پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی آتشزدگی پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔
ہر ادارہ تباہی وبربادی کے دہانے پر کھڑا ہے ۔
وفاقی حکومت میں اپنے زیر انتظام چند ہسپتالوں کا نظام درست کرنے کی اہلیت بھی نہیں
یہ حکمران ملک کیا سنبھالیں گے ؟
خطے میں سب سے زیادہ مراعات لینے والی پارلیمنٹ سے چند فرلانگ پر پمز ہسپتال بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔
حکمران قوم کا پیسہ اپنی عیاشیوں پر خرچ کریں گے تو ایسے حادثات ہی رونما ہونگے
متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں شریک ہیں
اللہ کریم لواحقین کو صبرجمیل دے ۔
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
ہمارے ملک میں اگ لگی ہوئی ہے 20 سال سے اپریشنز ہو رہے ہیں اور ہر اپریشن کے ساتھ فرق بڑھتا جا رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ تمہاری پالیسی غلط ہے اور غلط کے ساتھ ساتھ تم اپنی پالیسی میں بد نیت بھی ہو تم چاہتے ہی نہیں ہو کہ ارام ائے، اور پھر کہتے ہو ریاست ماں ہوتی ہے ماں تو اولاد کو اکٹا کرتی ہے لیکن ہمیں اللہ نے ایسی ماں دی ہے جو قوم کو تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہیں کہ "لڑاؤ اور حکومت کرو۔۔
جوائنٹ اپوزیشن کا پہلا پارلیمانی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع
اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمان کے اندر مشترکہ حکمتِ عملی پر مشاورت
اجلاس میں تمام جماعتوں کے قائدین اور پارلیمانی نمائندے شریک
ہمارا آئین ایک میثاق ملی ہے، اب اس کا بھی احترام نہیں کیا جا رہا ہے۔ قانون سازیاں ہو رہی ہیں اور جس میں صرف اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کو مضبوط کرنا بڑا اہم ہوتا ہے۔ یہ ایمرجنسی ہوتی ہے، فوری کرنا چاہیے، وقت نکل جائے گا، پتہ نہیں ملک کا کیا بنے گا۔ خوف طاری کر دیتے ہیں اور ہمیشہ قوم پر خوف طاری کر کے قوم کو بلیک میل کیا جاتا ہے، لیکن کبھی اناسی سالوں میں اسلام ہماری ترجیح نہیں رہا، اسلامی قانون سازی ہماری ترجیح نہیں رہی۔ اسلام اور قانون سازی کوئی ہماری ایمرجنسی کبھی بنی نہیں ہے۔ ہو جائے گا، بعد میں کر لیں گے، بعد میں کر لیں گے۔
لیکن ان کی اتھارٹی کو قوم پر مسلط کرنا، پارلیمنٹ کو جعلی پارلیمنٹ وجود میں لے کر اپنی مرضی کی قانون سازیاں کرانا، جس میں آئین کا کبھی لحاظ نہیں کیا جاتا۔
ابھی جو چند روز پہلے قانون سازی ہوئی ہے، وہ آئین کے خلاف ہے۔ آئین واضح طور پر کہتا ہے، آرٹیکل 243 کے تحت، کہ تینوں مسلح افواج کا سپریم کمانڈر صدرِ مملکت ہوگا اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کا تقرر وزیراعظم کے مشورے سے صدرِ مملکت کرے گا۔ یہ آئین کے الفاظ ہیں۔ اور ہم نے قانون کون سا پاس کیا ہے؟ کہ اب تقرر جو ہے، وہ ادارے کا سب سے بڑا جو ہوگا، وہ کرے گا۔ ایک ادارے کا بڑا، یعنی وفاق کا اختیار بھی ہم نے ایک ادارے کے سربراہ کو دے دیا ہے۔
