آج حکومت کے جاری کردہ اکنامک سروے 2026 کے مطابق آزاد کشمیر کے 63 فیصد سرکاری سکولوں میں پینے کا پانی موجود نہیں، %60 کی چار دیواری ہی نہیں، 57 فیصد میں بجلی کی سہولت میسر نہیں، %46 سکولوں میں ٹوائلٹ بھی نہیں۔ کیا ریاست کا کام صرف ڈنڈا چلانا ہی ہے یا حکومتی عہدے داروں کو ان شرمناک حقائق پر بھی کچھ توجہ دینی چاہیے؟
اسپیکر ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے اقبال آفریدی کو اسمبلی سے نکال دیا! اگر آپ باہر نہیں گے تومیں زبردستی نکلوا دوں گا ! آپ کی عزت اسی میں ہے کے چلے جائیں یہاں سے ۔ ۔
#HumNews
اکنامک سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 70 لاکھ افراد بے روزگار ہیں ۔ میرا خیال ہے یہ فیکٹ فگر گرائونڈ ریئلٹی سے میچ کرتا نہیں لگتا ۔ یقینا یہ تعداد زیادہ ہوگی ۔ لیکن ریکارڈ پر درست موجود نہیں ہے ۔
قومی اقتصادی کونسل: پنجاب سب سے بڑی قربانی دے گا
صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 920 ارب روپے کی کمی پر اتفاق کرلیا، قومی اقتصادی کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی نہیں ہو گی، پلاننگ کمیشن دستاویز کے مطابق بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ 308 ارب روپے پر برقرار رہے گا، پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کر کے 749 ارب کر دیا گیا۔
سندھ کا ترقیاتی بجٹ 816 سے کم کر کے 706 ارب روپے کر دیا گیا، کے پی کا ترقیاتی بجٹ 564 ارب روپے سے کم کر کے 455 ارب روپے کر دیا گیا، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3138 سے کم کر کے 2218 ارب روپے کر دیا گیا۔
گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے یہ تاثر دینا کہ مسلم لیگ (ن) کو بری شکست ہوئی ہے، حقائق کے منافی ہے۔ الیکشن کمیشن اب تک 19 حلقوں کے نتائج جاری کر چکا ہے جن میں پیپلز پارٹی 9 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) 6 نشستیں جیت چکی ہے۔ اس کے علاوہ 2 نشستوں پر وہ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن کی مسلم لیگ (ن) نے حمایت کی تھی۔
یعنی اعلان شدہ نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان فرق صرف ایک نشست کا ہے (9 بمقابلہ 8)، جبکہ ابھی 5 حلقوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔ ایسے میں ن لیگ کی شکست کے بیانیے سے زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ مکمل نتائج کا انتظار کیا جائے۔
#GilgitBaltistan
پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 77 لاکھ ہے اور اس کا ترقیاتی بجٹ آج کے فیصلے کے بعد 749 ارب ہے۔ سندھ کی آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ ہے اور اس کا ترقیاتی بجٹ 706 ارب ہے۔
پنجاب کا فی کس ترقیاتی بجٹ 749,000 ÷ 127.7 ≈ 5,865 روپے فی فرد ہے جبکہ سندھ کا فی کس ترقیاتی بجٹ 706,000 ÷ 55.6 ≈ 12,698 روپے فی فرد ہے
اسی طرح خیبرپختونخوا کی آبادی چار کروڑ 8 لاکھ ہے اور ترقیاتی بجٹ 455 ارب ہے، کے پی کا ترقیاتی بجٹ بنا 455,000 ÷ 40.8 ≈ 11,152 روپے فی فرد، یعنی ان دونوں صوبوں کا فی کس پنجاب سے دوگنے سے بھی زیادہ۔
کیا بصد احترام یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیوں؟ پنجاب کا جرم کیا ہے؟ صرف یہ کہ وہ متعصب نہیں ہے؟ کسی کو گالی نہیں دیتا؟ اس سے پہلے بھی وہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی اور بلوچستان کو پسماندگی کے نام پر اپنی روٹی کے نوالے دے رہا ہے۔
محبت، اخلاص اور حب الوطنی کو کمزوری، جُرم اور گناہ نہ بنائیں۔ پنجاب کو کشمیر نہ سمجھیں مگر کم از کم پاکستان تو سمجھیں اور یکساں وسائل اس کا بھی حق ۔۔۔
🚨 برطانیہ میں بھارتی سفارت خانے کے باہر بھارت کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے سکھ افراد کا احتجاج۔
ویڈیو میں مظاہرین کو "خالصتان زندہ باد"، "پاکستان زندہ باد"، "پاک فوج زندہ باد" اور "کشمیر بنے گا پاکستان" کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
بجلی تین روپے فی یونٹ، آٹا 2100 روپے فی من ہوا لیکن تسلی نہیں ہوئی، معاملہ بارہ نشستوں پر بھی رکنے والا نہیں اور یہ بھی ایک بہانہ ہے، اصل مقصد کیا ہے؟ سردار امان کی تقریر سنیں، باور رہے کہ آپکی کوئی بھی قومیت ہے آپکو تحفظ اسلئے ہے آپکی تکریم اسلئے ہے کہ آپ پاکستان کا حصہ ہیں کوئی الگ سے آزادی نہیں لے کر آیا تھا پاکستان آزاد ملک بنا تھا آزادی کی قدر جاننا چاہتے ہو تو مقبوضہ کشمیر والوں سے پوچھو جہاں سے آئے ہوئے لوگوں کیلئے مختص نشستیں بھی آپ چھیننا چاہتے ہو، اسطرح کے لوگ عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور اسکا خمیازہ پھر آنے والی نسلیں ادا کرتی ہیں
