@MirMAKOfficial ہمارے علماء ہمیشہ دنیا سے کوسوں دور رہنے پر مصر رہتے ہیں، زمانے کے تقاضوں سے نابلد، حلال حرام کے چکر سے باہر نکلیں تو انہیں سمجھ آئے نا
یہ لوگ فلسطین اور لبنان کے بیگناہ مسلمانوں بالخصوص بچوں کے مسلسل ہونے والے قتلِ عام یا ایران پر چھائی تباہی پر نہیں بولیں گے
#زیارت میں ہونے والے واقع کی اصلی واقع
کل رات کو فوج نے پولیس کو خالی ہاتھ کر کسی خالی واٹر ٹینک پھر ڈیوٹی کرنے کی ہیے بھیجا اور وہاں ان لوگوں نے مسلح لوگوں کو بیٹھایا تھا جب پولیس والے وہاں گئی ان کو قتل کردیں
فوج نے کیوں وہاں پولیس بھیجی اور اسلحہ کیوں نہیں دیا
پاکستان کی تاریخ کے وہ اوراق جو ہمیں کتابوں میں نہیں پڑھاۓ جاتے۔
🚷 قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے
🚷 اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا:
’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔ ‘‘
⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
👈 مصنف: قیوم نظامی
🚷 قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا۔
⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: گوہر گزشت
👈 مصنف: الطاف گوہر
🚷 دراصل تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لیے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تھی مگر وہ وہاں جا کر مہاراجہ پٹیالہ کی محبوبہ پر عاشق ہو گئے اور اپنا بیشتر وقت اسکے ساتھ گزارنے لگے اور فسادات پہ کوئی توجہ نہیں دی۔ جس پر قائد آعظم نے سزا کے طور پر انکو ڈھاکہ بھیجا تھا۔
⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: گوہر گزشت
👈 مصنف: الطاف گوہر
🚷 اپنی اس تنزلی پر ایوب خان بہت رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے قائد آعظم کے احکامات کے برخلاف اسوقت کے فوجی سربراہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی سے مدد مانگی۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے دوست کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔
⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: گوہر گزشت
👈 مصنف: الطاف گوہر
🚷 لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ جس ایوب خان سے قائداعظم اسقدر نالاں تھے اسی ایوب خان کو لیاقت علی خان نے اسوقت کے سینئرترین جنرل، جنرل افتخار پر فوقیت دے کر فوج کا سربراہ بنا دیا۔ ک اور جنرل افتخار کو فضائی حادثے میں مروا دیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے بھی انکے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی اور دیگر رفقاء نے اہم کردار ادا کیا۔
🚷 اور بد نصیبی دیکھئے، وہی ایوب خان پاکستان کا پہلا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا اور پاکستان پر گیارہ سال گک حکومت کرتا رہا۔
⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: The Crossed Sword
👈 مصنف: شجاع نواز
🚷 قائد آعظم خاص جمہوری انداز میں مملکت چلانا چاہتے تھے۔ اور اسی حوالے سے کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں، حکومت کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔
🚷 اور بعد زاں وہی جنرل اکبر لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوا اور تقریباََ پانچ سال جیل میں رہا
🚷 اور بد نصیبی دیکھئیے، عدالت سے غداری کی سزا کاٹنے والے، اسی جنرل اکبر کو 1973 میں بھٹو صاحب، قومی سلامتی کونسل کا رکن نامزد کر دیتے ہیں
⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
👈 مصنف: قیوم نظامی
🚷 بانی پاکستان جون 1948 میں سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں گفتگو کے دوران انکو اندازہ ہوا کہ اعلیٰ فوجی افسران اپنے حلف کے حقیقی معنوں سے واقف نہیں ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسران کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا، اور انہیں احساس دلایا کہ انکا کام حکم دینا نہیں صرف حکم ماننا ہے۔
⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
👈 مصنف: قیوم نظامی
