اسلام آباد/ اسداللہ وزیر نے قائد محترم اورقوم کی آخری امید حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کو عمرہ کی ادائیگی پر مبارکباد دی۔
اس موقع پر اسداللہ وزیر نے ہر پلیٹ فارم پر پوری امت مسلمہ حصوصأ فلسطین کی بہترین نمائندگی کرنے اور غیرت کے ساتھ کھڑے ہونے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایوارڈ سے نوازا۔
آج مورخہ23مارچ 2024ء مطابق12رمضان المبارک1445ھ بروزہفتہ یوم پاکستان کے قومی دن کےموقع پرحکومت پاکستان کی جانب سے جے یوآئی فاٹاکےسابق امیرو سابق وفاقی وزیرمذہبی امورمفتی عبد الشکور بٹنی رحمہ اللہ کو بعداز وفات ہلال امتیار سے نوازا گیا۔یہ قومی اعزازمفتی صاحب رح کے فرزند عزیز "محمد" نے صدر پاکستان سے وصول کیا۔
لاسٹ رمضان المبارک یعنی شھادت سے دو دن پہلے مفتی صاحب نے بڑا معصومانہ سوال کیا!!
کہ نجیب خان میرے لیے کوئی پلاٹ دیکھ لے تاکہ میں بھی اسلام آباد میں گھر بنا سکوں!!
تو میں نے ڈایرکٹ جواب میں ٹاپ سٹی کا ذکر کیا!!
اور ساٹھ لاکھ کیساتھ پانچ مرلہ پلاٹ مل جائے گا!!
تو مفتی صاحب ہنسنے لگا!! کہ ساٹھ لاکھ کہا سے لاؤں گآ!!
"میرے لیے قسطوں والا دیکھ لے"
پوری کہانی لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ایک وفاقی منسٹر تھا مگر وہ ایک پانچ مرلے کا پلاٹ نہیں خرید سکتا تھا!!
اور پھر بھی کچھ ناعاقبت اندیش ہماری قائدین کو ٹارگٹ کر رہی ہے!!!
یا رب العالمین تو مفتی صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں!! آمین
@najibdawar
فلسطینیوں کی مدد ہمارا شرعی، اخلاقی اور انسانی فرض ہے۔ مولانا فضل الرحمن
اسرائیل عالمی قوتوں کی پشت پناہی کی بنیاد پر انسانی حقوق کا خون کررہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن
سعودی عرب فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے قائدانہ کردار ادا کرے۔ مولانا فضل الرحمن
اعتدال کے رویے کے ساتھ امت مسلمہ کے مابین وحدت کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن
رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ میں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو
مکہ مکرمہ ( ) جمعیۃ علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فلسطینی جس دردناک صورتحال کا سامنا کررہے ہیں وہ ہم سے وحدت و اتفاق کا تقاضا کرتی ہے آج فلسطین میں قابض صہیونی قوت عالمی طاقتوں کی پشت پناہی سے انسانی اقدار کو پامال کررہی ہے، بچوں، عورتوں، بیماروں اور بوڑھوں کو قتل کیا جارہا ہے ان پر ظلم و تشدد کے غیر انسانی طریقے اختیار کیے جارہے ہیں، اور ان کا سخت ترین محاصرہ کیا جارہا ہے ایسے میں امت مسلمہ کی شرعی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری اور فرض ہے کہ وہ ان کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔ فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے جس کا ہم پر حق ہے مسجد اقصیٰ کا ہم پر حق ہے فلسطینیوں کا ہم پر حق ہے ہمیں ان حقوق کی ادائیگی کے لیے کمربستہ ہونا ہوگا۔ اسرائیل جس طرح امریکا کی پشت پناہی سے انسانی حقوق پامال کررہا ہے اس کے بعد امریکا کیسے دنیا کے سامنے انسانی حقوق کی بات کرسکتا ہے، مولانا فضل الرحمن مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام مسالک کے مابین وحدت کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے جس میں دنیا بھر سے علماء اور دانشوروں نے شرکت کی، انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ کو وحدت کی ضرورت ہے ہم دنیا بھر کے مہمانان گرامی سے کہا کہ ہمیں مسالک کے درمیان پل بننے کی ضرورت ہے ہم اپنے رویوں کی اصلاح کریں، اعتدال اختیار کریں اور افراط و تفریط سے اجتناب کریں اختلاف کے اظہار کے لیے نرم رویے اختیار کریں تو وحدت کی طرف بڑھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب آگے بڑھ کر قائدانہ کردار ادا کرے اور امت مسلمہ کا مشترکہ فورم قائم کرکے مشترکہ دفاع کا راستہ اختیار کرے تاکہ ہم منظم ہوکر دشمن کا مقابلہ کر سکیں ورنہ ہر اسلامی ملک کو عراق، لیبیا، افغانستان اور شام جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور ایک ایک کرکے ہمارا گلا دبایا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غیر ضروری امور میں الجھایا جارہا ہے جس سے امت مسلمہ کے بجائے عالمی طاقتوں کا مفاد وابستہ ہے ہمیں پوری دانشمندی سے اپنے راستے کا تعین کرکے امت مسلمہ کو مسائل سے نکالنا ہے اور مظلوم فلسطینیوں کا پشتیبان بننا ہے۔ کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری ، مولانا راشد سومرو محمود، مفتی ابرار احمد بھی شریک تھے۔
جاری کردہ
مرکزی میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
کوئٹہ: 2 اکتوبر 2001 کو قائد جمعیتہ مولانا فضل الرحمن صاحب ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی امریکی جنگ میں شامل ہونے کی مخالفت کررہے ہیں۔
آمریکا کو پاکستان کی فضائی اور ڈرون حملوں کی اجازت دینے کے خلاف جمعیتہ علماء اسلام نے مشرف و آمریکا کے خلاف مارچ کیا
اس پالیسی کی مخالفت کی وجہ سے مولانا فضل الرحمٰن کو مشرف نے جیل میں ڈالا
دفاعی قوت ہونے کے ناطے مجھے حق نہیں پہنچتا کہ میں دفاعی ادارے پر تنقید کروں لیکن وہ سیاسی ادارہ بننے کی کوشش کرتا ہے تو کوئی کور کمانڈر کی قرارداد مجھے تنقید سے نہیں روک سکتا۔
سربراہ جےیوآئی پاکستان مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا لاہور میں خطاب
حافظ حسین احمد صاحب اور ایک ملحد کے درمیان دلچسپ مکالمہ
حافظ حسین احمد کا ایک ملحد سے بڑا دلچسپ مناظرہ ہوا۔ جو کہ افادہ عام کی غرض سے پیشِ خدمت ہے۔ آپ بھی سنیئے۔ ضرور مزا آئے گا۔
ضیاء دور میں حافظ صاحب کو گرفتار کر لیا گیا ۔بلوچستان کی جیل تھی۔ جیل میں اکثر سیاسی و مذہبی قیدی تھے۔ جس کی وجہ سے ذہنی و فکری ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ کچھ سہولیات بھی میسر تھی۔ آپس میں گپ شپ، مکالمے، مناظرے، مباحثے جاری رہتے تھے۔ سب قیدی اکٹھے با جماعت نماز ادا کرتے تھے۔ جیل میں باقی قیدیوں کے ساتھ ایک ملحد بھی قید تھا۔ نماز کے وقت باقی قیدی اسے بھی نماز کی دعوت دیتے، مگر وہ کہتا میں تو آپ کے خدا کو ہی نہیں مانتا، تمہاری نماز کو کیسے مانوں گا۔ اکثر قیدی اس ملحد سے اس موضوع پر بات کرنے کی کوشش کرتے ، مگر وہ اس موضوع کو شروع ہی نہ ہونے دیتا۔ اکثر ٹال دیتا، یا صاف کہہ دیتا میں مولویوں سے بات نہیں کرتا۔ ایک دن حافظ حسین احمد صاحب نے اسے دھر لیا۔ اور بڑے پیار سے اسے قائل کرنے لگے، کہ آؤ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ آپ میری سنو، میں آپ کی سنتا ہوں۔ آپ مجھے قائل کرو، میں آپ کو قائل کرتا ہوں۔ بڑی مشکل کے بعد بلآخر وہ مان گیا۔ لیکن اس نے کہا کہ بات صرف ایک ہی صورت میں ہو سکتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ کی دلیل قرآن یا حدیث میں سے نہیں ہو گی۔ صرف عقلی دلائل سے بات کی جائے گی۔ حافظ صاحب مان گے۔ بات شروع ہوئی۔
حافط صا حب۔! آپ کون ہو۔ ؟
ملحد۔! بلوچ ہوں۔ غیرت مند ہوں۔
حافظ صاحب نے ایک آدمی سے کہا۔ بھئی اسے لکھ لو۔ ایک ساتھی نے لکھ لیا۔
حافظ صاحب۔! اگر کوئی آپ کی بہن بیٹی یا بیوی کی طرف بری نگاہ ڈالے تو آپ کیا کرو گے۔؟
ملحد۔! میں اس کو قتل کر دوں گا۔
