عمران خان کو جیل میں ڈال کر تم نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک جیل خانہ ہے ۔۔ تمہیں عمران خان کو باہر لانا ہوگا ۔۔
عمران خان اس ملک کی سیاست کا محور ہیں۔ وہ اس ملک کو اکٹھا رکھنے والی شخصیت ہیں۔ اس وقت پورے پاکستان کے لوگ عمران خان کی جانب دیکھ رہے ہیں- @salmanAraja
جون کا مہینہ ہے، بجٹ پیش ہونا ہے۔ ہم نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے درخواست کی کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے: عمران خان کی چھ ماہ سے جاری قید تنہائی ختم کرکے ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں علاج کروایا جائے۔
جاوید ہاشمی اس دن اڈیالہ آئے اور بتا رہے تھے کہ ہم بھی جیل میں رہے، ہمارے پاس فون ہوتا تھا، لوگوں سے بات کرتے تھے اور لوگ ملنے آتے تھے۔ جو قید عمران خان کاٹ رہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی لیڈر یا سابق وزیراعظم نے نہیں کاٹی۔ اسے ایسا ٹارچر کبھی نہیں بھگتنا پڑا۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
جو کچھ اس وقت کشمیر میں ہو رہا ہے یہ پاکستان کی 78سالہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔۔آج ہم نے اس ریاست کا خونخوار چہرہ آزاد کشمیر کے عوام کو دکھا دیا ہے ۔۔
گولیاں برسائی گئی ہیں، نہتے لوگوں کو شہید کیا گیا ہے ۔۔
یہ وہ فسطائیت ہے جو ہم نے انگریز کے دور میں بھی نہیں دیکھی ۔۔
۔۔۔بیرسٹر@salmanAraja
"عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر جہاں عمران خان کے ساتھ زیادتی کررہے وہیں یہ اپنا خوف بھی ظاہر کررہے ہیں۔ جو یہ کررہے ہیں عوام میں غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس وقت عمران خان کی پاکستان کو سخت ضرورت ہے۔ عمران خان کے وقت ملک میں اچھا بھلا امن تھا آج امن تباہ ہوچکا ہے۔ معیشت تباہ ہوچکی، سرمایہ کاری صفر ہے۔غربت اور مہنگائی بڑھتی جارہی ہے"۔ علیمہ خان
راولاکوٹ میں گاڑیوں کے شیشے توڑنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کا واقعہ کسی انفرادی کارروائی کا نہیں، بلکہ ایک گہری سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ ان سب کے پیچھے وہی ایک 'ماسٹر مائنڈ' متحرک ہے جس نے 9 مئی اور 26 نومبر کا کھیل رچایا تھا۔ اب وقت ہے کہ ان سازشی عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔
پاکستان میں عمران خان صاحب کی وفاقی جمہوری حکومت کو ۹ اپریل ۲۰۲۲ کو بیرونی سازش پر اندرونی غداروں کے ذریعے گرایا گیا۔ تابعدار قیادت کو ملک پر مسلط کر کے مستحکم پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم اور مقبول لیڈر کو جعلی کیسز میں ناحق جیل بھیج دیا گیا۔ تمام صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وفاداریاں خرید کر حکومتیں تبدیل کی گئی۔ تمام اداروں نے مل کر عمران خان صاحب کو شکست دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو پاکستانی قوم نے تمام تر ظلم جبر فسطائیت کے باوجود عمران خان صاحب کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ عسکریت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے پاکستان پر ایک دفعہ پھر نا اہلوں کا ٹولہ مسلط کیا۔
آج ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے غیور پاکستانیوں نے طاقتوروں کو شکست دے کر عمران خان صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں پر بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ریاست بندوق کے زور پر لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عمران خان صاحب کو جھکانے اور اُن کی پارٹی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور انشاء اللّٰہ یہ خواب عمران خان صاحب کے دشمنوں کا ہمیشہ ادھورا ہی رہیگا۔
زور زبردستی، ڈنڈے اور بندوق کے زور پر حکومت کرنے سے ۴ سال میں ہمارا پیارا پاکستان اور پاکستانی قوم تاریخ کے سب سے کمزور موڑ پر آگئی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری، بدامنی، تباہ حال معیشت اور ناکام پالیسیوں نے پاکستانی قوم کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ گلگت میں غم و غصہ ہے۔ تو فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ نا اہلوں کا اقتدار بچانا ہے یا پاکستان کو ؟ نتیجے بدلنے سے نظریے نہیں بدلتے۔ نتیجے بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتے۔ لہٰذا نتیجے نہیں اپنی پالیسی بدلو۔
”راولاکوٹ (پونچھ) میں امن و امان کی سنگین صورتحال، مظاہرین پر فائرنگ اور سی ایم ایچ (CMH) کے باہر پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہوں۔ ریاست کا کام اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اپنے ہی عوام پر رات کے اندھیرے میں طاقت کا وحشیانہ استعمال کرنا. حکمران اور انتظامیہ یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر ایک انتہائی نازک اور حساس سرحدی خطہ ہے۔ “- @AQayyumNiaziPTI صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر و سابق وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر
راولا کوٹ، آزاد کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا! 💔
انتہائی افسوسناک اور دردناک خبر: راولا کوٹ میں نہتے اور پرامن شہریوں پر فائرنگ کر کے ظلم کی نئی داستان رقم کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وحشیانہ کارروائی میں 100 سے زائد معصوم شہری شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ وہی پرانا اور شرمناک کھیل ہے جو ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔** فروری میں عوام نے انہیں مسترد کیا، آج پھر اپنی شکست چھپانے کے لیے دھاندلی، چوری اور طاقت کے سہارے نتائج بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خالد خورشید کی والدہ کے حلقے سے 167 بیلٹ پیپرز غیر قانونی طور پر لائے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے خود معاملہ پکڑا، لیکن اس کے باوجود انہی بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا کر انہیں بیلٹ باکسز میں ڈالا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہی کھیل دیگر حلقوں میں بھی جاری ہے۔
اگر فیصلے ووٹ سے نہیں بلکہ چوری شدہ بیلٹوں سے کرنے ہیں، تو پھر الیکشن کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ صرف دھاندلی نہیں، عوام کے مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے۔ **ووٹ چرائے جا سکتے ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان