عمران خان تو ہے، اور عمران خان تو رہے گا۔
ذرا دنیا کو غور سے دیکھیے۔ آج فرانس میں طلبہ اور نوجوان بہتر تعلیمی حالات کے لیے مسلسل سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت کو جواب دینا پڑ رہا ہے، وزراء کو وضاحتیں دینی پڑ رہی ہیں۔
یہی تو اصل بات ہے!
دنیا کے کسی بھی معاشرے میں جب لوگوں کے اندر سوال پیدا ہو جائے، جب انہیں اپنے حق کا شعور آ جائے، تو پھر اسے محض بیانات، وعدوں یا چند نمائشی اقدامات سے دوبارہ خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
ہم نے پچھلے چند برسوں میں ایک جملہ خان سے بار بار سنا ہے:
'جب شعور کا جن بوتل سے باہر آ جائے تو اسے واپس بوتل میں نہیں ڈالا جا سکتا۔'
شاید عمران خان کی اصل اہمیت بھی یہی ہے۔
یہ کہنا نہیں کہ ہر احتجاج عمران خان کا ہے، یا دنیا کے ہر سیاسی واقعے کو ان سے جوڑ دیا جائے۔ بات اس سے کہیں بڑی ہے۔ بات ایک ایسے سیاسی شعور کی ہے جو ایک بار لوگوں کے ذہن میں داخل ہو جائے تو پھر اسے ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں مجھے عمران خان کی ایک اور خصوصیت نظر آتی ہے۔
وہ صرف درویش نہیں، دور اندیش بھی ہے۔
شاید اسی لیے بعض باتیں اپنے وقت سے پہلے کہی جاتی ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کا مطلب زیادہ واضح ہوتا جاتا ہے۔
عمران خان آج جیل میں ہو سکتا ہے، مگر جس شعور کی بات اس نے کی تھی، وہ جیل میں نہیں ہے۔
اور شعور جب معاشرے میں پھیل جائے تو پھر کسی ایک شخص کو خاموش کرنے سے کہانی ختم نہیں ہوتی۔
یہی فرق ایک شخصیت اور ایک سیاسی خیال میں ہوتا ہے۔
ندیم ملک صاحب عطاء اللہ تارڑ صاحب سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا لندن سے عمران خان کیلئے ڈاکٹر بلایا تھا؟ جواب ملا بالکل نہیں بلایا تھا، ندیم ملک بار بار کہہ رہے ہیں کہ میں نے نوید قمر سمیت کئی لوگوں سے یہ بات کنفرم کی ہے سب نے کہا کہ یہ بات ہوئی ہے میٹنگ میں لیکن تارڑ صاحب ضد پر اڑے رہے
آخر رانا ثناء اللہ صاحب نے تارڑ صاحب کی طلعت حسین صاحب کے پروگرام میں مٹی پلید کر دی، یہ حالت ہے حکومت کی، اب بندہ کہہ کہ سنت رسول ص رکھ کے ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا کوئی ان سے سیکھے
خوفناک اعداد و شمار۔۔۔۔
یہ محض اعداد و شمار نہیں یہ جیتے جاگتے انسان تھے۔۔۔۔
خدا کیلئے اب بھی وقت ہے،غزہ کو بچانے کیلئے آگے بڑھو،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔
I hardly ever tweet about my father-in-law. Not because he is suffering any less but because I try using my platform to amplify those who have no platform of their own.
There are so many people in prison who cannot tell their stories, defend themselves or speak about what they are enduring. Their stories deserve to be heard.
That does not mean we, as a family, do not ache.
I met him last Thursday. At 78, he looked visibly weak. His diabetes has spiralled and he has lost significant weight. Yet despite everything, his spirit remains remarkably resilient.
At 78, 1242 days in jail, he continues to wait. Not for mercy but for justice, like so many other military prisoners who remain behind bars, waiting for the right to be heard.
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
Imran Khan should indeed be released. But @RichardGrenell, you duped many Pakistani-Americans with your tweets last cycle to win votes for your boss. Now, with midterms looming, you're running the same playbook. Hopefully those who voted Republican last time will see through it.
