Many Pakistani media houses have contacted me to comment on the Gen Z protests in India. I don't comment on Indian politics to Pakistani media. I am sorry about it. I also think, if any there is any country in the South Asia region which needs a Gen Z protests for democracy, it is Pakistan.
Imran Khan is playing a legendary inning which will never be forgotten! Never give up because he wouldn’t want us to. Manzil may be closer than we think, please keep the faith and give your best everyday. #RetweetImranKhan everyday please!
#FreeIKTheNationalAsset
An immediate inquiry needs to be held on the police firing on unarmed protesters killing at least 25 and injuring hundreds.
In France despite protesters hurling petrol bombs at the police, not once were they fired upon by the police
Under the smokescreen of arson, which any independent investigation will show was pre planned to justify the crackdown on PTI, there is no mention in the media discourse of the massive violations of our fundamental right to protest peacefully
And no mention of an inquiry into the killing of at least 25 peacefully protestors and wounding of around 600.
He has comprehensively defeated all the forces against Pakistan
The opponents also know that they have lost; they are now using brute force but that is destabilizing Pakistan & for that, no one will ever forgive them. It’s really time to cut the losses.
#LetTheWorldSeeImranKhan
This is what the corrupt & murderous cabal of crooks have wrought on the nation. They have violated our Constitution, fundamental rights & rule of law. Innocent, unarmed PTI workers, incl women, were targets of police violence & brutality with one worker murdered while in custody
Hazrat Ali (may Allah be pleased with him) said, “A system based on disbelief can endure, but one built on injustice cannot.” We must rise against this tyranny, for the sake of our own future and that of our nation. Therefore, I am sending this message to the entire nation: Get ready.”
Message from former Prime Minister Imran Khan from prison - October 1st, 2025
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہو��ا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
"ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز سے ثابت ہے۔
مجھے اس بات کی بھی بہت تکلیف اور افسوس ہے کہ قتلِ عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے نہ ہی ان پر کوئی جوڈیشل کمیشن بنا نہ ہی انکوائری ہوئی اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا سنائی گئی۔ میں چاہتا ہوں کہ مریدکے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں تعداد کے حوالے سے شدید ابہام پایا جاتا ہے جیسا کہ مریدکے واقعے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق 4 مظاہرین جان سے گئے جبکہ متاثرہ فریق کے مطابق حقیقی تعداد 400 سے 600 تک ہے۔
قتلِ عام کی جوڈیشل انکوائری میں ظلِ شاہ کے قتل میں ملوث آئی جی پنجاب عثمان انور سمیت آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی کو ضرور شاملِ تحقیقات کیا جائے کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں یہ بھی حصے دار ہیں۔
میں تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے کارکنان اور عوام بعد از نمازِ جمعہ مریدکے قتلِ عام کیخلاف احتجاجاً نکلیں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اس بربریت کیخلاف آواز اٹھائیں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔ اس ظلم اور بربریت کا راستہ نہ روکا گیا تو باری باری سب اس کی زد میں آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی باعثِ تشویش ہے۔ دو مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو لڑائی کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔ جس طرح یہاں تین نسلوں سے مقیم افغان پناہ گزینوں کو دہائیوں کی مہمان نوازی کے بعد دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا ہے، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان ہمارا مسلم ہمسایہ ملک ہے۔ دہشتگردی سے متعلق معاملات بات چیت سے حل کیے جائیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ ڈکٹیٹرز کبھی بھی امن نہیں لاسکتے- کیونکہ ملٹری ڈکٹیٹرز کو Military Solution کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا- یحیٰی خان سمیت تمام ڈکٹیٹرز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں- یہ معاملات سیاستدان معاملہ فہمی سے حل کرتے ہیں۔ اگر ان سے نہیں ہوتا تو مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ دیرپا امن کے قیام اور افغانستان سے تنازعے کے حل کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں۔