لکھنے سے پہلے کچھ پڑھ بھی لیا کرو ۔
سنی سنائی باتوں کا بھتنگڑ بنا دیتے ھو۔
تم نے لکھا ھے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ھو چکی ھے
جبکہ
رواں مالی سال میں سب سے زیادہ گروتھ 9.2 فیصد ٹیکسٹائل سیکٹر میں ھوئی ھے۔
@suhailswarraich
حکومت کو زوال تب آتا ہےجب حکومتی شجر سایہ نہ دے سکے۔ انگریزی الفاظ میںThe Utility of the Government is now over حکومتی چراغ مزید روشنی فراہم نہ کرسکیں ، آگے بڑھنے کا ویژن نہ ہو،یاد رکھیں ٹھہراؤ موت ہوتا ہے اور تحرک زندگی ۔ موجودہ حکومت افادیت اسلئے کھورہی ہے کہ یہ ٹھہراؤ کا شکار ہے اس کا مستقبل کا کوئی بڑا ویژن نہیں ہے۔
https://t.co/pL3XfvFLwl
کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج
حکومت آزاد کشمیر کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں مقدمہ درج کیا گیا
شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے خلاف دفعہ 124-A کے تحت کارروائی کا آغاز
مظفرآباد پولیس نے قانونی کارروائی شروع کر دی
مقدمہ محکمہ داخلہ کے 9 جون کے نوٹیفکیشن کی بنیاد پر درج کیا گیا
شوکت نواز میر اور خواجہ مہران پر تقاریر، تحریروں اور الیکٹرانک مواصلات کے ذریعے بغاوت پر اکسانے کا الزام
ایس ایس پی مظفرآباد کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی
پولیس نے ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی
حکومت کے مطابق الزامات مزید تحقیقات کے متقاضی ہیں
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چالان متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا
پولیس نے مقدمے کے اندراج کے بعد قانونی تقاضے پورے کرنے کا عمل شروع کر دیا
کیس میں مزید پیش رفت تفتیشی رپورٹ کی روشنی میں ہوگی
قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 5 بجے طلب کر لیا گیا۔ بجٹ اس جمعہ کو پیش کیا جائے گا ۔۔۔اگلے پورے ہفتے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث و مباحثہ ۔۔پارلیمانی رپورٹرز ایک پانی کی بوتل اور چنے کچھ پھل فروٹ bag pack میں ڈال کر تیاری پکڑیں ۔قوم کان پکڑے ۔۔حکومت سائڈ پکڑے ۔۔اپوزیشن تو پہلے ہی 804 کو پکڑ کر پھر رہی ہے ڈھائی سال سے وغیرہ وغیرہ
“1947سے 1974 تک یعنی 27 سال تک مہاجرین کی 12 نشستیں موجود نہیں تھیں“
یہ دعویٰ تاریخی حقائق کے برعکس ہے مگر افسوس تاریخ سے نابلد کئی دانشوروں نے اسے ری ٹویٹ کیاجن میں مشاہد حسین سید اور حامد میر بھی شامل ہیں۔آزاد کشمیر میں پہلی بار الیکشن ایوب خان کے دور میں ہوا جب بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کروایا گیا۔بی ڈی سسٹم کے تحت “آزاد جموں کشمیر اسٹیٹ کونسل“تشکیل دی گئی جو 24 ارکان پر مشتمل تھی،12 نشستیں آزادکشمیر کے مکینوں کی اور اتنی ہی مہاجرین کی یعنی یکساں نمائندگی تھی۔ اس نظام کے تحت اکتوبر 1962میں پہلا صدارتی الیکشن ہوا جو خورشید حسن خورشید نے جیتا،اس وقت 6 صدارتی امیدواروں میں سے 4 مہاجر تھے۔بعد ازاں 1974 میں صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام میں تبدیل کیا گیا تو مہاجرین کے لئے نشستوں کا تناسب کم ہوا مگر جو کابینہ تشکیل پائی اس میں دو مہاجر وزرا شامل تھے۔جن کشمیری مہاجرین نے ہجرت کی ،اگر آپ ان کا حق تسلیم نہیں کرتے تو یہ مسئلہ کشمیر کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہوگا۔ اگر راولپنڈی ،سیالکوٹ یا لاہور میں قیام پذیر مہاجرین کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں تو برطانیہ میں میرپور (آزاد کشمیر) سے تعلق رکھنے والے تقریباً دس لاکھ کشمیریوں سے بھی لاتعلقی کا اعلان کرنا ہوگا۔
پنجاب میں جائیداد کی محفوظ منتقلی اور قبضہ مافیا سے نجات کے لئے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ایک انقلابی قدم ھے
اس سرٹیفکیٹ کے ذریعے اب آپ اپنی زمین کی تمام تفصیلات ایک ہی دستاویز میں حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے حقوق کے تحفظ اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے آج ہی اپنے قریبی اراضی ریکارڈ سینٹر جائیں
https://t.co/NtaC3PFhFq