اور آئندہ اگر کوئی تبدیلی یا کوئی قانون و ضابطہ بنے گا تو وہ کابینہ طے کرے گی، وہاں پر بھی پارلیمنٹ کو ہی بائی پاس کر دیا گیا ہے۔ اور یہ قانون صادق جائز ہوگی، اس لیے کہ اس میں ایک طاقتور ادارے کی گرفت کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
ہم آپ کو پہلے سے مضبوط مانتے ہیں، پاکستان کی دفاع کو ناگزیر سمجھتے ہیں، اس کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن اس کی ایک حد ہوتی ہے، ایک دائرہ ہوتا ہے، اس دائرے کا ایک اختیار ہوتا ہے۔ اب کابینہ کا اختیار بھی ان کے پاس، پارلیمنٹ کا اختیار بھی ان کے پاس، اس کے تو منفی اثرات خود دفاعی ادارے پر پڑ سکتے ہیں، خدا نہ کرے۔
ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ خیرخواہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کے سامنے بڑی صاف بات کریں، کھل کر کریں۔ آج حالت یہ ہے کہ اگر ہم پارلیمنٹ میں بات کرتے ہیں تو قوم کو ہماری آواز پہنچنے نہیں دی جاتی۔ ابھی جو ہم یہاں گفتگو کر رہے ہیں، خدا جانے ہمارے الیکٹرانک میڈیا اور چینلوں پر ہماری گفتگو قوم کو سنائی جائے گی یا نہیں۔
اسے کہتے ہیں تسلط بالجبروت، طاقت کی بنیاد پر مسلط ہونا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَعَنَهُمْ كُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٍ‘‘۔ چھ لوگ ہیں، جن پر میں بھی لعنت بھیجتا ہوں اور اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے، اور ہر پیغمبر کی دعا قبول بھی ہوتی ہے۔ اس میں ایک ’’المتسلط بالجبروت‘‘، جو طاقت کی بنیاد پر مسلط ہوتا ہے۔
’’يُعِزُّ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ وَيُذِلُّ مَنْ أَعَزَّ اللَّهُ‘‘۔ جن کو اللہ نے عزت دی ہے، ان کو غصب کرتے ہیں، اور جو گھٹیا قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ان کو اوپر لاتے ہیں۔ یہ کیا رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے؟
قبیلوں کے سردار آئے، رسول اللہ ﷺ ان کو عزت دیتے تھے۔ آپ نے ایک خاص لباس بنایا کہ جب قبیلوں کے سردار آئے تو اس لباس میں ان کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ اور پھر جو آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے اور کلمۂ شہادت پڑھتے تھے تو آپ واضح طور پر فرماتے تھے: ’’خِیَارُکُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِیَارُکُمْ فِي الْإِسْلَامِ‘‘۔ جو جاہلیت کے زمانے میں تمہارے بڑے تھے، سردار تھے، وہ اسلام میں آئیں گے، تب بھی وہ قبیلوں کے سردار ہوں گے۔
انسانیت کو بتا دیا، عزت کیا ہوتی ہے، احترام کیا ہوتا ہے، حق کیا ہوتا ہے۔
آج ہم اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 25 اگست 2026
عمران ریاض صاحب، حامد میر صاحب، اقرار الحسن، فہیم صاحب، سلیم صافی صاحب، تمام صحافی حضرات، انسانی حقوق کے علمبرداروں، انسانیت کی آواز بننے والے کارکنوں، سیاسی و سماجی کارکنوں، نوجوانوں اور قوم کے تمام باشعور لوگوں!
