سانحہ زیارت
وہ آپ کو فون کرتے رہے کہ ہمارے پاس کارتوس نہیں آپ نے پرواہ نہیں کی، آپ کے طیارے، ڈرون، مشینری کس لئے ہیں؟
ان شہیدوں کی لاشیں اٹھانے کیلئے کوئی نہیں جارہا تھا اور جس بے عزتی سے لاشیں ایک دوسرے پر رکھ کر پک اپ گاڈی میں پہنچائی گئی ۔۔۔
زیارت میں لیویز اہلکاروں کو بلایا گیا اور ان��یں کوئی واضح مقصد بتائے بغیر یہ حکم دیا گیا کہ فلاں مقام پر جائیں، صرف ایک یا دو میگزین لے کر جائیں۔
دو دو میگزین کے ساتھ ان کو بھیجا گیا۔وہاں ان پر حملہ ہو گیا۔ یہ حملہ کس نے کیا اور کہاں سے ہوا؟
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقریر ہمیشہ کی طرح بجٹ کے اہم اجلاس میں بھی سینسر کردی گئی۔
اسمبلی میں کی گئی پہلی تقریر کے بعد اب تک ان کی تمام تقریر کو سینسر کیا گیا ہے۔
افغانستان پر، الیگزینڈر برنس، موہن لال، چینی اور بدھ مت کے زائرین وغیرہ نے کتابیں لکھی ہے۔ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ پشتون متعصب یا فرقہ پرست ہیں، یا لوگوں سے نفرت کرنے والے ہیں۔ سب نے یہی کہا ہے کہ یہاں boarding and lodging بالکل مفت ہے۔
جو کشمیری نعرے لگاتے تھے کشمیر بنے گا پاکستان، آج لاک��وں کی تعداد میں سراپا احتجاج ہیں۔ وہ ہمارے دوست، ساتھی، محسن؟آج ہم نے ان کے ساتھ کیا کر دیا؟ یقیناً کچھ تو ہے جس پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔
ہمارے حکمرانوں کو خون کا ذائقہ لگ گیا ہے، اپنے لوگوں پر گولیاں چلانا کسی صورت درست نہیں
نوروز خان کو قرآن کے نام پر باہر لایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ مگر پھر انہیں بیٹوں و نواسوں سمیت پھانسی دی گئی۔
عطاء اللہ مین��ل کے گھر پر چھاپہ مار کر اس کے بچے اسد کو اٹھا لیا گیا، جسے پھر کسی نے نہیں دیکھا ۔ یہ طریقہ پاکستان چلانے کا نہیں ہے۔
جب فاٹا کو ضم کیا گیا، تو اس دن وہ اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تھا۔ اعلان کر دیا گیا کہ فاٹا کو ضم کر دیا گیا ہے۔ اب جو حالات پیدا ہو چکے ہیں، وہ نہ آپ سے سنبھل رہے ہیں اور نہ ہی ہم سے۔
آئین کے 3 آرٹیکل فاٹا پر لاگو تھے، ہم نے زبردستی 200 آرٹیکل ان کے گلے میں ڈال دیے۔
پشتون افغان اور ترک دو ایسی قوتیں تھیں جنہوں نے اپنی آزادی کبھی کسی کے حوالے نہیں ہونے دی!
جب ہم تاریخ دہراتے ہیں، تو کسی کو برا نہیں لگنا چاہیے۔ پتا نہیں افغان نام یا افغانستان کیوں لوگوں کو کھٹکتا ہے؟
کل جو اسمبلی میں بولے وہ غریب لوگ ہیں ان کو چٹھی آگئی، کم سے کم میرے باتوں سے انہیں تنخواہیں مل رہی ہے
چمن تقریر کے ایک ایک لفظ کو اون کرتا ہوں، دن دیہاڑے پشتون اور بلوچ علاقوں میں سڑکوں پر گاڑیوں کو آگ لگائی جاتی ہے۔
ہم کشمیروں کے حق خود ارادیت کے مخالف نہیں۔ دنیا میں کہیں بھی آزادی کی تحریک ہو، ہم اسکو سپورٹ کرنے والے لوگ ہیں۔ کشمیر کے معاملے میں پاکستان بھی گڑبڑ کر رہا ہے اور ہندوستان بھی۔
کشمیر، کشمیریوں کا ہے۔ وہ ہی اس کا فیصلہ کرئیں گے۔
ملک جل رہا ہے اور شہباز خوش ہے کہ ان کی حکومت ہے،ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے،کون کس کومار رہا ہے کسی کی خبر نہیں۔ یہ پارلیمنٹ ہم نے فاتحہ ک��لئے بنائی تھی کہ جو دہشتگردی میں جان بحق ہوتے ہیں،ہم یہاں ان کی فاتحہ کے لیے ہاتھ کھڑے دیتے ہیں؟
مشر محمود خان اچکزئی
#AchakzaiOurPride
جس پارٹی کا سلوگن تھا " ووٹ کو عزت دو" آج وہ ووٹ کو ذلت دے رہے ہیں، جو پارٹی کہتی تھی کہ ہم نے آئین بنایا ہے وہ آج آئین کے پرخچے اڑا رہی ہیں۔
عمران خان بیمار ہے، اس کے ملاقات پر پابندی ہے، ہم بائیکاٹ کرتے ہیں۔
A few weeks ago, Dr. Mahnoor proudly posted a video of her father teaching her how to shoot.
She called him her supporter, the man who taught her to stand strong in a world that fears empowered women.
Her bio proudly declared her a "fearless surgeon."
Yesterday, that same fearless doctor was subjected to a barbaric acid attack, not in a dark alley, but inside the very corridors of Quetta Civil Hospital where she spent her days healing others.
Think about the sheer logic of this tragedy: It takes decades of sleepless nights, shattered glass ceilings, and immense parental sacrifice for a woman to become a surgeon in a deeply conservative society.
She had to overcome a thousand unseen obstacles just to be there. Yet, it took only a single second of unchecked cowardice and fragile ego to try and destroy it all.
They didn’t just throw acid on Dr. Mahnoor; they threw it on the dreams of every young girl striving for a white coat.
They attacked the hopes of every progressive father trying to raise a strong daughter.
A father can teach his daughter how to defend herself, but how does she survive when the very society she serves refuses to protect her?
This is an assassination of hope.
#JusticeForDrMahnoor #ProtectOurDoctors #Quetta #Balochistan
لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی ��ے افسوسناک واقعہ کے دوران غیر معمولی جرات، انسان دوستی اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری مدد فراہم کرنے والے سول اسپتال کوئ��ہ کے ملازم عبدالرزاق ترکئی کو سول ایوارڈ دیا جائے گا ایسے بہادر اور باہمت افراد ہمارے معاشرے کا سرمایہ ہیں جو مشکل ترین حالات میں انسانیت کی خدمت کی روشن مثال قائم کرتے ہیں۔
ماحولیات کا تحفظ صرف ایک عالمی ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی بقا، معاشی استحکام اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے بلوچستان موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور ماحولیاتی دباؤ جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، جن سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عوام کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ بلوچستان کی قدرتی خوبصورتی، جنگلات، قومی پارکس اور نایاب جنگلی حیات ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، جن کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ حکومتِ بلوچستان گرین بلوچستان پروگرام، شجرکاری مہم، آبی منصوبوں اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے ایک سرسبز اور پائیدار مستقبل کے لیے کوشاں ہے ہر شہری سے اپیل ہے کہ وہ درخت لگائے، پانی بچائے اور پلاسٹک کے بے جا استعمال سے اجتناب کرے، تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور صحت مند ماحول دے سکیں۔