"دیکھیں مسئلہ غیر قانونی یا نا قانونی کا نہیں ہے—اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، یہ بڑے بدقسمت ہیں۔ ہمارے جتنے بھی جج ہیں، چیف منسٹرز ہیں، یہ سب 60 سال سے اوپر ہو چکے ہیں اور ان کے پاس 15 سے 20 سال باقی ہیں۔ اس 15-20 سال کو قبر سے پہلے ٹھیک کرنے کے لیے یہ اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ ان سے بڑا بدقسمت کون ہوگا؟ اللہ نے ان کو اس قوم کو ٹھیک کرنے کا موقع دیا تھا لیکن یہ الٹے راستے پر چل پڑے۔"
"جہاں تک خان صاحب اور ان کی بہنوں کا تعلق ہے، یہ تو خوش قسمت ہیں۔ جیل میں بندہ کوئی گناہ نہیں کر سکتا—نہ کسی کی غیبت کر سکتا ہے اور نہ جھوٹ بول سکتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ان کی غیبت ہو رہی ہے۔ جنید بغدادی نے فرمایا تھا کہ 'اگر میں کسی کی غیبت کروں تو اپنی ماں کی کروں، تاکہ میرے گناہ انہیں مل جائیں اور ان کی نیکیاں مجھے مل جائیں'۔ تو سوچیں اس وقت خان صاحب کو کتنی نیکیاں مل رہی ہوں گی! اور ان کی بہنیں اس جدوجہد کو سعادت اور فخر سمجھ کر کر رہی ہیں، کوئی سزا سمجھ کر نہیں—اور جو لوگ اسے سعادت سمجھتے ہوں، انہیں آپ کبھی شکست نہیں دے سکتے۔"
"یہ لوگ جتنا چاہے ظلم کر لیں، ہمارے درجات ہی بلند ہو رہے ہیں۔ آج سے 500 سال پہلے بھی فرعون جیسے لوگ تھے، اب وہ کہاں ہیں؟ اور 500 سال پہلے خان صاحب جیسے لوگ بھی تھے جو فرعونوں کے خلاف لڑتے تھے—آج 500 سال سے قبر میں ایک شخص مصیبت میں ہے اور دوسرا چین و سکون میں ہے۔ اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہمیں مصیبت والی آخرت چاہیے یا سکون والی۔ کیا یہ لوگ اللہ کو ناراض کر کے اپنی دنیا یا آخرت بنا سکتے ہیں؟ ایک آدمی نے 100 قتل کیے تھے، لیکن جب اس نے سچی توبہ کی تو اللہ نے اسے معاف کر دیا۔ اس لیے میری ان کے لیے کوئی بددعا نہیں ہے، بلکہ میں یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق دے دے۔"
عمران خان کے بہنوئی اور ڈاکٹر عظمی خان کے شوہر احد خان کی گفتگو
اس پریس کانفرنس کے بعد سلمان اکرم راجہ صاحب کے پاس اب ایک ہی راستہ ہے:عمران خان کے زندہ اور محفوظ ہونے کا قابل اعتبار ثبوت فوری مانگیں، اور خان کی بہنوں کی فوری رہائی اور خان تک رسائی دلوانے کے مطالبے سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹیں۔
صرف ایک پریس کانفرنس کر دینا کافی نہیں!!
اگر واقعی تشویش ہے تو پھر مطالبہ بھی واضح ہو، انٹرنیشل دباؤ بھی مسلسل ہو اور جب تک ثبوت اور رسائی نہیں ملتی، پسپائی نہ ہو۔
@salmanAraja@Kasim_Khan_1999
Extremely Alarming
Negotiation team admitted that Imran Khan's blood pressure was uncontrolled for weeks untill a specialist was brought in from London.
That's why fake regime refused to allow visitations or let his personal doctors examine him even for price of failure of negotiatiins, despite orders from the Supreme Court.
#IsImranKhanOkay ❓
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
A father takes his son on an incredible journey inside the human digestive system. What an extraordinary look at the complexity of the human body.
Watching this reminds us of the greatness and wisdom of Allah ﷻ. Every organ, every process and every detail works with perfect precision. Truly, in the creation of man are signs for those who reflect.
SubhanAllah. 🤲🏽❤️
13 days.
For 13 days, my mother Aleema Khan (68) and aunts Dr Uzma Khan (66) and Noreen Niazi (72), have been detained without access to their family or lawyer.
We have pursued every available avenue — the courts, the Home Secretary and the Deputy Commissioner. Yet we remain unable to see them, speak to them, or independently confirm their wellbeing.
We are now forced to return to the Lahore High Court again for something that should never have required repeated litigation: the right to have access to family and legal counsel.
@DrUzma_KhanPK@Noreen_KhanPK@Aleema_KhanPK@ImranKhanPTI
یہ بچہ توہین کرسکتا ہے؟
پورے ملک نہیں پوری دنیا سے سوال ہے!
اس نو عمر بچے نے جیل میں رہ کر حالیہ بورڈ کے امتحانات میں 1200 میں سے 1075 نمبر لیکر سب کو حیران کر دیا ہے اس کی کہانی بہت درد ناک ہے یہ نو عمر صرف چار سال پہلے حسن ابدال کالج کا 9th کلاس کا سٹوڈنٹ تھا چھٹیوں پر لاہور آیا ہوا تھا نیا نیا موبائل ملا تھا ہنی ٹریپنگ کے زریعے توہین آمیز مواد شیر کرنے کے جرم میں آج چار سال سے جیل میں ہے خوشحال والدین سڑکوں پر آگئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا روئے پئٹے گڑ گڑائے لیکن بچے کو سیشن کورٹ سے عمر قید کی سزا ہوگی کسی نے ان کی بات نہیں سنی میڈیا کے زریعے جب بلاسفیمی کے ایک جیسے ہنی ٹریپنگ کے کیسز سامنے آنے شروع ہوئے تو ان کی آواز ان کا مقدمہ سامنے آیا اس کی ماں کا کہنا ہے کہ جب جب میں بیٹے کو ملنے جاتی ہوں تو ایک بات سمجھاتی ہوں بس علم کی راہ پر چلتے رہو ہم حق پر ہیں بیگناہ ہیں اللہ ہماری مدد ضرور کرئے گا انصاف ہوگا یہ ہماری آزمائش کے دن ہیں یہ باتیں کرتے ہوئے ماں پر رقت طاری ہوگئی مجھے امید ہے ہماری عدالتیں بلاسفیمی میں پھنسے بیگناہ لوگوں کو رہائی دلانے میں اہم کردار ادا کریں گی اور ان کو یا ان جیسے نوجوانوں کو پھنسانے والے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا؟
#BlasphemyBusinessGang