری خوبصورت زندگی کا ۔۔
تحریر/رئوف کلاسرا
#RaufKlasra #village #VillageLifeBeauty
پیر سید نصیرالدین نصیر کی یہ غزل دل کے جذبات، محبت کی شدت اور درد کی گہرائی کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کرتی ہے۔
ہر شعر میں احساس کی سچائی اور روانی ایسی ہے کہ قاری خود کو اس کیفیت کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔
ان کے انداز کرم ، ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت ، وہ باتیں ، وہ زمانا دل کا
نہ سنا اس نے توجہ سے افسانہ دل کا
عمر گزری ہے، مگر درد نہ جانا دل کا
کچھ نئی بات نہیں حُسن پہ آنا دل کا
مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پرانا دل کا
وہ محبت کی شروعات ، وہ بے تحاشہ خوشی
دیکھ کر ان کو وہ پھولے نہ سمانا دل کا
دل لگی، دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے
روگ دشمن کو بھی یارب ! نہ لگانا دل کا
ایک تو میرے مقدر کو بگاڑا اس نے
اور پھر اس پہ غضب ہنس کے بنانا دل کا
میرے پہلو میں نہیں ، آپ کی مٹھی میں نہیں
بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ،ٹھکانا دل کا
وہ بھی اپنے نہ ہوئے ، دل بھی گیا ہاتھوں سے
“ ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا “
خوب ہیں آپ بہت خوب ، مگر یاد رہے
زیب دیتا نہیں ایسوں کو ستانا دل کا
بے جھجک آ کے ملو، ہنس کے ملاؤ آنکھیں
آؤ ہم تم کو سکھاتے ہیں ملانا دل کا
نقش بر آب نہیں ، وہم نہیں ، خواب نہیں
آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا
حسرتیں خاک ہوئیں، مٹ گئے ارماں سارے
لٹ گیا کوچہء جاناں میں خزانا دل کا
لے چلا ہے مرے پہلو سے بصد شوق کوئی
اب تو ممکن ہی نہیں لوٹ کے آنا دل کا
ان کی محفل میں نصیر ! ان کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ، ہاتھ سے جانا دل کا
پیر سید نصیرالدین نصیرؒ
.@CMShehbaz was given a welcome and aerial #security cover by Qatari Air Force jets as his flight entered Qatari #airspace, before landing at #Doha International Airport on Thursday, where he was received by #Qatar’s Minister of State for Foreign Affairs Sultan bin Saad Al Muraikhi. Sharif thanked the pilots for the rousing #welcome.