ضلع صوابی کے رہنے والے ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنیشن کامران خان جب اپنے گاؤں جا رہے تھے، تو انہوں نے راستے میں ایک نہر کے پاس دل دہلا دینے والا منظر دیکھا۔ ایک تین سال کا معصوم بچہ نہر میں ڈوب گیا تھا اور اس کے گھر والے اسے مرا ہوا سمجھ کر رو رہے تھے۔
ایسے میں کامران نے فوراً اپنی ڈیوٹی کا فرض نبھایا اور بچے کو مصنوعی سانس (سی پی آر) دینا شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر کی کوشش کے بعد بچے کی سانسیں واپس آ گئیں اور اس کی جان بچ گئی
بأي ذنبٍ يعيش هؤلاء الأطفال هذا الرعب؟ 💔
مشهد يدمي القلوب لطفل يحاول عبثاً الهروب من أصوات القصف والانفجارات. طفولتهم تضيع بين الركام.
#غزة_تحت_القصف#الإنسانية
پنجاب کے جج صاحبان اور جوڈیشل افسران اپنے زیر استعمال حکومتی گاڑیاں صرف 2 لاکھ سے 3 لاکھ تک میں خرید سکیں گے. دو ہزار افسران اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔ کیوں؟ آخر کیوں؟ پاکستان کے ہر شہری کو لاکھوں کے قرضے میں ڈال کر یہ لوگ صرف عیاشی کرتے ہیں اور کچھ نہیں.
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلاز�� کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
آپ واپڈا آفس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ میرا میٹر خراب ہے آپ کی مہربانی اسے ٹھیک کردو ۔
آگے سے واپڈا والے اٹھ کر آپ کی دھلائی شروع کردے اور کہے کہ ہر سال ہمارے درجنوں اہلکار کھمبے پہ چڑھ کر کرنٹ لگنے سے شہید ہوجاتے ہیں اور تمہیں میٹر کی پڑی ہوئی ہے غدار ۔
یا آپ بس کی ٹکٹ کرانے جاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ بس کے ایک ٹائر سے ٹیوب نکلا ہوا ہے آپ کمپنی سے کہتے یار اس ٹائر کو ٹھیک کردو ورنہ یہ پھٹ جائے گا اور ہم سب مر جائینگے آگے سے بس والا تمہیں اٹھا کر پٹخ دے کہ اکیلے تم نہیں مروگے ہمارے ڈرائیور بھی شہید ہورہے ہیں۔
تو آپ یہ نہیں کہو گے کہ حضور لائن مین اور ڈرائیور حضرات نے جانتے ہوئے بھی کہ اس پروفیشن میں جان کو خطرات ہوتے جوائن کیا ہوا ہے اور اپنی مرضی سے کیا ہے اور اسی کی انھیں تنخواہ ملتی تو کیا اب وہ ہمارا میٹر بنانے سے انکار کرسکتے ؟
یا ہمیں پھٹے ہوئے ٹائر کے ساتھ کوئٹہ سے کراچی لے جانا شروع کردینگے ؟
پاکستان کے سابق آرمی چیف مشرف کی ویڈیو ہے جس میں وہ فوجی جوانوں کی جان ضائع ہونے پہ کہتے کہ کیا ہوگیا ہے وردی پہنی ہے تو اس میں مر مرانا ہوجاتا اس میں احسان کی کیا بات ہے نہیں پسند تو گھر جاو فوج میں کیوں ہو ۔
سو بات مختصر یہ نہ ہی واپڈا اہلکار پیسوں کے لئے خود کو کرنٹ لگوانے جاتا نہ ہی ڈرائیور خود کو کھائی میں گرانے کے لئے ڈرائیونگ کرتا نہ ہی فوجی یا پولیس مرنے کے لئے فوج میں جاتے یہ سب انکا پروفیشن ہے ذرائع آمدنی ہے انکی ڈیوٹی ہے اور اس میں جان بھی جا سکتی اگر نہیں پسند تو گھر جائے احسان نہ کرے ۔
فوج سے زیادہ سویلین شہید ہورہے ہیں جنہیں مرنے کی نہ تنخواہ ملتی نہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنی سوچوں میں مگن ہوتا کہ کئی سے آکر راکٹ لگ جاتا ہے نہ مرنے پہ انھیں پنشن ملتی نہ کوئی اسکی تعریف کرتا ۔
البتہ کل سے ایک بات کی سمجھ آگئی اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن ابھی تک 90 کی دہائی میں پھنسی ہوئی ہے اچانک انکو مولانا صاحب کی کرپشن بھی یاد آگئی ہے اور تو اور ایک پٹوارن نے احسان جتلانے کے لئے ایک چارٹ بنایا ہوا کہ مولانا صاحب تین بار ایم این اے بنے ہیں یعنی اب عوام کے منتخب کرنے کا احسان بھی یہ ڈفر ہم پہ ڈالیں گے ؟
پارلیمنٹ نہ ہوا انکا فارم ہاوس ہوگیا ۔
فضل خان بڑیچ
@fazalbarech444
#مولانا_کی_للکار
#پرو��یگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
Israël vient de bombarder une famille palestinienne
Ce que vous voyez au sol et le corps d'un enfant . Il lui manque sa moitié déchiqueté par le bombarderment
Israël tue et cible volontairement il n'y à aucune erreur ou dommage collatéral
انسانی تاریخ کا ایک انتہائی سفاکانہ منظر لیک ہو گیا ہے۔
ایک ایسی ویڈیو جسے دنیا کبھی نہیں بھولے گی۔
اسرائیلی طیارے کی فوٹیج میں ہزاروں بھوکے فلسطینیوں کو امدادی ٹرک کی طرف بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے، پھر بمباری کر کے سب کو ہلاک کر دا گیا
میں آپ کو بتاؤں عمران خان صاحب کے پاس جو پلان لے کے گئے تھے، میں ساتھ تھا اس میں۔ عمران خان صاحب نے اس سے پہلے کہ یہ لوگ، پانچ چھ لوگ تھے ہم۔ سلمان اکرم راجہ صاحب تھے، علی امین گنڈاپور صاحب تھے، صاحبزادہ حامد رضا میرا بھائی جو بے گناہ جیل میں ہے، تو خان صاحب نے بیٹھتے ہی کہا، "میں نے، پہلے میری بات سنو، میں نے بنی گالا نہیں جانا ہے۔"
"میں نے کوئی کمپرومائز نہیں کرنا ہے۔ میرے ساتھ والے لوگ جو ایک جملہ لکھ کے دے دیتے باہر آ جاتے۔ وہ جیل میں رہیں اور میں جنابِ والا ڈیل کر کے تو جا کے ادھر بیٹھ جاؤں؟ میں نہیں جاؤں گا۔ اور یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔" "میں پہلے وقت نہیں ہوتا تھا، قرآن پڑھتا ہوں تو پہلے ایک ترجمہ ابھی میرے پاس کئی ترجمے ہیں یا تفسیریں ہیں، مجھے اب صحیح یاد نہیں ہے۔" چار پانچ کی انہوں نے بات کی تھی۔ "دعا کرتا ہوں، پہلے نماز جلدی جلدی پڑھتا تھا، اب اطمینان سے نماز پڑھتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں۔ یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔
قائد حزب اختلاف سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
ابو فوت ہو گئے ہیں کوئی کمانے والا نہیں ریڑھی لگاتا ہوں تو وارڈن والے اٹھا لیتے ہیں
گھر میں اس قدر فاقے ہیں ہمیں زہر کے ٹیکے لگا کر ما دیں معصوم بچہ رو پڑا