وطن عزیز دنیا کا واحد ملک ھے جہاں بازار دوپہر کے بعد کھلتے ھیں اور نصف رات کے بعد بند ھوتے ھیں۔ کئی دفعہ ھر سطح پہ یہ مسئلہ اٹھایا ھے مگر تاجر حضرات کی طاقت کے سامنے حکومتیں لاچار ھیں ۔ سالوں سے بجلی کا رونا رویا جاتا ھے۔ بجلی چوری حق سمجھ کے کی جاتی ھے۔ اللہ نے ھمیں بارہ مہینے سورج کی روشنی سے نواز ا ھے۔ مگر ھم مصر ھیں کے کاروبار رات اندھیرے میں بجلی کی روشنی میں کرنا ھے۔ دنیا مغرب کے بعد بازار بند کرتی ھے ھفتے میں ایک مکمل چھٹی ضرور ھوتی ھے۔ ھمارے ملک میں ایسی مارکیٹیں بڑے شہروں میں موجود ھیں نام بتائے جا سکتے ھیں جہاں رزق حلال چوری کی بجلی سے کمایا جاتا ھے۔ ھمارا میڈیا ھر بات و ایشو پہ بات کرتا ھے مگر اس ایشو پہ مکمل خاموش ھے۔ جب مارکیٹوں کہ اوقات آدھی کے بعد تک ھوں تو سمجھ نہیں آتی بچوں اور فیملی کے لئے وقت کب میسر ھوتا ھے۔
کفایت شعاری کی بات ھم حکمران کرتے ھیں مگر بازاروں کے اوقات سے جسطرح آمدنی اور وسائل کا ضیاع ھوتا ھے اسکی کوئ بات کوئ نیں کرتا ۔ پارلیمنٹ بلڈنگ میں بھی بجلی کی بچت کی جارہی ھے۔ مگر بازار شام گئے بند کرنے کی کوئ بات نہیں کرتا جب اتنا بڑا تضاد ھو تو عام شہری پھر وقت کی نزاکت کا احساس نہیں کرتا۔
PPP Chairman @BBhuttoZardari rightly stated that our hands are clean. He also emphasised that Indian PM @narendramodi is scapegoating Pakistan after his security failures. Pakistan only defended its territory under article 51 of the @UN charter.
I have NEVER deleted tweets but today I am deleting all tweets that I made without verifying the claims of our Indian media channels.
I feel sad not because of tweeting but more so because I (wrongly) believed what I saw!