دھرنا پاکستان کے عوام کی امید بن گیا ہے، لوگ موسم کی سختی کی پروا کیے بغیر ڈٹے ہوئے ہیں اور پر عزم ہیں کہ مطالبات منوا کر ہی اٹھیں گے، شہباز بلاول حکومت کو عوام کے یہ جائز مطالبات ماننے پڑیں گے، بجلی کے ٹیرف میں کمی اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز کا بوجھ کم کرنا پڑے گا۔ IPPs کو لگام دینی ہوگی۔
#ReleaseImranKhan
جیسے سقراط جان گیا تھا کہ زہر کا پیالہ اُسے مارنے والا نہیں ہے، یہ جو کہتے ہیں عمران خان جیل میں مزید خطرناک ہوگیا ہے درست کہتے ہیں۔ بہت خطرناک ہوتا ہے وہ آدمی جو اپنے انجام کی قید سے آزاد ہوجائے۔ جو جان جائے کہ اُس نے اپنی زندگی اُس کام میں لگا دی کہ جس کے لیے اُسے تخلیق کیا گیا تھا، جو اپن�� پراگریس سے مطمئن ہوجائے۔ جسے اپنے خالق کے سامنے پیش ہونے میں کوئی عُذر نہ رہے۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ جو اپنے رب سے سننا چاہتا تھا کہ “you tried your best” تو کیا ہم ساری قوم اور دنیا کا ہر مظلوم اس بات پر گواہ نہیں کہ اُس نے کوئی کثر نہیں چھوڑی؟ شوکت خانم سے لے کر نمل تک اور احساس سے لے کر ایک پوری قوم کو گویا کرنے تک؟ افغانستان سے لے کر کشمیر اور فلسطین پر ہوتے جبر سے لے کر اسلاموفوبیہ تک؟ اُمت مسلمہ کی آواز بننے سے لے کر آزادی کی اس جنگ تک۔۔ ?Didn’t he try his best اُس کے ہاتھ میں تو نیت اور کوشش تھی وہ اُس نے کرلی، دل و جان سے۔ وہ کامیاب بھی ہوگیا۔ اُس نے وہ کر دکھایا جو تاریخ میں کسی کو کرنا نصیب نہیں ہوا تھا۔ اُس نے اس قوم کو شعور دے دیا جس کی غفلت کی نیند پر کئی سوں کے خوا��وں کے محل کھڑے تھے۔پر میں سوچتا ہوں اس سے آگے کیا وہ واقعی ہماری تقدیر کی قید سے آزاد ہوگیا ہے؟ کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں عمران خان جیل میں خوش باش تھا۔ بشری بی بی کو اکلوتی تشویش یہ تھی کہ پیشیوں کے چکر میں ان کا اعتکاف نہ چھوٹ جائے۔ جب یہ کہتے ہیں کہ وہ سو سال بھی جیل میں رہنے کو تیار ہیں تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔ یہ جو چوبیس کروڑ کا ملک اپنے پنجوں پر چل رہا ہے اس خوف میں کہ کسی کی دُم پر پاؤں نہ پڑ جائے۔ یہ جو اپنے سانس لینے کے حق کے لیے دستِ سوال دراز کرتے ہوئے بھی “جل تو جلال تو” کا ورد کر رہا ہوتا ہے۔ یہ جو چہروں پر تفکر ہے۔ انداز میں بے بسی ہے۔ آنکھوں میں غصہ ہے۔ لہجوں میں حالات کی تلخی۔ یہ جو سجدوں میں اُسی کا تذکرہ ہے۔ یہ جو بے دلی آسیب کیطرح ہمارے شہروں میں منڈیروں سے لٹک رہی ہے۔ سڑک کنارے فٹ پاتھوں پر بے کسی کے مزاروں پر آنکھیں بجھتے دیوں سی ہوگئی ہیں۔ یہ جو اپنی ہی گلیاں اژدھے سی پھنک پھیلائے اپنے باسیوں کو نگلنے بیٹھی ہیں۔ لا قانونیت، مہنگائی، بے وقعتی، بے سروسامانی۔ یہ قوم تو اس شخص کے بغیر کسی قہرزدہ بستی کے باشندوں سی لگنے لگی ہے۔ وہ جو کچھ روز پہلے ایک شعر گردش کر رہا تھا۔۔ غریب شہر تیرا خیرخواہ قید میں ہے۔ یہ جو ہمیں اللہ کے بعد ایک اس بات کا آسرہ ہے کہ کوئی ہے جو ہمارا خیر خواہ ہے۔۔ کیا وہ واقعی یہ سوچتا ہے کہ اُس کی ہماری طرف حُجت تمام ہوگئی ہے؟ کہ بس اُس کی ضرورت یہیں تک تھی اور اِس سے آگے ہم اپنے والی آپ ہیں؟ چاہیں تو اُس کا پڑھایا سبق آنکھوں میں بسائیں عمل میں لائیں۔ چاہیں تو تاراج ہوجائیں۔ جئیں یا مریں۔ میں سوچتا ہوں، اپنے اردگرد دیکھتا ہوں، یہ جو چند “اپنے” ابھی سے بیٹھ کر وراثت کی تقسیم میں لگ گئے ہیں۔ یہ جو ایک ہی فکر ہے کہ کوئی اُس سے زیادہ نہ سمیٹ لے جائے۔ یہ جو لاکھوں کی جہد سے آنکھیں پھیر کر مقصد کے بجائے محض من مرضی کے صلے کی نیت سے قربانیاں ازبر کرائی جارہی ہیں۔ یہ جو اُس کو بھول کر ہر معاملے کی فکر طاری ہے۔ یہ جانتے بھی ہیں کہ جو وہ کہہ رہا ہے اُس کے معنی کیا ہیں؟ کسی کے ہاتھ ککھ نہ رہیگا۔ نہ طاقت والوں کے ہاتھ۔ نا طاقت کے متلاشیوں کے ہاتھ۔۔ وہ جو طاقت کا سرچشمہ ہیں کسی کی نسبت سے ہمارے، تمہارے ہیں۔ اور جس سے اُن کو نسبت ہے وہ سوچتا ہے اُس نے اپنی حُجت پوری کردی ہے۔ اس سے آگے اپنا انجام جانتے ہو؟ کون ہو تم؟ اپنی خوش قسمتی کو محض بدنصیبی میں بدلنے جتنے اہل ہو۔ کس گمان میں جیتے ہو؟ عمران خان جیل میں مطمئن ہوگا، اُس کا اطمینان صرف ہماری غیرت کے لیے تازیانہ بھی ہوت�� تو بہت تھا مگر وہ جو اپنے انجام کی قید سے آزاد ہوگیا ہے، یوں جو ہماری تقدیر کی فکر سے بے اعتنا ہوگیا ہے، اُس کا اطمینان ہماری موت کا پروانہ بن جانا ہے۔
ایم کیو ایم کے پاس ہر حلقے میں صرف 1500 سے 2000 ووٹ تھے اور وہ چوتھے اور پانچویں نمبر پر آرہی تھی لیکن انہیں کراچی سے 17 سیٹیں جیتوا دی گئیں جو کہ واضح طور پر ڈاکا ہے: نیلم اسلم
Retweet if you would like an open trial of Wheeler Dealer Mohsin Naqvi & his crony IG Punjab for Murder, Torture, Kidnappings, Ransacking & Interference in Electoral Process.
They ran character assassination campaigns of ppl based on fake cases but will themselves be sentenced for their own real crimes.
🇵🇰 PAKISTAN ELECTIONS: BLATANT BALLOT RIGGING UNCOVERED
According to sources on the ground, voters in Pakistan are allowed only 1 stamp per ballot placed on the candidate's symbol to vote for them.
The man in this video is seen placing multiple stamps on ballots that have already been cast, which reportedly invalidates them.
Remember 'our' long struggle for Electronic Voting Machines. EVM had paper ballots that could be counted separately by hand (like it is being done today) BUT it also had a simple electronic calculator/counter of each vote button pressed. Totals of every candidate would have been available & printed within five minutes of closing of poll.
The entire effort that included more than 50 meetings at the Presidency alone was scuttled.
Had EVMs been there today, my dear beloved Pakistan would have been spared this crisis.
لیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے لیے 'ہماری' طویل جدوجہد کو یاد رکھیں۔ ای وی ایم میں کاغذی بیلٹ تھے جنہیں ہاتھ سے گنا جا سکتا تھا (جیسا کہ آج کل کیا جا رہا ہے) لیکن اس میں ایک سادہ الیکٹرانک کیلکو��یٹر/کاؤنٹر بھی تھا جو ہر ووٹ ڈالنے کی لیے دبائے جانے والے بٹن کو ساتھ ساتھ گن سکتا تھا۔ ہر امیدوار کا رزلٹ پول ختم ہونے کے پانچ منٹ کے اندر دستیاب ہوتا اور پرنٹ بھی ہو جاتا۔
ہماری یہ تمام جدوجہد، جس کے لیے ایوان صدر میں 50 سے زائد میٹنگ ہوئیں، ناکام کی گئی۔
اگر آج ای وی ایم ہوتی تو میرا یہ پیارا پاکستان اس بحران سے بچ جاتا۔
پاکستان کو ضرورت ہے غیرت مند قوم کی ، ایک غیرت مند چیف جسٹس کی اور ایک غیرت مند آرمی چیف کی!
فلحال صرف ایک غیرت مند لیڈر ہے وہ عمران خان ہے۔ ۔ ۔ ۔
#ElectionResults2024
🇵🇰PAKISTAN ELECTIONS: EVIDENCE OF POSSIBLE INTERFERENCE
The army and plainclothes intelligence officers forced their way into a polling station to remove the Returning Officer who was there to ensure voting took place correctly.
Source: @ARYSabirShakir