پیرسوہاوہ کے معروف ریسٹورنٹس مونال اور لا مونٹانا کی کہانی صرف کاروبار کی نہیں بلکہ طاقت، سرکاری سرپرستی اور ریاستی وسائل کے استعمال کی داستان بھی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد یہ دونوں ریسٹورنٹس ایک بار پھر مرکزیت اختیار کر چکے ہیں
مونال کا تصور جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں سامنے آیا۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ سابق ڈکٹیٹر کی خواہش تھی کہ وہ ایسی جگہ بیٹھ کر مشروب خاص سے لطف اندوز ہوں جہاں سے شہر انکے قدموں میں ہو۔
یوں ذمہ داری آئی اس وقت شہر اقتدار کے مالک پر اور اس وقت کے چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری نے پیرسوہاوہ تک سڑک کی توسیع، اسٹریٹ لائٹس اور ریسٹورنٹ کی عمارت سرکاری وسائل سے تعمیر کروائی۔
2005 میں اظہارِ دلچسپی طلب کیا گیا، 12 کمپنیوں نے خانہ پوری کے لیے درخواستیں دیں اور آخرکار لقمان افضل کو لیز ملی۔
لقمان افضل، موجودہ فیڈرل سیکرٹری کامران افضل کے بھائی اور لاہوری بیک گراونڈ کی وجہ سے کامران لاشاری کے منظور نظر ٹھرے۔
ناقدین کے مطابق یہ معاہدہ انتہائی نرم شرائط پر دیا گیا۔ ابتدائی کرایہ صرف 2 لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ، سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ 15 سال کے لیے مقرر ہوا۔ مارچ 2006 میں جگہ حوالے کی گئی جبکہ کرایہ اگست سے شروع ہوا۔ لیز 2021 میں ختم ہو گئی، مگر جون 2024 تک مونال کی جانب سے تقریباً 14 کروڑ روپے ادا کیے گئے جبکہ قریب 2 کروڑ روپے واجب الادا رہے۔
دوسری جانب لا مونٹانا کی کہانی اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ جہاں آج یہ ریسٹورنٹ قائم ہے وہاں کبھی راشن ڈپو اور بعد ازاں ایک چھوٹا کھوکھا تھا، جو طویل عرصہ پیپلز پارٹی کے رہنما پیر مظہر الحق کے زیرِ اثر رہا۔ بعد میں یہ کھوکھا ڈاکٹر محمد امجد، جو جنرل مشرف کے قریبی ساتھی تھے، کے کنٹرول میں آیا اور پھر مرحلہ وار ایک بڑے ریسٹورنٹ میں تبدیل ہو گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس تمام عمل میں قواعد و ضوابط کو نظرانداز کیا گیا۔
یہ دونوں ریسٹورنٹس اسلام آباد کی شناخت بن گئے تھے، مگر ان کی تاریخ اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ کیا قومی اثاثے ہمیشہ بااثر افراد کی خواہشات کے مطابق استعمال ہوتے رہے؟
عدالتی فیصلہ کے بعد دیکھنا یہ ہو گا کہ اب کیسے اور کس کو نوازا جائے گا۔ رہی بات ماحول کی، مارگلہ ہلز کی تو یہ تو شاید اشرافیہ کی ترجیح ہے ہی نہیں۔
#Islamabad #PirSohawa #Monal #LaMontana #CDA
⚠️اگر اپ اسے ری ٹویٹ نہیں کریں گے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی جو عمران خان کے لیے باہر نکلے ہوئے ہیں⚠️
گلگت بلتستان میں اس وقت پی ٹی آئی کا راج ہے...!!
It is with great grief that I and my brother Asim Mateen announce that our youngest brother Atif Mateen passed away due to heart failure in Islamabad. He was 55 and leaves behind his wife Sumeera Atif and two sons Ahmad and Ammar. Details of his funeral will be announced later. Amir Mateen.
نیپرا ریکارڈ کے مطابق پاور پلانٹس کو گزشتہ 8 برس کے عرصے کے دوران صرف "کپیسٹی چارجز" کی مد میں جو ادائیگیاں کی گئیں ہیں انکی مالیت 8623 ارب روپے بنتی ہے۔۔یہ ادائیگیاں جولائی 2017 سے جون 2025 کے عرصے کے دوران کی گئی ہیں۔ اس عرصے کے دوران، جو ڈالر کا ریٹ رہا ہے، اگر اس میں ان ادائیگیوں کو کنورٹ کریں تو انکی مالیت 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے۔ دوسری جانب وزارتِ خزانہ کی جانب سے گزشتہ برس اقتصادی سروے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 101 اۤئی پی پیز کمیشن ہوئے جنکی مدد سے ملک میں کل 35 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری اۤئی۔۔یعنی پاور پلانٹس کو صرف 8 برس کی کپیسٹی چارجز کی ادائیگیاں 101 اۤئی پی پیز کی کل غیر ملکی سرمایہ کاری سے زیادہ ہیں۔۔اۤئی پی پیز کو نوے کی دہائی سے لگایا جا رہا ہے اور نواز شریف کے تیسرے دور میں لگائے گئے اۤئی پی پیز کے معاہدے 2045 یا اس سے بھی اۤگے تک کے عرصے کیلئے ہیں
Imran Khan trusted us. He believed his people would never stand by and allow injustice to be done to him.
