یہ وہ ہے جو ایلون مسک نہیں چاہتا کہ آپ اس پلیٹ فارم پر دیکھیں۔ یہ وہی ہے جسے آپ کا میڈیا رپورٹ نہیں کرے گا۔
غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے والے فلسطینیوں کی چیخیں۔🥲
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
صبح سے فارغ بیٹھے ہیں، شام کے چھ بج گئے ہیں، ابھی تک صرف چار سو روپیہ کمایا ہے۔ پٹرول مہنگا ہو چکا ہے، سواری کرایہ نہیں دے پاتی۔ وہ کرایہ بھی کیسے دے، ان کے حالات بھی ہمارے جیسے ہو چکے ہیں۔ عوام کچھ کرے گی تو یہ مسائل حل ہوں گے۔ یہاں سچ بولو تو ڈنڈے پڑتے ہیں، جھوٹ بولو تو کامیابی ہے۔ اگر حکومت کے خلاف بولیں گے تو اٹھا کر لے جائیں گے۔ ہر طرف خوف کی فضا ہے۔
ملک میں جاری مہنگائی، بیروزگاری اور لاقانونیت کے بارے میں اوبر پر موٹر سائیکل چلا کر گزر بسر کرنے والے شہریوں کی گفتگو
یوتھیوں کا فضل الرحمان پر عدم اعتماد اجتماعی ہے۔ یہ خوش آئند امر ہے۔ بس چند عدد ٹھنڈی ہواؤں والے یوتھیے رہ گئے ہیں باقی سب کے کانسیپٹس کلئیر ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مولانا کے پاس مار کھانے والے اور مارنے والے کارکنان ہیں اس لیے فوج مولانا کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے گی۔ یہ رائے تبھی غلط ثابت ہوسکتی ہے اگر مولانا فوج کے خلاف کسی قسم کی سیاسی جدوجہد کا آغاز کریں اور فوج مولانا پر چڑھائی کرے۔ ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہر گز نہیں ہونے والا۔ مولانا ریٹ لگوانے والا اور چوری کھانے والا آدمی ہے۔ جس جمہوریت اور پارلیمنٹ کو مولانا کی فکر ستا رہی ہے اسکے رد کا فتوی بھی مولانا کی جیب میں موجود ہے۔ بلوچستان ، گلگت ، کشمیر ہر جگہ بندر بانٹ ہورہی ہے اور مولانا کو کوئی حصہ نہیں مل رہا۔ مولانا کو صرف اتنی سی تکلیف ہے۔
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
5 اگست ایک دن کا احتجاج نامنظور 🚨
@TeamiPians#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
یہ نوجوان 21 جون کو اغوا کیا گیا تھا
اور کل ظالموں نے اسے شہید کر دیا۔
یہ نوجوان ملتان کی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ طالب علم تھا۔
بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو اس طرح اغوا کر کے بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے۔
آخر ان معصوم جانوں کا قصور کیا ہے؟
کیا ان کے اہلِ خانہ آپ کو کبھی معاف کر سکیں گے؟
سہیل آفریدی کو مروت ، گنڈاپور سے زیادہ ٹائم ملا۔ سہیل آفریدی پر بوجھ بھی گنڈاپور اور مروت وغیرہ سے زیادہ آئے گا اور انجام بھی زیادہ بھیانک۔ جس ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ سہیل آفریدی اور اسکے گینگ نے کیا ہے کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ تنقید ہوئی تو کنٹینر کا پھیرا لگا آیا۔ بجٹ سرپلس دینے کا موقع آیا تو اڈیالہ جانا شروع کردیا۔ بجٹ پاس ہوگیا تو اڈیالہ جانا بند کردیا۔ جلسے جلوسوں میں بڑھکیں شروع کردیں۔ لوگ زیادہ نکلنا شروع ہوگئے تو ریلیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے پر احتجاج ہوا تو پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری اختیار کرلی۔
سائفر بھولنا مت 🚨
ڈونلڈ لو نے جب پاکستان کے سفیر اسد مجید کو دھمکی دی کہ عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹاؤ تو وہ کس کو یہ پیغام دے رہا تھا کیونکہ وزیراعظم تو میں تھا
ذہنی مریض کی تشخیص ہونے کے بعد سے اس نے صرف ایک کام میں بھرپور کامیابی حاصل کی ہے۔
اس مرض کو داخلی اور بین الاقوامی طور پر ثابت کرنا۔
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
کراچی تین تلوار پر احتجاج جاری!
تین تلوار پر ایک ڈاکٹر کو ڈاکوؤں نے بینک کے سامنے قتل کیا, ڈاکٹر کے ساتھ والد بھی گاڑی میں موجود تھے!!
پاکستان مکمل طور پر اسوقت ڈاکوؤں کے قبضے میں, پاکستان اسوقت غیر محفوظ ہے، اسلیے
کراچی, تا کشمیر اور بلوچستان احتجاج جاری ہے!
کمشنر راولپنڈی کا اعترافی بیان جس میں انہوں نے یہ تسلیم کرتےہوئے مستعفٰی ہونے کا اعلان کیا کہ انہوں نے انتخابی نتائج سےچھیڑ چھاڑ کی،جس کے نتیجےمیں محض راولپنڈی ڈویژن میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی کم ازکم 13 نشستوں سے محروم کیا گیا۔
ان کا یہ بیان ملک بھر میں انتخابی نظام کے ساتھ کئے جانے والی نہایت منظّم چھیڑ چھاڑ کی ایک ہوشربا روداد ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کی ایسی نشستیں جہاں تحریک انصاف کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل تھی، کو جعلی سازی اور دھوکے دہی سے ہروایا گیا اور عوام کو ان کے جائز مینڈیٹ سے محروم کیا گیا۔
وقت آ گیا ہے کہ ملک کی ساکھ، اس کی بہتری اور سیاسی و معاشی استحکام کیلئے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے اور اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے فارم 45 کی روشنی میں نتائج جاری کرتے ہوئے عوام کی منشا کا احترام کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف شفاف تحقیقات اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے میں ملوث افراد کیخلاف مؤثر اور بامعنی عدالتی کارروائی کابھی مطالبہ کرتی ہے۔