یہ میرے سنٹرل کرم، چمکنی کے اُن غریب اور بے گناہ پہاڑی لوگوں کی صدائیں ہیں، جو کل ڈرون حملے میں اپنے پیاروں کی لاشوں کے سامنے چیخ چیخ کر رو رہے ہے۔ 💔😭
یہ صرف ایک علاقے کا درد نہیں، یہ انسانیت کا درد ہے۔ اُن ماؤں، بہنوں، بچوں اور خاندانوں کی چیخیں ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھو دیا۔ یقین کریں، انسان تو کیا، ایک بے زبان جانور بھی اُس درد کو محسوس کر سکتا ہے۔
خدارا! سیاسی وابستگی، اختلاف اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کے نام پر ہماری آواز بنیں۔ ہمارے ان بے گناہ لوگوں کے لیے آواز اٹھائیں۔ ان کی چیخیں دنیا تک پہنچائیں۔
ویڈیو دیکھیں، پھر خود فیصلہ کریں کہ یہ درد کتنا گہرا ہے۔ 💔😭
#کرم #انسانیت #انسانی_حقوق
اسلام آباد: عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، موجودہ ملکی حالات اور سیاسی منظرنامے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
رہنماؤں نے موجودہ سیاسی صورتحال، ملک کو درپیش چیلنجز، عوامی مسائل اور سیاسی و جمہوری معاملات پر اپنی آراء کا اظہار کیا۔
اس موقع پر موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں اور باہمی مشاورت کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔
ملاقات میں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کے مؤثر کردار، جمہوری اقدار کے تحفظ اور ملک میں سیاسی استحکام کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ ہے میرے قائد محترم کی بصیرت اور سوچ کیا کسی حکمران نے یا کسی آفیسر نے کبھی یہ باتیں سوچی ہے کیا اصل حقیقت یہی نہیں
کیا میرے قائد کے خلاف پراپیگنڈے اسی وجہ سے کیی جاتے ہیں انشاء اللہ عنقریب میرے قائد کے باتوں کو نظر انداز کرنے والوں کو افسوس کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا
تم اپنی حکمتِ عملی میں بدنیت بھی ہو، تم چاہتے بھی نہیں ہو کہ ملک میں کوئی آرام آئے اور اطمینان آئے۔
اور کہتے ہو ریاست ماں ہے، ریاست ماں ہے۔ ماں وہ تو اولاد کو اکٹھا کرتی ہے۔ اگر اس کی اولاد میں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور وہ تقسیم ہوتے ہیں، ماں پر کیا گزرتی ہے؟ ماں اپنے اولاد کو جوڑتی ہے۔
ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے۔ لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو۔ قوم کو تقسیم کرنا، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا، لڑانا، ہر جگہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ، اور تم اس کو مارو اور اس کے ذریعے نیچے کرو۔ یہ حکمتِ عملی بنانا۔
اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پہ لعنت، ماں اس طرح ہوتی ہے؟ ماں کی ممتا تڑپتی ہے، اپنے اولاد کی، اس کی خیرخواہی کے لیے، ان کی وحدت کے لیے۔ وہ اپنے اولاد کو ایک صف میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے دل میں جو اپنے اولاد کے لیے رأفت اور رحمت ہوتی ہے، کیا ہم وہ دیکھ رہے ہیں؟ اس ملک پہ ماں اس طرح ہوتی ہے؟ یہ ماں تو نہیں ہوتی، یہ کوئی ڈائن ہوگی۔ ماں بناؤ ریاست کو، ماں بناؤ، قوم کو ایک قوم بناؤ۔
اور اس حالت پہ کہتے ہیں کہ جو صوبے پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ان کو بھی توڑو۔ اب باقی کام رہ گیا ہے، صوبوں کو توڑنا۔ کس لیے؟ خوبصورت نعروں کو قوم کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر برے کام میں آپ اس کی ایک خوبصورت تصویر بنا دیتے ہیں، قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔
اب بہت سی باتیں اس کو اصول کے حوالے سے زیرِ بحث نہیں لے جاتی، عملی حوالے سے، ماحول کے حوالے سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ اور ہمیں تو حکمرانوں کی نیت پر بھی شک ہے کہ اٹھارویں ترمیم اور اس پہ صوبوں کے اختیارات ان کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، اندر نہیں جا رہا ہے۔
