@UmarCheema1@VeengasJ@MahrangBaloch_ We have known you as investigative journalist. Here you are acting as arbitrator of truth and clearly picking a side. Repeating long debunked Army lies. Why don’t you do a good investigative piece on it .
@UmarCheema1@VeengasJ@MahrangBaloch_ documents saying they are terrorists. BYC demanded DNA tests . She did not come for or claimed any BLA body. This ISPR version is long debunked. Army has documented history of killing and dumping missing persons as collective punishment and revenge.
پاکستان کی ایک کینگرو کورٹ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سیاسی رہنما گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ میں اس فیصلے کو صرف ایک سزا کے طور پر نہیں دیکھتی، بلکہ اسے بلوچستان میں انصاف کے ساتھ ہونے والے مسلسل مذاق اور پُرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کے جاری عمل کی ایک اور مثال سمجھتی ہوں۔
جس مقدمے میں دفاع کے وکیل کی غیر موجودگی میں گواہ پر جرح کی جائے، جہاں دفاع کو اپنی بات مؤثر طور پر رکھنے کا مکمل موقع نہ دیا جائے، اور جہاں جج ملزم اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں طے شدہ احکامات کی تکمیل کرے، وہاں عدالت کے طرزِ عمل، دباؤ اور غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ یہ عدالتوں کا یہ طرز عمل انصاف کے زمرے میں آتا ہے ؟
گلزادی بلوچ کوئی نامعلوم چہرہ نہیں، وہ ہماری ساتھی اور ہماری جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ اسے خاموش کرنے کے لیے عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف ہماری آواز کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گلزادی کی سزا اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بلوچستان میں پُرامن سیاسی جدوجہد کو کس قدر دباؤ اور جبر کا سامنا ہے۔
ہمارے ساتھیوں پر جبر صرف قید اور مقدمات تک محدود نہیں۔ ہماری تنظیم کے سرگرم کارکن نذر مری بلوچ کو بھی گزشتہ ایک سال سے جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پُرامن سیاسی کارکنوں کو قید اور لاپتہ کرکے بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟
ہمیں مذاکرات کا درس دینے والوں سے میرا سوال ہے: جب ایک طرف ہمارے ساتھی جیلوں میں قید ہوں، دوسری طرف ان کے دفاع اور قانونی حقوق محدود کیے جائیں، اور سیاسی جدوجہد سے دستبرداری کے لیے دباؤ ڈالا جائے، تو پھر مذاکرات کس بنیاد پر ہوں گے؟ گلے پر چھری رکھ کر مذاکرات نہیں ہوتے، یہ صرف جبری خاموشی مسلط کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ مجرمانہ طرزِ عمل بلوچستان میں پُرامن جدوجہد پر ریاستی اداروں کے جاری جبر کی ایک سفاک مثال ہے۔ نام نہاد مذاکراتی عمل کے دوران، بلوچستان میں جاری خونریزی اور مسلسل جبر کے باوجود، معاملہ فہمی، سنجیدگی اور نیک نیتی کے بجائے دباؤ، ہٹ دھرمی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔
مذاکرات کے نام پر مسلسل ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ ہم اپنی پُرامن سیاسی جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں۔ ہمیں کہا گیا کہ تمام ججز ہمارے ہاتھ میں ہیں اور آپ کی دی ہوئی کوئی بھی درخواست کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہم نے ان تمام حالات کے باوجود دلیل اور سیاسی جرات کا راستہ اختیار کیا، جو ہماری بنیادی سیاسی تربیت کا حصہ ہے۔ ہم بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے ہم نے کبھی بھی مکالمے اور مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔
اس جبر کے دورانیے میں بھی ہماری تنظیم لاپتہ افراد کی سالانہ رپورٹ محکمہ داخلہ بلوچستان میں جمع کرائی، جو ہمارے زمہدار تنظیم ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
