"This is my alternate (2nd) account. If you are here, it means I have lost my first account. All views are my own. No one should dare to link my views with PTI or Imran Khan. I decide alone and refuse all dictation.
I will stand here until Khan is free and in power.”
On the morning of 12 August 2026, an under preparation Vehicle-Borne Improvised Explosive Device (VBIED) detonated while being prepared by terrorists affiliated with Fitna Al Hindustan in Surab District of Balochistan. The premature detonation during preparation resulted into confirmed killing of eight terrorists with multiple injured. However the blast and secondary detonation of other explosives stored there by the terrorists of Indian Proxy has also reportedly caused tragic casualties of three nearby civilians.
In immediate response, security forces and the Balochistan Police reached the site and has launched a comprehensive joint clearance operation to track down the perpetrators and facilitators. During the operation, security forces proactively detected the movement of fleeing terrorists, effectively engaging and neutralizing ten more. In total eighteen terrorists affilated with Fitna Al Hindustan have been eliminated in these incidents so far. However, during the intense exchange of fire, two brave soldiers also sustained injuries.
Sanitization operations continue in the area to eliminate any remaining terrorists.
The relentless counter-terrorism campaign under the vision of Azm-e-Istehkam (as approved by the Federal Apex Committee under the National Action Plan) by the security forces and law enforcement agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out menace of foreign-sponsored and supported terrorism from the country.
محمد حسین بہت ہی معصوم اور سیدھا سادہ نوجوان تھا۔
آج دوسرادن ہے اور کوئی ویڈیو یا کوئی ثبوت نہیں دکھایا گیا کہ محمد حسین کوئی دہشتگرد تھا یا اس کے پاس کوئی اسلحہ موجود تھا۔
یہ واقعہ بھی ایک اور ٹارگٹ کلنگ اور فالس فلیگ آپریشن ہی لگ رہا ہے اور پاکستان میں جاری درندگی، اور فسطائیت کی ایک اور واضح مثال ہے -
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اع��ماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
کوٹلی، آزاد کشمیر میں نہتے شہریوں، جن میں خواتین اور بچیاں بھی شامل ہیں، پر براہِ راست گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ پولیس، پولیس وردی میں ملبوس فوجی اہلکار، اور سول لباس میں آئی ایس آئی و ایم آئی کے دہشت گرد گولیاں چلا رہے ہیں۔ ایسا ہی 9 مئی کو بھی پاکستان بھر میں کیا گیا تھا۔
اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے کچھ سوال:
۱) جب آپ اپنے مسلمان بھائی اور اپنے ہی ملک کے شہریوں پر گولی چلاتے ہیں، آپ کو محسوس نہیں ہوتا کہ کتنا بڑا گناہ کر رہے ہیں اور آپ دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا ہو سکتے ہیں؟
اگلے سوال خاموش تماشائیوں کے لیے:
۲) کیا آپ اپنے بڑوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر اپنے شہریوں کو کیوں مارنا پڑ رہا ہے اور اس کی نوبت کیوں آئی ہے؟
۳) کیا آپ اپنے بچوں کو قتل کی روزی کھلا کر فخر محسوس کرتے ہیں؟ آپ ٹ��م قتل عام نہیں ہیں؟
۴) آپ کے گھر والے مطمعین ہیں آپ کی اس نوکری سے جس سے کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے اور کسی خاندان کا قیمتی شخص اپنے بچوں سے اور والدین سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجاتا ہے۔ آپ کے بچے شاید اچھی تعلیم حاصل کر جائیں اور آپ کے والدین اچھے ہسپتال میں اپنا علاج کروا سکیں، مگر یہ ایک انتہائی خودغرض فیصلہ ہے آپ کا اور آپ کی پوری فیملی کا۔
۵) پچھلے چار سال میں کتنی بار خیال آیا کہ سوال پوچھیں قتل عام کروانے والے بڑوں سے؟ ہم نے سنا تھا فیڈبیک لی جاتی ہے ادارے میں اور میرٹ پر فیصلے ہوتے ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں جتنا ظلم ہوا ہے وہ کس طرح پاکستان کے حق میں ہوسکتا ہے۔ برکت ہی اٹھ گئی ہے ملک سے، ہر طرف بربادی ہی بربادی نظر آرہی ہے۔
۶) جب یہ ظلم کا زمانہ ختم ہوگا اور جب آپ لوگوں میں جائیں گے تو اپنی کیا شناخت کروائیں گے؟ اور جب وہ پوچھیں گے کہ آپ نے کس طرح آواز اٹھائی ظلم کے خلاف تو کیا کوئی جواب ہوگا؟
۷) جب آپ کے بچے بڑے ہوں گے، تو وہ کس طرح آپ پر فخر کریں گے اور کیا وہ اپنی شناخت میں آپ کا ذکر ک��یں گے؟
۸) ڈی چوک، مرید کے، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں کے شہداء جن کو اللہ کی فوج کے سپاہیوں نے گولیاں مار کر شہید کیا، آپ کے خواب میں اگر آکر سوال پوچھیں گے تو آپ کیا جواب دیں گے؟
فوری طور پر توبہ کرنے کا وقت ہے یہ۔ اللہ سے اور پوری قوم سے معافی مانگیں۔ بہت ہی ��لط کر رہے ہیں، آخر میں پچھتاوا ہوگا اور آگے شاید معافی کے دروازے بھی بند ہوجائیں۔ دل دکھانا مقصد نہیں ہے اس تحریر کا، پاکستانیوں کی جان قیمتی ہے، یہ احساس دلانا اور ان کو بچانے کی عاجزانہ کوشش ہے!
