Working @ Private Telecom Company
Staying Positive and forsee a good future of Pakistan through real democracy. Wish pakistan were a social welfare state.
7 فروری: سارا الیکشن فکس ہے، ن لیگ کو اکثریت دی جائے گی۔
8 فروری: ہمارا خان چھاگیا ہے۔
9فروری: ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئ ہے۔
10 فروری: ہم وفاق، پنجاب اور کےپی میں حکومت بنائیں گے۔
10 فروری : ہم اتوار 11 فروری کو احتجاج کریں گے۔
11 فروری: ہمارے سارے منتخب لوگ اپنے استعفے جمع کرادیں۔
بس بتانا یہ تھا کہ یہ سب متضاد شگوفے چند ہی دنوں میں ہمارے سب سے با شعور لوگوں نے چھوڑے ہیں۔
بشکریہ : عثمان الدی��
ٹیلی نار پاکستان کی فروخت کے بارے میں حالیہ خبروں کے تناظر میں ہم اپنے معزز صارفین کو یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے آپریشنز معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔ٹیلی نار ما ئیکرو فنانس بینک اور اس کا فلیگ شپ پروگرام ایزی پیسہ اس فروخت کاحصہ نہیں ہے۔آپ کے ڈیپازٹس مکمل طور پر محفوظ ہیں اور اس پیش رفت سے وہ کسی طور پر بھی متاثر نہیں ہونگے۔
1/3
علامہ محمد اقبالؒ سے منسوب غلط اشعار۔
وہ اشعار جو علامہ اقبال کے نہیں ہیں مگر ان کے نام سے منسوب ہیں ۔ تحریر لازمی پڑھیں اور جس حد تک ممکن ہے شئیر بھی کریں اور کاپی پیسٹ بھی کر سکتے ہیں:
ہم سب چونکہ گلوبل ورلڈ سے وابستہ لوگ ہیں اور انٹرنیٹ کی دُنیا میں اور بالخصوص فیس بُک پر علامہ اقبالؒ کے نام سے بہت سے ایسے اشعار گردِش کرتے ہیں جن کا اقبال کے اندازِ فکر اور اندازِ سُخن سے دُور دُور کا تعلق نہیں۔ ک��امِ اقبال اور پیامِ اقبال سے محبت کا تقاضا ہے، اور اقبال کا حق ہے کہ ہم ایسے اشعار کو ہرگز اقبال سے منسوب نہ کریں جو اقبال نے نہیں کہے۔ ذیل میں باقاعدہ گروہ بندی کر کے ایسے اشعار کی مختلف اقسام اور مثالیں پیشِ کی جا رہی ہیں
1۔ گروہِ اول:
پہلی قسم ایسے اشعار کی ہے جو ہیں تو معیاری اور کسی اچھے شاعر کے، مگر اُنہیں غلطی سے اقبال سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ ایسے اشعار میں عموماََ عقاب، قوم، اور خودی جیسے الفاظ کے استعمال سے قاری کو یہی لگتا ہے کہ شعر اقبال کا ہی ہے۔
مثال کے طور پہ
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے
- سید صادق حسین
اسلام کے دامن میں اور اِس کے سِوا کیا ہے
اک ضرب یَدّ اللہ اک سجدہِ شبیری
- وقار انبالوی
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپن�� حالت کے بدلنے کا
- ظفر علی خان
2۔ گروہِ دوئم:
پھر ایسے اشعار ہیں جو ہیں تو وزن میں مگر الفاظ کے چناؤ کے لحاظ سے کوئی خاص معیار نہیں رکھتے یا کم از کم اقبال کے معیار/اسلوب کے قریب نہیں ہیں۔
مثالیں
عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
-سرفراز بزمی