اب آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں، NFC ایوارڈ، اس پہ اضافہ ہوگا، کم ہی نہیں ہو سکے گا۔ اب کہتے ہیں یہ تو سارے محصولات صوبے رکھ جاتے ہیں، تو جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو پھر نیا معاہدہ کرنا پڑے گا، نیا NFC ایوارڈ آئے گا۔ تو ہمارے ملک کی قوموں، مختلف صوبوں، اس کے اندر رہنے والے لوگوں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے۔
تو میں نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ کوئی بندہ لحاف میں لیٹا ہوا تھا، تو اس کے اندر ایک جوں اس کو لگ گیا ہے، تو جوں کو تلاش کرنے کی بجائے اور جوں کو مارنے کی بجائے، اس نے رضائی کو آگ لگا دی ۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں ورکز کنونشن سے خطاب
25 اگست 2026
پشاور میں جےیوآئی کا ورکرز کنونشن جاری ہے۔
امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کنونشن سے اہم خطاب کریں گے۔
لائیو اسٹریم کے لیے فیس بک/ یوٹیوب لنکس کے ساتھ منسلک رہیں:
YouTube:
https://t.co/SqWklWtGE9
Facebook:
https://t.co/bGywOg0jyT
@RShahzaddk پاکستان کے سب حکمران سب ملز کمپنی بجلی گھر کارخانوں کے مالک ہیں اس لیے تو مہنگائی کم نہیں کرتے پیٹرول ڈیزل وغیرہ باہر سے منگوائے جانے والے ہر چیز حکمران طبقے کے اپنے لوگوں کا کاروبار ہے مگر عام عوام کو لوٹنے میں مصروف ہے اور جو مخالفت کرتے ہیں ان کے اوپر کیسز بناکربندکردیتےہیں
ہمارے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ آئیں بات کریں!
تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں۔ یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج آ رہی ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ نہ ان کے پاس کچھ ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی گفتگو
اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی پریس کانفرنس
پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان، قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن، سینیٹ میں لیڈر آف دی اپوزیشن تشریف لائے ہیں، میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور ان کی تشریف آوری پر ان کا شکر گزار ہوں۔
ہم نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ایک جوائنٹ اپوزیشن ہونی چاہیے تاکہ پارلیمنٹ کے اندر کی بزنس میں ہماری ایک مشترکہ حکمت عملی ہو اور ہمارے اقدامات مشترکہ ہوں، باہمی مشاورت کے ساتھ ہوں، تاکہ اپوزیشن ایک مؤثر کردار ادا کر سکے۔
ہمارے سامنے جو ملک کے مسائل ہیں، امن و امان کا مسئلہ ہے اور خاص طور پر دو صوبوں کے اندر جس طرح کی حالت جنگ ہے اور جس کی وجہ سے حکومتی رِٹ چیلنج ہو رہی ہے، شہریوں کی زندگی اجیرن ہے، ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے اور حکومت کی طرف سے صرف طفل تسلیاں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
اب یہ طفل تسلیاں تو ہم گزشتہ بیس سالوں سے سن رہے ہیں۔ کتنے آپریشنز ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف، امن و امان کے قیام کے لیے، حکومتی رِٹ کو مضبوط بنانے کے لیے، لیکن اب تک ہمیں وہ مقصد حاصل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ کچھ بھی ہمیں نظر نہیں آ رہا، کوئی کامیابی نظر نہیں آ رہی اور اس وقت بھی یہی گفتگو تھی اور آج بھی یہی گفتگو ہے۔ الفاظ میں کوئی فرق نہیں، طفل تسلیوں میں کوئی فرق نہیں، لیکن نتیجہ صفر ہے اور کسی قسم کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آ رہی ہے۔
اس سے جو ہماری معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے اور ملک کے کاروباری طبقے کو چاروں صوبوں میں جو مشکلات درپیش آ رہی ہیں، بالخصوص جو ہمارے قبائلی علاقوں کے تاجر ہیں، وہ جس طرح بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اس حوالے سے پاکستان ایک انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔
ہماری مغربی سرحد بند ہے، تجارت اور کاروبار کے دروازے بند ہیں۔ ہماری مشرقی سرحد بند ہے، کاروبار کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں، تجارت کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں۔ چین ناراض ہے، ہم نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے اور آج اگر ہم ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں تو وہ ہماری درخواست کو مسترد کرتا ہے۔
ایران کے جو حالات ہیں، وہ اس وقت پاکستان کے لیے اچھے یا برے حالات میں کوئی بے بس نظر آ رہا ہے۔ اس طرح پاکستان کو ان غلط پالیسیوں نے محصور کر کے رکھ دیا ہے اور خطے میں پاکستان ایک غیر محفوظ اور محصور ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
کب تک خاموش رہا جائے؟ کب تک ہم مصلحتوں کا شکار رہیں؟ کب تک ہم ملک کے داخلی سیاسی مفادات پر نظر رکھیں اور ملک پر نظر نہ رکھیں؟
بیانیہ جو اس وقت پاکستان کے لوگوں کو دیا جا رہا ہے، سرکار کی طرف سے وہ غلط بیانیہ ہے۔ وہ لوگوں کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں، غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ اس قسم کے کوئی حالات نہیں ہیں جو وہ ہمیں بتا رہے ہیں۔ تو نہ ہمارا ملک امن و امان، نہ ہمارے ملک کی معیشت اس قابل ہے۔ صوبوں کی باتیں کی جا رہی ہیں، کس طرح کی جا رہی ہیں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کس امید پر اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں، کس امید پر یہ باتیں ہو رہی ہیں۔
تو یہ ساری چیزیں وہ ہیں کہ ابھی تک ہم مطمئن نہیں ہیں۔ نہ صوبوں کے لیے کوئی تیاری ہے، نہ صوبوں کے لیے کوئی ماحول موجود ہے۔ آگ لگی ہوئی ہے اور لگی ہوئی آگ کے اندر آپ کہتے ہیں، آؤ گھر میں اس طرح تقسیم کریں، یہ نہیں ہو سکتا۔
کشمیر میں اس وقت جو صورتِ حال راولاکوٹ پر ہے، تین مہینے ہو رہے ہیں، دھرنا بیٹھا ہوا ہے۔ عوام کی بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ مثبت بات بھی کریں تو مثبت بات بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ بات چیت نہیں کریں گے تو پھر جو شدت پسند عناصر ہیں، ذرا انتہا پسند اور سخت گیر لوگ ہیں، وہ آگے آئیں گے اور پھر حالات اور گھمبیر ہوتے چلے جائیں گے۔
یہ حالات کیوں ملک کے لیے بنائے جا رہے ہیں؟
لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے ہم اپنا بیانیہ قوم تک پہنچائیں گے، حقائق قوم تک پہنچائیں گے اور ایک طرف ایک قسم کی بات ہمارے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ آئیں بات کریں۔ تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں۔ یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج آ رہی ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ نہ ان کے پاس کچھ ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکیں۔
تو یہ اس وقت ہمارا اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ اس کے بعد، ان شاء اللہ، یہ ساری چیزیں اپنے اپنے پارٹیوں کے سامنے بھی جائیں گی اور ان کو اعتماد میں لیا جائے گا، اور پھر اس کے بعد اگلی ہماری جو میٹنگ آئے گی، اس میں اگلے آئندہ مستقبل کے فیصلے ہوں گے۔
مرکزی جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء اسلام مولانا عبدالغفور حیدری کا قومی اسمبلی اجلاس سے اظہارِ خیال
نوٹ: اسمبلی کی میڈیا نے اس گفتگو کے مختلف مقامات پر کٹنگ کی گئی ہے۔
@NAofPakistan@MoIB_Official
@iHafizHamdullah جناب یہ بھی بڑی بات ہے کہ حافظ حمد اللہ صاحب سے سب خوفزدہ ہے اور ٹاک شو میں کوئ سامنا نہیں کر سکتے
جیو حافظ حمد اللہ صاحب،،،،،,,,,,,,,,,, ،،،،،،،،