فضل الرحمان کی تقریر کے تین زاویے
۱- ماضی کے مطابق کوئ نیا ایجنڈا فضل الرحمن کو دیا گیا ہے۔ ایک نئے تجربے کا آغاز کرنے کی خاطر
۲- سیاسی فضا میں زندہ رہنے کیلئے عمران خان کا نظریہ واحد آکسیجن ہے، جسنے سیاست کرنی ہے،اُس کے پاس واحد راستہ عمران خان کے نظریے پر چلنا ہے، مولانا نے اپنی سیاست بچانے کیلئے عمران خان کے نظریے کو سیاسی حکیمی نسخے کے طور پر اپنا لیا ہے۔
۳- فضل الرحمن کا ضمیر جاگ گیا ہے؟ اسکا ایک فیصد بھی چانس نہیں۔
باقی فضل الرحمن کے جملے میں اگر قابل اعتراض بات ہے تو ایمان مزاری کی طرح 14 سال سزا تو بنتی ہے۔ اگر فضل الرحمن کا بیانیہ ایک آزاد سوچ ہے تو فضل الرحمن کو ابھی تک گرفتار ہو جانا چاہیے اور اڈیالہ میں فاسٹ ٹریک عدالت سے 14 سال قید کا آغاز ہونا چاہیے۔ صرف اس ایک بینچ مارک سے پتہ چل جاۓ کہ فضل الرحمن کا ضمیر جاگا ہے یا نیا سبق دیا گیا ہے؟
یاد ہے، “پاکستان کھپے” والے نے کیسے بینظیر کے قاتلوں کو بھی بخش دیا اور عوام کی ہمدردی بھی سمیٹ لی، اس بے چاری قوم کے ساتھ بڑے دھوکے ہوۓ۔
یاد رہے کہ پی آئی اے کی فروخت کو ممکن بنانے کیلئے پہلے ہی ٹیکس دہندگان کتنی بڑی قیمت ادا کر چکے تھے۔ نجکاری سے پہلے ریاست نے فضائی کمپنی کے جمع شدہ قرضوں اور واجبات کو اپنے ذمے لیا۔ یہ رقم 670 ارب روپے سے زیادہ تھی یعنی تقریباً ڈھائی ارب ڈالر
یہ ریاست اک exactrive نظام ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ غریب آدمی کی ہڈیوں سے بھی جو فائدہ نکلا جا سکتا ہے وہ اشرافیہ نکالے گی۔ گورے چلے گئے مگر مقامی گورے اسی نظام کے تحت اپنی مراعات بڑھا رہیں ہیں چاہے وہ جج ہوں بابو یا سیاستدان مگر عوام کا قیمہ بنا کر اس گوشتی جوس سے کباب بنا کر کھائیں گیں۔ اوپر ٹماٹر کی چٹنی سلاد بھی ڈالیں گیں اور دانت نکالتے ہوۓ کھائیں گیں۔ یہ اک بے شرم اشرافیہ ہے جسے سول ملٹری بابو کرپٹ سیٹھ اور سیاستدان نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس حد تک کے اس گائے میں اب دودھ نہی رہا۔ اب کیا کریں گیں یہ سیٹھ۔ مسلہ یہاں لٹکا ہے؟؟؟ اس گائے میں اب دودھ نہی بچا۔ کیسے نکالیں گیں۔
🚨یورپی یونین کا بڑا اعتراف‼
پاکستان میں بدترین انسانی حقوق پامالیاں، پھر بھی GSP پلس برقرار⁉️
عمران خان کا نام نہیں لیا…
مگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مان لیں‼️ پابندی پھر بھی کیوں نہیں؟
تمام مولانا اچانک ایک زبان کیوں بولنے لگے⁉️
کیا غیب سے اشارے آنا شروع ہوگئے‼ https://t.co/dk2VNjwGGO
"میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں۔" مراد سعید
آپ کے کارکن کہاں سے آگئے؟ کارکن تو عمران خان کے ہیں؟ اور آپ بھی عمران خان کے ہی کارکن ہوا کرتے تھے۔ اب کیا ہیں؟
کیا اب آپ نے کوئی نئی پارٹی بنا لی ہے؟ یہ خان صاحب کی پارٹی سے ہٹ کر کوئی پارٹی ہے؟ اس کا نظریہ کیا ہے؟
5 اگست کو پاکستان کے تمام اضلاع میں، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی آزادی کے لیے تحریک انصاف، پشتونخوامیپ، جمیعت علماء اسلام اور دیگر تمام پارٹیاں مل کر مظاہرے کریں
میری PTI کے ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ تیاری پکڑے اور اس تحریک کو چلانے کے لیے اپنی تمام صلاحیت کو استعمال کریں
🚨🚨
بنا ہے شاہ کا مصائب پھرے ہے اتراتا۔۔ جب اسٹیبلشمنٹ سرپرست ہو تو پھر ایسے ہی رعونت ہوتی ہے۔۔ موصوف وفاقی وزیر کے سامنے وزیرِاعظم شہباز شریف کی بھی “چوں” نہیں نکلتی!