Yet, with time, we have started normalising his imprisonment, his solitary confinement, even the loss of his vision.
In quiet moments, the weight of helplessness sinks in, because deep down we all know that he does not deserve this.
#FreeImranKhan
جاسم چٹھہ کا عمران خان کو خط
وزیراعظم جناب عمران خان صاحب!
اسلام وعلیکم۔ یہ پوری قوم آپ کی بہادری، استقامت اور جرات کو سلام پیش کرتی ہے۔ یہ قوم آپ کی مقروض ہے۔ آپ نے اپنی ہمت اور سچائی پر ڈٹ جانے کے باعث اس قوم کے سامنے سے مطالعہ پاکستان کے تمام پردے ہٹا دئیے ہیں۔
آپ کا خط پڑھا اور پڑھ کر خوشی ہوئی کہ آپ اپنے موقف پر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ کھڑے ہیں مگر آپ کا ایک کارکن ہونے کے ناطے میں آپ کے اس جملے سے اختلاف کرنے کی جسارت چاہوں گا کہ فوج بھی میری۔
جناب وزیراعظم صاحب آپ کو بخوبی علم ہے کہ اس فوج نے آپ کی پارٹی کے کارکنان پر تشدد، جبر کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ آپ کی پارٹی کے کارکنان کو شہید کیا گیا ہے اور خواتین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ جناب وزیراعظم صاحب ہمارے گھروں میں دیواریں پھلانگ کر کوئی افسر نہیں فوج کا عام سپاہی آتا ہے۔ آنے والے سپاہی کے لئے میری یا میرے والدین بھائی بہنوں کی عزت کوئی معنی نہیں رکھتی اس کے لئی ہائی کمان کا حکم معانی رکھتی ہے۔ کیا کبھی کسی سپاہی نے ظلم کرنے سے انکار کیا ہے؟ نہیں وزیراعظم صاحب نہیں۔ یہ فوج میری نہیں ہے۔ یہ اپنے مفادات کی فوج ہے۔ یہ فوج اپنی طاقت کے نشے میں چور فوج ہے۔ جناب وزیراعظم صاحب اگر آپ تک کبھی میری یہ ٹویٹ پہنچے تو میں جواب ضرور دیجئے گا کہ میں آج فوج کے عام سپاہی سے لیکر جنرل عاصم منیر صاحب تک کو دیکھ کر خود کومحفوظ محسوس کرتا ہوں یا عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہوں۔ مجھے یہ بھی بتائیے گا کہ اگر فوج میری ہے تو فوج نے آپ کا کالر کیوں پکڑا تھا؟
جناب وزیراعظم عمران خان صاحب میں اپنی فوج کے عام سپاہی سے لے کر جناب آرمی چیف صاحب تک سے خوف محسوس کرتا ہوں کہ نہ جانے کب میری فوج مجھے یا میرے گھر والوں کو اٹھا لے۔
والسلام
جاسم ارشاد چٹھہ
@eyesmithca
Below is a THREAD with some shorter clips of the most important messages from my boys’ interview regarding their father’s incarceration.
Please share if you can.
1) His conditions in jail
This isn’t the role model our youth is looking for!
This isn’t just ignorance—it’s irresponsible. Telling an FIA officer to “take the uniform off and stop paying taxes” if he supports @ImranKhanPTI insults the majority of voters and the leader of the party that won the 2024 elections. Portraying citizens as anti-state over political choice mischaracterizes them and sows division between institutions and the people they serve. Pakistan has seen enough division and polarization; such attitudes and speech should be snubbed and discouraged. To be a national hero, one needs tolerance and grace—the ability to educate, not inflame; qualities many see in @ImranKhanPTI. If there was a grievance, it should have been addressed through proper channels, not turned into public theatrics and insults. May Allah have mercy on Pakistan.
بھاتا ہے دل کو کلامِ خطیب،
مگر لذّتِ شوق سے بے نصیب
اقبال
@FIA_Agency
#Pakistán
بیرسٹر اسد رحیم خان سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلوں کا پوسٹمارٹم کرتے ہوئے۔۔۔سننے کےلائق کلپ ہے کہ بندہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے ہے کہ کیسے"منتشر خیالات کا حامل شخص" ملک کا چیف جسٹس بن گیا۔۔۔ بہت اعلی سر
@AsadRahim