پاکستان زندہ باد!
@Ali_MuhammadPTI تم جیسے جرنیلی پیشاب کی کوئی جگہ نہیں
تم مردود اور بے غیرتوں نے تو خان کی زندگی کا سودا کیا ہے اپنے اپنے جرنیلوں سے اپنی کرسی کے لیے
صرف اور صرف خان کی بہنیں کھڑی ہیں خان کے لیے
کوئی بد ذات اور بے غیرت نسل کے ہو
موروثی سیاست ❌
نکلیف میں صرف اپنا خون ہے
بہنوں کی اپنے بھائی کے بنیادی انسانی حقوق بحال کروانے کی جدوجہد ۔ بہنوں کی اپنے بھائی کی آنکھ کا علاج کروانے کی جدوجہد ۔ بہنوں کی اپنے بھائی سے ملاقاتیں بحال کروانے کی جدوجہد۔
یہ غزہ فلسطین لبنان نہیں ہے، یہ بلوچستان ضلع زیارت میں کل رات مسلح دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے محب وطن پشتونوں کے بچے 21 پولیس اہلکاروں کی مسخشدہ لاشیں ہیں، جو کل رات سے زیارت کے پہاڑوں میں پڑے تھے، آج کوئٹہ پہنچائی گئی۔ جنہیں ان 15 سے 20 ایمبولینسز میں بھی نہیں کھلے ویگنوں میں ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر کویٹہ سول ہسپتال پہنچائی گئی۔
تاریخ گواہ ہے، پاکستان کی سر زمین قدرتی آفتوں سے کم اور
اقتدار کی ہوس کے مارے ان ‘جھوٹے جرنیلوں’ سے زیادہ تباہ
ہوئی ہے
صرف سال اور چہرے بدلے ۔۔۔ انکا جھوٹ نا بدلا !!
چکوال میں سی سی ڈی کے ہاتھوں قتل ہونے والی 9 سالہ ہانیہ احمد کے والد عدیل احمد نے پولیس کی کارروائی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں سب انسپکٹر اور کانسٹیبل نے زبردستی ان سے سادے کاغذ پر دستخط کروائے،ڈی پی او کو دی گئی درخواست میں 9 سالہ ہانیہ احمد کے والدعدیل احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ وقوعے کے دوران ڈاکوؤں نے کوئی فائرنگ نہیں کی تھی بلکہ واقعہ کانسٹیبل کی سیدھی فائرنگ کے باعث پیش آیا۔والد کے مطابق تھانہ سٹی کے سب انسپیکٹر احسن عبداللہ نے وقوعے کو غلط رنگ دیا، جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پولیس خدمت کاؤنٹر پر تعینات سپاہی نے ان کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کی۔عدیل احمد نے مزید الزام لگایا کہ سب انسپیکٹر اور سپاہی نے علاج شروع ہونے سے پہلے سادے کاغذ پر زبردستی دستخط کرائے۔عدیل احمد نے متعلقہ سب انسپیکٹر اور کانسٹیبل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
@SdqJaan@javerias@asmashirazi@Aadiiroy2@MaryamNSharif@Marriyum_A@AzmaBokhariPMLN@hinaparvezbutt@PakPMO@OfficialDPRPP@GovtofPunjabPK@siasatpk@AsadAToor@AnsarAAbbasi
چکوال میں 9 سالہ ہانیہ احمد کی ہلاکت صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں، بلکہ پنجاب میں بگڑتے ہوئے امن و امان اور نظام کی ناکامی کی ایک اور مثال ہے۔ جب ملک پر نکمے اور نااہل حکمران مسلط ہوں جن کا فوکس اپنی سیاست اپنی زات اور اپنی بقا ہو تو عوام کی حفاظت پر معمور ادارے ذاتی خدمتگار بن کر رہ جاتے ہیں۔
ہانیہ احمد کو ڈاکوؤں نے نہیں بلکہ سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ نے نگل لیا۔ ایک ایسا ادارہ جسے عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا، اسی کے اہلکار کی گولی نے ایک معصوم بچی کی جان لے لی۔
المیہ صرف یہ نہیں کہ ایک بچی مار دی گئی، بلکہ اس کے بعد متاثرہ خاندان کو انصاف دینے کے بجائے دباؤ، بدسلوکی اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہانیہ کے والد کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے واقعے کا رخ بدلنے کی کوشش کی اور ان سے زبردستی کاغذات پر دستخط کروانے کی کوشش کی گئی۔
یہ اس نظام کی ناکامی ہے جہاں طاقت رکھنے والے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگیں۔ پنجاب پولیس عوام کے تحفظ کے بجائے عوام پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن چکی ہے اور لاقانونیت عروج پر ہے۔
ذمہ داروں کا احتساب، شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندان کو انصاف دینا سراسر ریاست کی ذمہ داری ہے۔