ملکی حالات سے مایوس ہو کر پہلے ہی تیس لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملک سے تیزی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلاء جاری ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری آنا تو دور کی بات ملک کے اندر سے بھی سرمایہ تیزی سے باہر جا رہا ہے۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔ اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں معاشی استحکام ممکن نہیں-
ملک میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہی غیر محفوظ ہیں۔ کسی کو یہ نہیں پتہ کون کب سڑک پر مارا جائے یا اٹھا لیا جائے۔ آزادی اظہار پر شدید قدغن ہے، میڈیا کو بولنے کی آزادی نہیں، جس طرح علیمہ خان پر بےجا مقدمہ بنایا گیا ایسا کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(15 اکتوبر، 2025)
سوات میں میرے آبائی علاقے سے علیمہ خان صاحبہ کا بیان سُنا، سب سے پہلے تو میں اس بات پر اپنے لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک رات کےشارٹ نوٹس پر میرے لیڈر کی بہن کا شاندار استقبال کیا۔ خان صاحب کی وساطت سے ہم سب کے دلوں میں ان کا بہت احترام ہے۔ میں ان کے مجھ پر اس قدر اعتماد پر بھی مشکور ہوں کہ ان کی رائے میں میری موجودگی سے عمران خان کی رہائی کی تحریک کو وہ تقویت ملے گی جو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اتنی تجربہ کار اور قابل قیادت کے ہوتے ہوئے نہیں ممکن ہو پائ۔ جب بھی خان صاحب کی میرے حوالے سے ہدایات میں تبدیلی سے مجھے، ان کے مصدقہ زرائع سے تصدیق ملی، میں انشاء اللہ ان کے اور اپنی قوم کے اس بھروسے کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ تب تک اور ہمیشہ، ہر تحریک اور ہر مرحلے پر عمران خان کی پارٹی اور عمران خان صاحب کے خاندان کو میری اور میرے لوگوں کی ویسی ہی حمایت میسر ہوگی جس کا مظاہرہ آپ نے اس ہفتہ مالاکنڈ ریجن، آج سوات میں اور اب سے کچھ دیر بعد بونیر میں دیکھیں گے۔
رہی بات اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تو میری قوم جانتی ہے کہ کل بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اپنے قائد اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوں چاہے میں اپنے لوگوں کے مابین موجود ہوں یا نہیں میں نے نہ ان کے حقوق اور ان کی زندگیوں کا سودا کرنے کی اجازت کسی کو دی ہی، نا آگے کبھی دوں گا۔ دہشت گردوں کو نکالنے اپنا امن قائم کرنے،کسٹم ایکٹ کے خاتمے اور دیگر ترقی سے یہ ثابت شدہ اور میری قوم اس کی گواہ ہے۔
“میرے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کے ٹرائل بھی کسی قانون یا رول کے مطابق نہیں چلائے جاتے۔ گزشتہ دو سماعتوں سے، جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ کئی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں ش��اف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے۔
نو مئی کے کیسز میں ان کے پاس دو ہی جھوٹے سرکاری گواہ ہیں جنہیں ہر کیس میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرگودھا کی دہشتگردی عدالت کے جج محمد عباس نے ان دونوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کی مضحکہ خیز گواہی بالکل ہی رد کر دی تھی، لیکن پھر بھی ہر جگہ انھیں جھوٹی گواہی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دی گئی درخواست کا “آئینی بینچ” کے سامنے ہی لگنا مضحکہ خیز ہے۔ جو بینچ خود ��س ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے وہ اس کے خلاف کیا ہی فیصلہ دے گا؟
چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر غلام بن چکی ہے اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ادارے سے بڑھ کر نہیں رہی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
بوگس انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی فراڈ حکومت کے دور میں ہر جانب تباہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام معیشت سے مایوس ہو کر تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے مگر قابض حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
میں بار ہا کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کسی مسئ��ے کا حل نہیں ہے۔ہمارے دور میں افغانستان سے تعلقات بھی بہتر تھے اور قبائلی علاقوں میں امن بھی تھا۔ آپریشن سے جو collatoral damage کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اس سے دہشتگردی کو ہوا ملتی ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کرنے میں ہے۔ ملٹری آپریشنز کبھی عوام کا مفاد نہیں ہوتا۔
مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ میری صحت ماشأللہ ٹھیک ہے مگر 72 سال کی عمر میں میرے جو روٹین ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں وہ نہیں کروائے جاتے اور میرے ذاتی ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آخری مرتبہ میرے میڈیکل ٹیسٹ ایک سال قبل کروائے گئے تھے جو کہ جیل مینول کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ سے گفتگو (25 ستمبر، 2025)
🚨 ہار ماننا تاریخ نہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور بنیادی حقوق کی بحالی تک مزاحمت ہمارا حق ہے! 🚨
جب ظلم حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے... لیکن جب غیرت مند قومیں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں، تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے!