تِری رحمتوں پہ ہے منحصر میرے ہر عمل کی قبولیت
نہ مجھے سلیقہِ التجا، نہ مجھے شعورِ نماز ہے
- نامعلوم
سجدوں کے عوض فردوس مِلے، یہ بات مجھے منظور نہیں
بے لوث عبادت کرتا ہوں، بندہ ہُوں تِرا، مزدور نہیں
- نامعلوم
3۔ گروہِ سوئم
بعض اوقات لوگ اپنی بات کو معتبر بنانے کے لئے واضح طور پر من گھڑت اشعار اقبال سے منسوب کر دیتے ہیں۔ مثلاََ یہ اشعار غالباََ شدت پسندوں کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف اقبال کے پیغام کے طور پر ��ستعمال کئے جاتے ہیں
مثلاً ایسے اشعار
اللہ سے کرے دور ، تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
- سرفراز بزمی
4۔ گروہِ چہارم:
اِسی طرح اقبال کو اپنا حمایتی بنانے کی کوشش مختلف مذہبی و مسلکی جہتوں سے بھی کی جاتی ہے۔ جبکہ اِن کا اقبال سے دُور دُور تک کوئی تعلق بھی نہیں ہے بلکہ افکارِ اقبالؒ سے ظلم ہے ۔
مثلاََ
وہ روئیں جو منکر ہیں شہادتِ حسین کے
ہم زندہ وجاوید کا ماتم نہیں کرتے
- نامعلوم
بیاں سِرِ شہادت کی اگر تفسیر ہو جائے
مسلمانوں کا کعبہ روضہء شبیر ہو جائے
- نامعلوم
نہ عشقِ حُسین، نہ ذوقِ شہادت
غافل سمجھ بیٹھا ہے ماتم کو عبادت
- نامعلوم
5۔ گروہِ پنجم
پانچواں گروپ 'اے اقبال' قسم کے اشعار کا ہے جن میں عموماََ انتہائی بے وزن اور بے تُکی باتوں پر انتہائی ڈھٹائی سے 'اقبال' یا 'اے اقبال' وغیرہ لگا کر یا اِس کے بغیر ہی اقبال کے نام سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ اِس قسم کو ��ہچاننا سب سے آسان ہے کیونکہ اِس میں شامل 'اشعار' دراصل کسی لحاظ سے بھی شعری معیار نہیں رکھتے اور زیادہ تر اشعار کہلانے کے لائق بھی نہیں ہیں۔ مثالیں
کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبال
وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرے پروردگار سے؟
تیرے سجدے کہیں تجھے کافر نہ کر دیں اقبال
تُو جُھکتا کہیں اور ہے اور سوچتا کہیں اور ہے!
دل پاک نہیں ہے تو پاک ہو سکتا نہیں انساں
ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت
مسجد خدا کا گھر ہے، پینے کی جگہ نہیں
کافر کے دل میں جا، وہاں خدا نہیں
کرتے ہیں لوگ مال جمع کس لئے یہاں اقبال
سلتا ہے آدمی کا کفن جیب کے بغیر
میرے بچپن کے دِن بھی کیا خوب تھے اقبال
بے نمازی بھی تھا، بے گناہ بھی
وہ سو رہا ہے تو اُسے سونے دو اقبال
ہو سکتا ہے غلامی کی نیند میں وہ خواب آزادی کے دیکھ رہا ہو
گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے
ہچکچا گیا میں خود کو مسلماں کہتے کہتے
یہ سن کہ چپ سادھ لی اقبال اس نے
یوں لگا جیسے رک گیا ہو مجھے حیواں کہتے کہتے
۔
آخر دو گروہ شرارتی ہیں جو نچلی سوچ کے ساتھ اقبال پر حملہ آور ہیں- آپ ہمیشہ دیکھیں گے کہ یہ ایک خاص گروہ کے لوگ شئیر کر رہے ہوتے ہیں جو تصحیح کے بعد بھی نہیں ہٹاتے اور کچھ وقفہ کے بعد پھر شئیر کرتے ہیں- کچھ بے چارے اقبال کو نہ جاننے کی وجہ سے ان آخری اشعار کو اقبال کا کلام سمجھ کر شئیر کرتے ہیں مگر تصحیح کرنے پر ہٹا بھی لیتے ہیں-
