یہ جنرل Muhammad Zia-ul-Haq کا دور تھا، جب امریکی قومی سلامتی کے مشیر Zbigniew Brzezinski خیب�� پاس پہنچے اور افغان مجاہدین سے خطاب کرتے ہوئے انہیں سوویت یونین کے خلاف لڑنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ اپنے خطاب میں وہ کہہ رہے کہ آپ حق پر ہیں، خدا آپ کے ساتھ ہے، اور امریکی عوام بھی آپ کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آخرکار فتح آپ ہی کی ہوگی اور سوویت یونین شکست کھائے گا یہ وہ دور تھا جب ہمارے خطے کے پہاڑوں میں جنگ کے نعرے گونج رہے تھے، جب عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی شطرنج بچھا رہی تھیں، اور ہمارے معصوم لوگ اسلام، جہاد اور آزادی کے خوبصورت نعروں میں اپنی زندگیاں قربان کر رہے تھے۔اس طویل جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان عوام کے حصے میں خوشحالی نہیں بلکہ غربت، بے روزگاری، بدامنی، مہاجرت اور مسلسل جنگ آئی۔ کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود افغانستان کے لوگ آج بھی ان پالیسیوں اور تنازعات کے اثرات بھگت رہے ہیں۔
یہ تاریخ ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے کہ صرف جذباتی نعروں پر نہیں بلکہ تعلیم، شعور اور سیاسی بصیرت پر انحصار کرنا چاہیے۔ جب تک ہم ��المی سیاست، بین الاقوامی مفادات اور طاقتور ممالک کی حکمت عملیوں کو نہیں سمجھیں گے، تب تک دوسروں کی جنگوں کا ایندھن بنتے رہیں گے۔ قوموں کی ترقی کا راستہ تعلیم، تحقیق، معاشی استحکام اور سیاسی شعور سے ہو کر گزرتا ہے نہ کہ اندھی تقلید اور جذباتی نعروں سے۔"خدا کرے کہ ہم تاریخ سے سبق سیکھیں، ورنہ تاریخ خود کو دہراتی رہے گی اور قیمت ہمیشہ آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔✍️
پی ٹی آئی سوشل میڈیا کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب!
نام نہاد 'انصافین' اور سوشل میڈیا کے ٹھیکیداروں کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ کیا یہی ہے وہ نظریہ جس کا دن رات پرچار کیا جاتا تھا؟ ثبوت آپ کے سامنے ہیں کہ کس طرح پیسوں کی چمک نے ضمیر خرید لیے ہیں۔
حنین خالد جیسے کردار، جو 3.5 لاکھ روپے ماہانہ کی بھاری اجرت پر پل رہے ہیں، سوشل میڈیا پر اپنی ہی قیادت اور عمران خان کی اہلیہ کے خلاف غلیظ ترین الزامات اور مہم چلانے میں مصروف ہیں۔ جو لوگ چند روپوں کی خاطر اپنی ہی صفوں میں انتشار پھیلا کر اپنی قیادت کی پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتے ہیں، وہ ملک اور قوم سے کیا مخلص ہوں گے؟
یہ نام نہاد "سوشل میڈیا وارئیرز" دراصل کرائے کے ٹرولز ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف گند اچھالنا اور اپنی جیبیں بھرنا ہے۔ اندھی تقلید کرنے وال��ں کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ وہ کن بکاؤ کرداروں کے جھوٹے بیانیے کو سچ مان کر آگے پھیلا رہے ہیں۔
پشتون اور بلوچ علاقے الاٹ ہو چکے ہیں اور غیر بلوچستانیوں کو ملے ہیں، بلوچستان کو آپ عالمی منڈی میں نیلام کریں گے، پھر کہتے ہیں کہ بلوچستان میں امن نہیں ہے، اسد بلوچ
بڑے بڑے عہدے، بے شمار مراعات اور ہر طرح کی پیشکشیں… مگر جواب صرف ایک:
“ہم اپنی قوم کے حقوق کا سودا نہیں کریں گے۔”
گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کی اطلاعات اور مسلسل دباؤ کے باوجود بھی منظور پشتین اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ اصولوں پر ثابت قدم رہنے والے ہی تاریخ میں اپنی الگ پہچان بناتے ہیں
#ManzoorPashteen
منظور پشتین وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے آج ایکس اسپیس میں پشت��ن، بلوچ اور کشمیری سمیت مختلف مظلوم قوموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ یہ صرف ایک آن لائن نشست نہیں تھی بلکہ ان تمام قوموں کی مشترکہ آواز تھی جو اپنے حقوق، شناخت، انصاف اور آزادیِ اظہار کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
1/1
اس بے ایمانی میں شریک جرم افراد قوم کے مجرم ہیں اور اس میں دو رائے نہیں ہے!!
یہ قوم کا پیسہ ہے، کسی ڈیپارٹمنٹ یا کسی ٹھیکہ دار کا نہیں کہ وہ جہاں چاہے جیسے چاہے ہاتھ صاف کریں
وقت آچکا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر ��ختونخوا سہیل آفریدی اس میں ملوث چھوٹے بڑے سب مگرمچھوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں!
سنٹرل کرم،استعماری سسٹم کے نشانے پر
اج بھی عام عوام پر بم برسائے جس میں 4 بیگناہ معصوم بچے و عورتیں شہید کئے گئے، پشتون نسل کشی پر چپک کے روزہ رکھنے والوں بروز محشر کیا جواب دوگے
تمام نسل پرست پارلیمانی ایسے خاموش بیھٹے ہے، جیسے کسی نے ایک پھتر تک نہ پینکے ہو
@amnestyusa@cnni
ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر مقامی لوگوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اطلاع دی جس پر پولیس فوری موقع پر پہنچ گئی، فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک مشتبہ شخص کو اس کے سہولت کار سمیت گرفتار کر لیا گیا جبکہ مزید تفتیش جاری ہے، عوام اور پولیس کے تعاون سے ممکنہ خطرہ ٹل گیا #Awalsherafridijournalist
اہم اعلان
یہ @Muhammadkhanik ہمارے تحریک کے ایک نہایت متحرک، مخلص اور قابلِ قدر ساتھی ہیں۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ ان کا اکاؤنٹ فالو کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
آپ کا ایک فالو ہمارے ساتھی کے لیے بہت قیمتی ہے۔ 🤝❤️
شکریہ! 🌹