حافظ صاحب۔! بھئی اسے بھی لکھ لو۔ ایک ساتھی نے اسے بھی لکھ لیا۔
حافظ صاحب ۔! اچھا اب یہ بتاؤ ۔ اگر آپ اپنی بہن کی شادی کر دو۔ اور بعد از شادی آپ کا بہنوئی، آپ کی بہن کے ساتھ سونے سے انکار کر دے ، تو آپ کیا کرو گے۔ ؟
ملحد نے فتویٰ دیا۔! میں اسے بھی قتل کر دوں گا
حافظ صاحب۔! بالکل ٹھیک۔ بھئی اسے بھی لکھ لو۔ اسے بھی لکھ لیا گیا۔
حافظ صاحب نے کاتب سے کہا۔! اب سناؤ، آپ نے کیا لکھا ہے؟
کاتب۔! جی سنیئے۔
اگر کسی نے اس کی بہن کی طرف غلط نظر سے دیکھا۔ تو یہ اسے قتل کر دے گا۔ اور اگر اس کے بہنوئی نے اس کی بہن کے ساتھ سونے سے انکار کیا، تو اسے بھی یہ قتل کر دے گا۔
حافظ صاحب۔! یہ کیا بات ہوئی بھلا۔ ؟ ایک آدمی آپ کی بہن طرف دیکھے تو آپ اسے مار دیں گے۔ اور ایک آپ کی بہن کے ساتھ سونے سے انکار کرے تو اسے بھی آپ مار دیں گے۔ بات سمجھ میں نہیں آئی؟
ملحد ۔ ! پہلے شادی نہیں ہوئی تھی اس لیے۔ اور اب ان کی شادی ہو چکی ہے اس لیے۔
حافظ صاحب۔! یہ شادی کیا بلا ہوتی ہے۔
ملحد۔! ا جی یہ نکاح کو ہی کہتے ہیں۔
حافظ صاحبْ! اچھا جی، یہ نکاح کیا بلا ہے۔ جس نے آپ کی سوچ کو اتنا بدل دیا۔
ملحد کچھ سوچتے ہوئے ۔! وہی جو آپ سب بھی کرتے ہیں۔
حافظ صاحب۔! بھئی ہم سب تو اس لیے کرتے ہیں کہ ہم کو خدا کا حکم ہے۔[فانکحوا ما طاب لکم من النساء] مگر آپ تو خدا کو ہی نہیں مانتے ، پھر آپ کیوں کرتے ہو؟
ملحد۔! خاموش۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد حافظ صاحب کے گلے لگ کے وہ رونے لگا۔ اور بولا۔ کہ اگر اب خدا کو نہیں مانتا تو میں خود حرامی بنتا ہوں۔ آئندہ کے لیے اپنے عقائد سے توبہ کی اور کلمہ پڑھ لیا۔ وہ ملحد آج بھی پانچ وقت کا نمازی ہے۔
فلسطین میں 30 ہزار تک شہادتیں پہنچ چکی ہیں، بارشیں ہوتی ہیں تو ان کے سر چھپانے کی جگہ نہیں ہے،بچوں کے لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔
ہزاروں کی تعداد میں وہ بچے ہیں جو شیر خواں تھے اور آنے والے وقت میں ان کو یہ علم نہیں ہوگا کہ ہم کس کی اولاد ہیں، کیا یہ انسانی حقوق نہیں ہے۔
کیا امریکہ اور مغربی دنیا کو اس انسانی حق کا احساس نہیں ہے، یہاں وہ حیوان بن چکے ہیں۔
وحشی بن چکے ہیں اور اسرائیل کی جو درندگی ہے اس کو سپورٹ کر رہے ہیں، کس منہ سے امریکہ اور مغربی دنیا آئندہ پوری دنیا میں انسانی حق کی بات کرے گا شرم نہیں آئے گی ان کو اور اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو بھی حیا کرنی چاہیے، ان کی غیرت حمیت کہاں چلی گئی ہے کہ اسلامی دنیا اس وقت جو ہے وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے ۔ سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد: سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ آمد
سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
وفد میں رانا ثناء اللہ ، احسن اقبال، سعد رفیق اور اسحاق ڈار شامل
جےیوآئی کے مولانا عبدالغفور حیدری، حاجی غلام علی ، اسلم غوری ، نور عالم خان ، عثمانی بادینی شریک
ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو
جس مولوی کو تم نے اقتدار کا بھوکا کہا تھا وہ اقتدار کو ٹھوکر مار کے ختم نبوت،عوامی رائے کی عزت، پڑوسی مسلم ممالک سے اچھے روابط اور مظلوم فلسطنیوں کی جنگ اکیلے لڑرہا ہے ۔۔
چار محاذ ایک مولوی
#سندھ_بچانےنکلو
دھاندلی کی پیداوار بلاول زرداری کی جمہوریت سے لبادہ اترچکا ہے ، جےیوآئی کے پرامن قافلے پر تشدد / شیلنگ کرکے مجھ سمیت کارکنان زخمی کئے گئے، ظلم و بربریت کا حساب لیں گے ۔ مولانا راشد محمود سومرو ودیگر رہنماؤں کا احتجاجی دھرنے سے خطاب
@SoomroOfficial@BBhuttoZardari