منقول
یوتھیاپا ایک مرض ہے۔ابتداء میں تو اس مرض کاعلاج ممکن ہوتا ہےلیکن تھوڑی سی بھی لاپرواہی ہوتویہ مرض جان لیواہو جاتا ہے۔
اسکے سامنے ایٹم بم کا ذکر آئے تو گٹر کے ڈھکن کو لے آتے ہیں، کہ "گٹر کاڈھکن بنا نہیں سکتے بڑے آئے ایٹم بنانے والے"
شرعی قوانین کی بات ہو تو کہتے ہیں "کونسی شریعت، شیعہ کی؟ سنی؟ یا دیوبندی بریلوی اہلحدیث کی؟؟
موٹر وے بنے تو اسکول کالج ہسپتال کا تخمینہ لگانے لگتے ہیں کہ
"ہائے ہائےاتنے میں تو اتنی فلاں فلاں چیز بن جاتی"
اسکول یا کالج بنے تو کہتے ہیں
" نقل سے تو قوم امتحان دیتی ہے اور نا ہی معیاری اساتذہ ملتے ہیں"
ہسپتال بنے تو کہتے ہیں
"ہسپتال اسلئے بنواتے ہیں کہ مشینری درآمد کروانے میں کمیشن ملتا ہے"
ملک میں امن ہو تو کہتے ہیں
" حکومت اور حساس اداروں کی دہشت گردوں سے ڈیل ہوگئی"
اور جب بم دھماکے ہوں تو ٹوٹی کمر سے حملے کے طعنے دیتے ہیں اور وہ 80 فیصد بجٹ گنواتے ہیں جو کبھی 18 فیصد بھی نہیں ہوا.
آٹا مفت بانٹیں تو کہیں گے اس سے آٹا سستا دے دیتے تو بہتر تھا،
ڈالر سستا ہو تو کہیں گئے ڈالر کا عوام نے کیا کرنا ہے،
سڑکیں بنیں تو کہیں گے سڑکیں عوام نے چاٹنی ہیں،
لیپ ٹاپ دیں تو کہیں گئے لیپ ٹاپ سے روٹی نہیں پوری ہوتی۔
پاکستان میں چشمہ پاور پلانٹ کا افتتاح ہوا تو یہ مذاق بنا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بھارتی خلائی مشن پر ناچ ناچ کے گھنگرو توڑ رہے ہیں.
یہ ہی خلائی مشن پاکستان بھیجتا تو یہ زومبیز کہتے "اتنا پیسہ ضائع کیا ہے کوئی تعمیری کام کرتے" ، غریبوں میں بانٹ دیتے یہ کرلیتے وہ کرلیتے.
قنوطیت، احساس کمتری کے شکار سوشل میڈیا پر شہرت کے متلاشی یہ لوگ ہر تعمیری کام سے تخریب کو جوڑیں گے
جب جب پاکستانی قوم کسی مثبت کام کے لئے یکسو ہو یا ملک میں کچھ بھی تعمیری ہو یہ اپنی بےشرمی ڈھٹائی اور بے غیرتی کا منجن بیچنے آ جاتے ہیں۔
اللہ انکو احساس کمتری کی اس بیماری سے نجات دلاۓ۔آمین
2-میجر جنرل احمد بلال حسین(2010-2016) MSc
3-میجر جنرل قیصر انیس خرم (2016-2018) BSc
4-میجر جنرل عامر ندیم (2018 تا تاحال)
پس ثابت ہوا کہ چاند پر جانے اور چاند چڑھانے میں بہت فرق ہوتا ہے
پاک فوج زندہ آبا��-2/2
آئی ایم ایف سے معاہدے میں حکومت بجلی اور پیٹرول مہنگا کرنے کا منصوبہ پیش کرتی آپ چیک کیجئے سرکاری ملازمین 34کروڑ یونٹ پھونک گے
پھر ای��ے شہر اور علاقے جہاں 80فیصد لوگ بجلی کا بل نہی دیتے
ایک ایک ریٹارڈ جج 2000یونٹ مفت لیتا
ابھی مفت پیٹرول کتنے ہزار لیٹر سرکاری ملازمین پھونکتے یہ معلوم نہی
اس سب کا تاوان مہنگی بجلی اور پیٹرول وہ چند عوام بھرتی جو بجلی کے بل ادا کرتی ہے
یہ ہے مسلمانوں کے لیے بنائی گی دنیا کی واحد ریاست کا انصاف