سیٹھ رفیق اپنے بیٹے کو غریبی دکھانے لے گیا تھا، مگر واپسی پر اسے اپنا ہی محل ویران لگنے لگا۔ 💔🥹
دانیال بارہ برس کا تھا۔ اسلام آباد کے بڑے گھر میں رہتا تھا جہاں لان کی گھاس بھی ناپ کر کاٹی جاتی تھی، دروازہ ریم��ٹ سے کھلتا تھا اور کتا بھی انگریزی نام سے پکارا جاتا تھا۔ گھر میں سب کچھ تھا، بس آوازیں کم تھیں۔
ایک صبح سیٹھ رفیق نے کہا:
“چلو، آج تمہیں دکھاتا ہوں کہ غریب لوگ کیسے رہتے ہیں۔ تاکہ تمہیں اللہ کی نعمتوں کا احساس ہو۔”
گاڑی شہر سے نکلی تو عمارتیں پیچھے رہ گئیں، مٹی، کھیت اور کھلا آسمان سامنے آ گئے۔ وہ ایک گاؤں پہنچے جہاں کریم، سیٹھ رفیق کا پرانا ڈرائیور، اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔
کچا پکا صحن، نیم کا درخت، مرغیاں، بکریاں، بھینس، اور بچوں کی ایسی چہل پہل جیسے گھر نہیں، زندگی کا میلہ ہو۔
کریم نے دانیال کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“آؤ پتر، لسی پیو۔ شہر کی بوتلوں سے بہتر ہ��۔”
دانیال نے پہلی بار مٹی کے پیالے میں لسی پی۔ جھاگ ہو��ٹوں پر لگی تو کریم کی چھوٹی بیٹی ہنس دی۔ دانیال بھی ہنس پڑا۔ مدت بعد کسی نے اس پر نہیں، اس کے ساتھ ہنسا تھا۔
وہ دو دن وہاں رہے۔
صبح دانیال نے گھاس کے ڈھیر سے گرم انڈہ اٹھایا۔ دوپہر کو ساجد کے ساتھ کھیت میں گیا۔ شام کو نالے کے ٹھنڈے پانی میں پاؤں رکھے۔ رات کو جب بجلی گئی تو سیٹھ رفیق نے موبائل کی ٹارچ جلائی، مگر کریم ہنس دیا۔
“صاحب، رہنے دیں۔ آج چاند ہے۔”
دانیال نے اوپر دیکھا۔ آسمان تاروں سے بھرا تھا۔ شہر میں آسمان ہمیشہ دیواروں، روشنیوں اور دھند کے پیچھے چھپا رہتا تھا۔ یہاں آسمان پورا تھا۔
اگلی صبح واپسی ہوئی۔ کریم کی بیوی نے مکئی کی روٹیاں، مکھن اور گڑ باندھ دیا۔ سیٹھ رفیق نے نوٹ دینے چاہے، مگر کریم نے ہاتھ پیچھے کر لیے۔
“صاحب، مہمان نوازی بیچی نہیں جاتی۔”
گاڑی چلی تو دانیال دیر تک پیچھے دیکھتا رہا۔ ساجد ننگے پاؤں ہاتھ ہلا رہا تھا، کتے اس کے پیچھے بھاگ رہے تھے، اور نیم کا درخت یوں کھڑا تھا جیسے دعا دے رہا ہو۔
راستے میں سیٹھ رفیق نے پوچھا:
“تو بیٹا، دیکھا غریب لوگ کیسے رہتے ہیں؟”
دانیال نے کھڑکی سے باہر کھیتوں کو دیکھا۔
“ابو، وہ غریب نہیں تھے۔”
سیٹھ رفیق مسکرایا۔
“پھر کیا تھے؟”
“امیر۔”
گاڑی کے اندر خاموشی اتر آئی۔
دانیال نے آہستہ سے کہا:
“ہمارے گھر میں ایک کتا ہے، ان کے پاس تین ہیں۔ ہمارے پاس سوئمنگ پول ہے، ان کے پاس بہتا پانی ہے۔ ہمارے گھر میں لائٹس ہیں، ان کے پاس پورا آسمان ہے۔ ہمارے لان کے بعد دیوار آ جاتی ہے، ان کے صحن کے بعد کھیت شروع ہوتے ہیں۔ ہم کھانا خریدتے ہیں، وہ اگاتے ہیں۔ ہمارے گھر کو گارڈ بچاتا ہے، ان کے گھر کو پورا گاؤں بچاتا ہے۔”
سیٹھ رفیق کا ہاتھ اسٹیئرنگ پر سخت ہو گیا۔
دانیال نے پھر پوچھا:
“ابو، اگر آپ یہ زمین خرید کر سوسائٹی بنا دیں گے، تو وہ لوگ بھی ہماری طرح امیر ہو جائیں گے یا ہماری طرح اکیلے؟”
سیٹھ رفیق نے جواب نہ دیا۔
شہر کے گیٹڈ ہاؤسنگ پراجیکٹس کے بورڈ سامنے آ رہے تھے:
محفوظ زندگی۔ کشادہ گھر۔ روشن مستقبل۔
دانیال نے سر شیشے سے لگا دیا۔
اور سیٹھ رفیق کو پہلی بار محسوس ہوا کہ بعض دیواریں گھر کے گرد نہیں، آدمی کے اندر اٹھتی ہیں۔
افسانہ: دیوار کے اس پار
تحریر: عبداللہ شہزاد
شمالی بحیرہ عرب میں پاک بحریہ کا میزائل فائرنگ کا کامیاب مظاہرہ ۔ ترجمان پاک بحریہ
پاک بحریہ کے وائس چیف آف نیول اسٹاف وائس ایڈمرل کلیم شوکت نے پی این ایس معاون سے میزائل فائرنگ کا مشاہدہ کیا۔ ترجمان پاک بحریہ
Exact figure transffered to Balochistan as per @Hammad_Azhar in last ten years total 1500 B Rs or150,000 Crore Rs only from federal kitty, it does not include provincial taxes,ask them where this money gone aur Jamhoriat/Parliament ka waqar khatray mein per jata hai
Pakistan’s minister tourism GB Fida Khan promotes tourism by lighting fire and agitating at the isd international airport you should be arrested for this . We all face delays but that does not mean we harass the staff and spread terror by lighting fire shame on you