عمران خان کی رہائی اور علیمہ خان کی سربراہی میں سٹریٹ موومنٹ کی پکار پر آئی ایس ایف کی للکار!
راولپنڈی مری روڈ: مری روڈ پر انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبہ نے دفعہ 804 نافذ کر دی۔
نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ سٹریٹ موومنٹ کی کال قائد عمران خان کی ہے، آئی ایس ایف کے جوان ہمیشہ کی طرح ان شاء اللہ ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
پاکستان میں جمہوریت کی یہ حالت ہے کہ صدر مملکت کا بیٹا سرعام جلسے میں کسی نامعلوم ریاست نامی شخص کی منتیں کر رہا ہے کہ کشمیر کو بھی آبنائے ہرمز کی طرح کھول دیں اب پتہ نہیں یہ ریاست صاحب کون ہیں کہاں ہوتے ہیں؟
5 اگست کو پورے پاکستان میں بھرپور احتجاج ہونا چاہئیے لیکن یہ ایک دن کا نہیں بلکہ اس تحریک کا نکتہ آغاز ہونا چاہئیے جو تب تک چلتی رہے جب تک خان صاحب آزاد نہیں ہوتے۔
ابھی سے، آج سے یم سب کو مل کر اس کی تیاری کرنا ہے
How can someone use private guards to start policing traffic on main highways. The Lahore police should register criminal cases against these private guards, the minister responsible for this and arrest all of them for causing public disorder and commotion. This can easily be done through use of Lahore’s safe city cameras. We also have to see if these private guards were armed. What if some poor patient in some ambulance had died on way to hospital emergency or some rich high value VVIP was stuck on the roads through such privately managed road blocks? The worst part is where Lahore police cars are seen facilitating these private militia and private army of the minister to block traffic.
کتنے بےوقوف ہیں وہ کشمیر کے پاکستانی مکینک جو صرف مسلہ مہاجروں کی سیٹوں کا سمجھ رہے ہیں۔ بلکل وہ مسلہ بھی ہے کیونکہ یہ مہاجروں کی یہ سیٹیں ان کی نمائندگی سے زیادہ کرپشن کی علامت بن چکی ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ مال خرچنے والے یہ سیٹیں لیتیں ہیں۔ مزید یہ سب وہ لوٹے بنتے ہیں جو پانچ سال میں پانچ حکومتیں بننے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ بے شرم ترین لوٹے بنتے ہیں جو پانچ سال میں پانچ دفع مال کما کر حکومتیں بدلتیں ہیں اور کوئ ان کو لعنت نہی بھیج رہا۔ ان تمام لوٹوں کو گھٹیا قرار دینا ضروری ہے۔ صرف پاکستان کے لیے نہی بلکہ مقبوضہ کشمیر کے لیے کیونکہ یہی حرکت بھارت حکومت کر رہی ہے۔ اگر یہاں انصاف اور حق خود ارادیت نہی تو ہم مقبوضہ کشمیر کے لیے کیا لڑائ کر رہے ہیں۔ یہ مسلہ محجر سیٹوں کا نہی بلکہ اس کے زریعے کشمیر میں کرپشن اور لوٹا کریسی کا ہے۔
🚨🚨
مارو مارو غریب کو مارو، ریڑھی والےکو مارو، رزق کے مواقع نہیں دے سکتے تو کم از کم مار مار کے غریب ہی ختم کردو پاکستان سے، پیرا فورس کو بھی سی سی ڈی والے اختیار دیں موقع پر ہی مُقابلے میں پار۔۔ دھرتی پر بوجھ ہیں یہ سب۔۔ شاباش مریم نواز آپکی عوام دوستی اور غریب نوازی کو سلام 👏
عمران خان کسی تختی کا محتاج نہیں لیکن مزاحمت کا تقاضا ہے کہ تختی پہ عمران خان کا نام ہونا چاہیئے کیونکہ جو طاقت ور بدمعاش ہے وہ عمران خان کے نام کا مخالف ہے اور جب وہ مخالف ہو تو تختی پہ نام ہر صورت ہونا چاہیئے!
مراد سعید اپنی کتاب میں بھی واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ یہ جگہ چھاؤنی سے واگزار کروائی تھی جتنی طویل جدوجہد کے بعد یہ جگہ چھاؤنی سے عمران خان اور مراد سعید نے حاصل کی تھی آج اس جگہ پر منصوبہ کا بھونڈا اور انتہائی کمزور افتتاح کیا گیا ہے یہ قطعا شیان شان نہیں تھا مراد سعید کا نام تختی پر لکھ کر نا صرف مراد سعید کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی بلکہ طویل جدوجہد کے بعد چھاؤنی سے حاصل کردہ زمین کو بھی کامیابی کے طور پر celebrate نہیں کیا گیا
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