مگر ہم نے مذاکرات کے نام پر کسی بھی سیاسی انجینئرنگ کو نہ پہلے قبول کیا ہے اور نہ آئندہ کریں گے۔ بی وائی سی بلوچ عوام کی نمائندہ جماعت اور ان کی امانت ہے۔ ہماری جدوجہد کسی فرد یا عہدے کے لیے نہیں بلکہ اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور انصاف کے لیے ہے۔
ہمارے انکار کے بعد چار رکنی عسکری مذاکراتی ٹیم نے ہمیں کہا کہ فیصلہ یہ ہے کہ جب تک آپ ہماری باتیں نہیں مانیں گے، آپ جیل میں رہیں گے۔ ہمیں یہ بھی کہا گیا کہ جج کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر ہم ان کی بات مان لیتے ہیں تو ہم میں سے ایک شخص کو رہا کر دیا جائے گا؛ وہ باہر جا کر ان کی باتوں پر عمل کرے گا تو باقی لوگوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ہمیں دو، تین سال کے لیے یورپ میں آباد ہو جانے کی پیشکش بھی کی گئی۔ ہم نے ان سمیت تمام ایسی پیشکشوں کو مسترد کیا، کیونکہ ہماری جدوجہد کسی وقتی رعایت، مراعات یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہے۔
ہم نے واضح کیا کہ ہم کسی سلیکٹڈ پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بنیں گے، جو عوام کے بجائے عسکری قوتوں کے ترجمانی کریں نہ کبھی بلوچستان کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں پناہ لیں گے۔ ہمارا انتخاب بلوچستان کی عوام ہیں، اور ہمارا راستہ اپنے عوام کے بنیادی جمہوری حقوق کی جدوجہد ہے۔ اگر اس جدوجہد کی قیمت قید ہے تو ہم یہ قیمت ادا کریں گے، اور جیل سے بھی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ہم ان تمام اداروں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ طاقت کے بل پر آپ بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔ آپ نے بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کرنے اور کارکنوں کو لاپتہ کرنے کے باوجود بلوچستان میں امن قائم نہیں کیا-
If 3 years of genocide can’t convince you to stop stanning billionaire celebrities who would literally grind you into dust for a dollar then nothing will lmao stay cooked
@MunizaeJahangir اتنے جھوٹ بول رہا۔ جا کر درخواست سپریم کورٹ سے واپس لینے میں کیا ممانعت ؟ اسمبلی کا اسکو ختم کرنا۔ کونسا مارشل لاء لگ سکتا؟ صوبے میں فوجی قبضے کے مکمل سہولت کار ہیں۔
17 years in prison for tweets criticizing the military. Re-arrested hours after bail. We are Pakistani-origin professors and researchers calling for the release of lawyers Imaan Mazari & Hadi Ali Chattha. Full letter below:
@IBAHRI , @hrw , @HRCP87 , @amnesty@ICJ_org
"عسکری پیشکش تھی کہ ہماری بات مان لیں تو ایک شخص کو رہا کیا جائےگا جو باہر جا کر انکی باتوں پر عمل کرےگا، جس کےبعد باقی افراد کو بھی رہا کیاجائے گا۔ مزید دو، تین سال کےلیے یورپ میں آباد ہونےکی پیشکش بھی کی گئی، ہم نے تمام پیشکش مسترد کیں"
- ماہ رنگ بلوچ
https://t.co/oN2rKFxmuq
He committed a criminal act of intentional murder attempt and caused damage to private property. Despite knowing that there would be public backlash, he deliberately turned off replies. BBC, however, still calls him an activist.
پشتون قوم پرست رہنما علی وزیر سے سندھ کی دادو جیل میں بچوں کی ملاقات
ضلع دادو کی جیل میں علی وزیر اور حاجی صمد لالا سے اُن کے دوستوں کی ملاقات کرائی گئی۔
دو سال بعد علی وزیر کی اپنے بچوں مومین اور بریرہ سے ملاقات کرائی گئی۔
علی وزیر کے وکلا اور دوستوں نے بتایا کہ بچوں سے دو سال کی جدائی کے بعد بھی پشتون رہنما کا حوصلہ آج بھی پہاڑوں جیسا بلند ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک باپ اور بچوں کی ملاقات نہیں، بلکہ ظلم کے سامنے کھڑی ایک مزاحمت کی داستان ہے۔
@tariqtariqw@MohsinHijazee سیرئیس ۔ مسئلہ ایہہ ہے کہ محسن حجازی دی بہت گلاں نال میرا وی اختلاف اے۔ مگر نا بددیانت اے نا جھوٹا، جو صحیح سمجھدا اوہ کہندا تے ریس اچ آپنا بابا ہے نہیں۔ اس لئی دلا آکھنا مناسب نہیں۔ باقی غلط صحیح رائے ہو سکدی تے رکھن دا حق وی سبھ دا۔