🚷 بعد کے ادوار میں فوجی جرنیلوں نے اس حلف کی اتنی خلاف ورزی کی کہ ائیر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا کہمیری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘ 🔹
⏪ بحوالہ:
👈 کتاب: جنرل اور سیاست
👈 مصنف: اصغر خان
جنرل گریسی جب اپنے پیشہ ورانہ دورے پر لاہور گئے تو کرنل ایوب کو دیکھا اور بلا کو پوچھا کہ "آپ کو تو ڈھاکہ میں رپورٹ کرنی تھی تو آپ یہاں کیا کر رہے ہیں"جس پر ایوب خان نے کہا کہ وہ کراچی لیاقت علی خان سے ملنے جا رہے ہیں۔۔اس پر جنرل گریسی نے ایوب کے کورٹ مارشل کے آرڈر کیئے اور انہیں اپنے ساتھ کراچی لے آئے۔
بحوالہ میموریز آف اے سولجر ۔۔جنرل وجاہت حسین"سیکریٹری جنرل گریسی"
حاصلِ کلام: 👈❤👉
جس دن ہم نے اپنی نئ نسل کو پاکستان کی اصل تاریخ پڑھانا شروع کردی اسی دن سے پاکستان ترقی کرنا شروع کر دے گا۔
تحریر: مسعود زیدی
میرے شوہر سلمان رضا اور ان کے دوست جنید جہانگیر کو یو اے ای میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں الیکٹرک شاکس (بجلی کے جھٹکوں) سمیت ہولناک تشدد کا سامنا ہے۔ سلمان کے دانت کھینچ لیے گئے، بغیر اینستھیزیا (بغیر بے ہوش کیے) ان کی سرجری کی گئی،اور ان کی پسلیوں پر بے دردی سے تشدد کیا گیا ۔ جنید (جن کی نظر -3.5 ہے) کو ان کی نظر کی عینک دینے سے انکار کر دیا گیا ہے اور انہیں تنہائی (آئسولیشن) میں رکھا گیا ہے۔
براہِ کرم انصاف کے لیے مداخلت کریں۔ یہ ہمارے خاندان کے لیے انتہائی مشکل وقت ہے۔ میں آپ سے عاجزانہ درخواست کرتی ہوں کہ یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کر کے اس مسئلے کو اٹھائیں۔ براہِ کرم ان کی بحفاظت رہائی کو یقینی بنانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمیں اس وقت آپ کی تعاون کی شدید ضرورت ہے۔۔
#JusticeForJunaidAndSalman
@SohailAfridiISF@MeenakhanAfridi@YarMKNiazi
امریکی سفیر نے القدس میں فلسطینی مسلمان کی زمین کو صرف ایک ڈالر میں 99 سال تک لیز پر حاصل کرلیا
یہاں امریکا نے سفارت خانہ قائم کیا
اور یہ زمین دراصل ایک فلسطینی خاندان کی ہے جہاں سے جبرا اس خاندان کو نکالا گیا تھا
یہ ہے قبضہ یہ ہے ظلم یہ ہے دہشت گردی
یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔
میرے مالی حالات اچھے نہیں،شوہر کوحکومت کی طرف سے ریڑھی نہیں دی گئی۔
شوہر 400 روپے کماتا ہے، بارش سے چھت ٹپکتی تھی، جس کی وجہ سے چھت پکی کروائی تھی۔
لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں زخمی خاتون ٹیچر کی گفتگو
⚫️ اسرائیلی فوجی نے اس ننھی بچی پر 355 گولیاں برسائیں۔
بچی نے شہید ہونے سے پہلے امدادی اہلکاروں سے کہا:
"میں اس لیے بات نہیں کر رہی کیونکہ میرے منہ سے خون بہہ رہا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ میری قمیض گندی ہو، تاکہ میری امی کو تکلیف نہ ہو۔”
صہونیت کا خاتمہ ضروری ہے @Timesofgaza
Govt should realise that these footages will harm the Kashmir issue and bring further embarrassment to the government at home and abroad. Is AJK now a no go territory for Pakistani’s?
سیالکوٹ کے زندہ دل لوگ اس بچے کو اپنوں سے ملانے میں مدد کریں
اس بچے کا نام گھر میں کیا تھا اور والدین کے کیا نام تھے یہ اسے یاد نہیں ہے۔
ابھی اسکا نام کاشف ہے۔
کاشف کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سال کی عمر میں گھر سے بچھڑ گیا تھا آج تک نہیں معلوم کہاں سے اور کیسے بچھڑا تھا۔
بس بچپن کی تصویر موجود ہے۔
ہم نے انکے ڈاکومںٹس چیک کئے تو اسمیں بازیابی کا شہر ڈسکہ سیالکوٹ لکھا تھا۔ اور سال 2016 لکھا تھا۔ ڈسکہ سے لاوارث ملا تھا۔ لاہور کے ایک شیلٹر پہنچا اور پھر وہاں سے کراچی منتقل ہوا۔
اور یہ بھی ممکن ہے کسی دوسرے شہر کا ہو۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو اتنا عام کریں کہ اگر انکا خاندان پاکستان سے باہر بھی کہیں ہو تو ان تک بات پہنچ جائے۔
آپکا ایک شئیر کسی دکھی ماں کو اسکا لخت جگر دلوا سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
29 june 2026
+923162529829
#waliullahmaroof