اندازہ لگائیں جہالت کا، خود پرستی کا، پتہ نہیں اپنے آپ کو کیا سمجھ بیٹھے ہیں، حالات یہ ہیں کہ ان کے ٹی وی پروگرامز دیکھنا تو دور عوام کی بڑی تعداد کو علم بھی نہیں ہو گا کہ پروگرام آتا بھی ہے۔ لیکن بھاشن ایسے دے گا جیسے اس کا لیول رویش کمار یا اجیت انجم جتنا ہے
جاوید میانداد انٹرویو کا مُکمل کلپ۔
شو کے دوران آبدیدہ ہو گئے، کھُل کر عمران خان کے حق میں بولے
"عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے غلط ہو رہا ہے، میں کھُل کر کہوں گا یہ غلط ہے، وہ یہ سب ڈیزرو نہیں کرتا وہ قومی ہیرو ہے، اُس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے تو میں تیار ہوں"
جاوید میانداد۔۔۔
Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves
آج میں نے دیکھا، انہوں نے لکھا قاسم گولڈسمتھ۔ ان بچوں کو اپنے نانا کے نام کی ضرورت نہیں ہے، ان کا باپ بہت عظیم انسان ہے۔ نانا کا نام وہ لگاتے ہیں جن کو اپنے باپ کے نام پہ یقین نہ ہو۔ نورین خان
@Noreen_KhanPK
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan#ImranKhan
کیا آپ کو کبھی اس بات کا افسوس ہوتا ہے کہ زندگی آپ کے والد کو اس سمت لے گئی؟ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد شاید کمنٹری باکس میں بیٹھ کر کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے۔مائیکل ایتھرٹن
میرے لیے وہ جیسے ہیں،ویسے ہی ہیں۔جب میں چھوٹا تھا تو وہ کرپشن کے نظام کو ختم کرنے،پاکستان کو غربت سے نکالنے اور اپنے ملک کو بہتر بنانے کے لیے بہت پُرجوش تھے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی میں سب سے بڑھ کر قدر کرتا ہوں۔ہاں یقیناً میری خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہوتے اور ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلتے۔اس سے ہماری زندگی یقیناً بہت بہتر ہوتی۔قاسم خان https://t.co/LYrsmbsPIF
مصطفیٰ کمال کو عوام مسترد کر چکی تھی مجھ جیسے عمران خان کے ایک ادنی وركر نے اسے 33،000 کی لیڈ سے شکست دی تھی ، لیکن طاقتوروں نے جعلی فارم 47 پر پہلے اسے رکن قومی اسمبلی بنایا اور پھر وفاقی وزیر بنایا ، مصطفیٰ کمال میں ذرا برابر بھی شرم ہو تو فوری طور پر استغفی دے
پمز کے واقعے نے سب کو اداس کیا ہے لیکن یاد رکھئیے پاکستان میں شوکت خانم جیسا ورلڈ کلاس اسپتال بھی کام کر رہا ہے۔ جہاں غریب اور امیر کا کوئی فرق نہیں۔کراچی میں زیر تعمیر شوکت خانم اسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اپنے عطیات سے اس کی تکمیل میں حصہ ڈالیں۔
یہ جو فارم سینتالیس پر آئے ہیں یہ فارم سینتالیس داتا دربار سے یا بری امام سے لیکر آئے ہیں؟ پاک فوج اس ملک میں عذاب ہے۔ پاک فوج اس ملک میں ہر عذاب ، ہر مصیبت کی ذمہ دار ہے۔
4 سال بعد اللہ نے بیٹا دیا، آگ لگی تو انتظامیہ کا کوئی بندہ نظر نہیں آیا، نرسری کے تالے توڑنے کےلئے کوئی بندہ نہیں تھا، اندر میرا بیٹا تھا، تالہ توڑ کر اندر گیا، آگ نے اُٹھا کر مجھے باہر پھینکا، میں نے اپنے ہاتھوں سے چار سے پانچ جلے ہوئے بچے باہر نکالے، ایک باپ کا دُکھ۔!!💔
اگر نکل سکتے ہیں تو اس ملک سے نکل آئیے۔ اتنی بیدردی سے دنیا کا کوئی ملک آپ کو نہیں مارے گا۔ ہسپتال تو بہت حساس جگہیں ہیں ، ریسٹورنٹس اور سٹورز میں ایک ایک کمرے کی دوکانوں میں فائر ایگزٹس ہیں جنکو باقاعدہ چیک کیا جاتا ہے۔ آگ بجھانے والے آلات لازمی ہیں۔ نہ ہونے پر سب کچھ سیل کرجاتے ہیں۔ ہر گھر میں ، ہر اینٹوں سے بنی عمارت میں فائر اور سموک الارم لگے ہیں۔ فائر الارمز کی چیکنگ ہوتی ہے۔
فائر ڈیپارٹمنٹ کے پاس ایک ایک بلڈنگ کا نقشہ ہے۔ کوئی ایک اینٹ کونسل کی منظوری کے بغیر نہیں لگ سکتی ، کچھ تبدیلی ہوتی ہے تو اطلاع کی جاتی ہے ، نقشے اپڈیٹ ہوتے ہیں تاکہ ہنگامی صورت میں ریسکیو والے دیواروں سے نا سر ٹکراتے پھریں۔ منٹ ڈیڑھ میں فائر بریگیڈ پہنچتا ہے۔ پولیس سے زیادہ سڑکوں پر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ یعنی کسی حادثے سے پہلے بچاؤ کا مکمل نظام تیار کیا جاتا ہے۔ حادثہ ہوجانا تو بہت بعد کی چیز ہے۔
یہاں حفاظت ؟ سیفٹی؟ جو تھوڑا بہت مال لگایا اس میں بھی کرپشن ، ملاوٹ ، آگ سپارکنگ سے لگی ہے تو ٹھیکیدار نے سستا مال ڈالا ہوگا ، کمپریسر پھٹا ہے تو سپلائر نے کک بیک دے کر سستا مال سپلائی کردیا ہوگا۔ نرسنگ سٹاف کو ہنگامی حالت کی ٹریننگ نہیں ہوگی۔ پھر اسکے بعد ؟ حادثہ ہوگیا؟ اللہ کی مرضی ، تم استعفی دو تم استعفی دو اسکے بعد طویل خاموشی۔
ہاں پاکستان غریب ملک ہے۔ یہاں ترقی یافتہ ممالک جیسے وسائل نہیں ہیں۔ لیکن جو وسائل ہیں وہ بھی جہازوں ، گالف کلبوں ، مراعات اور عیاشیوں پر لگ رہے ہیں۔ سسٹم کے اوپر ایک سانپ بیٹھا ہے جو سسٹم کے ایک ایک پرزے کو ڈنک مار رہا ہے۔ دو دن کا رونا پھر اگلے حادثے کا انتظار اور پھر یہی چیخ وپکار۔ آپ بس نکل آئیں ۔ موت یہاں بھی آسکتی ہے۔ لیکن آپ کو موت کے منہ میں دھکیلا نہیں جائے گا آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش موجود ہوگی۔