بانی پی ٹی آئی صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں، بلکہ اس ملک کی خودداری، حقیقی آزادی اور قانون کی بالادستی کی علامت ہیں۔ انہیں دیوار سے لگانے اور قید میں رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، کیونکہ سچائی اور عوام کی طاقت کو کبھی مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔
🔥 ہماری جدوجہد کے بنیادی مطالبات اور مزاحمت کے مقاصد:
فوری اور باعزت رہائی: تمام سیاسی اور بے بنیاد مقدمات کو ختم کر کے بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
طبی حقوق اور ذاتی معالجین تک رسائی: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین (Personal Doctors) کو ان سے ملنے اور مکمل معائنے کی اجازت دینی چاہیے۔
آنکھوں کے علاج کی فوری فراہمی: بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے لاپرواہی برتنا سراسر ناانصافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ان کی آنکھ کا فوری اور تسلی بخش علاج کروایا جائے، یہ ان کا بنیادی قانونی اور انسانی حق ہے۔
اصولوں کی بقا کے لیے: مفاہمت کا مطلب اپنے بنیادی بیانی�� کا سودا کرنا ہے، اور بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ سکھایا ہے کہ مصلحت کے آگے سر نہیں جھکانا۔
آئین کی بالادستی کے لیے: یہ جدوجہد پاکستان میں قانون کے احترام، ووٹ کی عزت اور آئین کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہے۔
عوامی مینڈیٹ کا دفاع: عوام کے فیصلے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف مستقل، پرامن اور بے خوف آواز اٹھانا ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
"حقیقی آزادی نہ تو مانگنے سے ملتی ہے اور نہ ہی مصلحتوں کی پلیٹ میں رکھ کر دی جاتی ہے۔ یہ چھیننی پڑتی ہے، اور اس کا واحد راستہ آئینی حدوں میں رہتے ہوئے پرامن اور بے خوف مزاحمت ہے۔"
📢 ہمارا عہد:
جب تک بانی پی ٹی آئی کو باعزت رہا نہیں کیا جاتا، ان کے علاج معالجے کے بنیادی انسانی حقوق بحال نہیں ہوتے، اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہمارا آئینی اور سیاسی احتجاج جاری رہے گا۔ ہم قانون کی بالادستی کی اس جنگ میں نہ جھکنے والے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹنے والے ہیں!
He is Imran Ahmed Khan Niazi … he does not surrender! And why shall he? The whole Nation is standing behind him and he will never let the Nation down!
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
ہم کوئی عہدہ نہیں لے رہے، عمران خان کے لیے تحریک میں حصہ لینے کو موروثیت کہہ رہے ہیں، ہم کوئی عہدہ کوئی صدارت تو نہیں لے رہے،جو گھروں میں بیٹھے ہیں وہ کہتے ہیں ہم بھی نہ نکلیں کوئی اور بھی نہ نکلے۔
آگے ہم کیا کرنے جارہے ہیں وہ وقت سے پہلے نہیں بتا سکتے، ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو اس کا نتیجہ بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ ظالموں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ @Noreen_KhanPK