مریم نواز کے حوالے سے پچھلے دنوں بہت سی خبریں چلیں کہ نجانے کیا ہونے والا ہے مگر مریم نواز کی کارکردگی اور ان پر اعتماد کام دکھا گیا کہ فوج کی تقریب میں مریم نواز کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا اور وہ ٹک ٹاک والے سٹار اور آصفہ بھٹو کہیں نظر نہیں آئے
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بحال ہونے کا کریڈیٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے کیونکہ عمران خان نے سُپر پاور سے تعلقات کو بگاڑ دیا تھا
“میری ذمہ داری ہے کہ ملک میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔ نیا ٹیلی کام بل 6 ماہ قومی اسمبلی میں زیرِ غور رہا اور پیپلز پارٹی کے تعاون سے منظور ہوا۔ سینیٹ کمیٹی میں بھیجنا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ اس بل کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی ذاتی زمین پر قبضہ کیا جائے گا۔ میرے اور سیکریٹری آئی ٹی کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا اور مالی الزامات لگائے گئے، جن پر قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔” وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ
اسحاق ڈار صاحب سے ذاتی نوعیت کا تعلق ہے انکی شخصیت سے بہت اچھی طرح واقف ہوں ، جس شخص کے لئے درود پاک ورد زباں ہو صوم و صلات کا پابند ہو وہ کسی بدکردار کا حامی ہو ہی نہیں سکتا اِسی طرح آپ علی ڈار سے ملیں تو آپکو اندازہ ہو گا کہ اس شخص پر اخلاقیات ختم ہیں-
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اگر غیر جانبدارانہ ایکشن کا حکم دیا تو اس پر داد نہ دیں تو سیاست بھی مت کریں
جی بی اے 16 دیامر 2 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار انجینئر محمد انور کی انتخابی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ عوامی خدمت، ثابت قدمی اور علاقے کی ترقی کے لیے مسلسل جدوجہد نے انہیں حلقے کی ایک مضبوط سیاسی آواز بنا دیا ہے۔ عوام کا بڑھتا اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ 7 جون کو ترقی، کارکردگی اور خدمت کی سیاست کو بھرپور پذیرائی ملے گی۔
#GBSherKa #SherGBMein
محمد نواز شریف صاحب کو لندن قیام کے دوران کہا گیا کہ آپ کچھ برٹش MPs سے ملاقات کریں اور اپنے ساتھ ہونے والی عدالتی ناانصافیوں اور انکے محرکات پر بات کریں تو انہوں نے ایک لمحہ سوچے بغیر انکار کرتے ہوئے پاکستان کو مقدم رکھا-
ایسی انگریزی اور بولنے والے پر لعنت جو خود کو پاکستان سے بالا سوچے-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرصدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ مجموعی سیکیورٹی صورتحال، کچہ آپریشن، غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلا اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