:
مرادِ رسول ﷺ حضرت عمر فاروقِ اعظمؓ
۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اللہ نے اسلام کو عمر کے ذریعے عزت بخشی۔"
(مولانا مودودی ، مولانا رومی ، سر مائیکل ہارٹ )
حضرت عمرؓ صرف ایک فاتح حکمران نہیں تھے، بلکہ وہ اسلامی تاریخ میں عدل، امانت اور فلاحی ریاست کی سب سے روشن مثال تھے۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ ان کا دورِ خلافت آج بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب اقتدار اللہ کی امانت سمجھا جائے تو ریاست طاقت کے بجائے انصاف سے چلتی ہے۔ اسلام کا حقیقی سیاسی نمونہ خلافتِ راشدہ میں نظر آتا ہے، اور اس نمونے کی سب سے نمایاں تصویر حضرت عمرؓ کی حکومت تھی۔ ایک ایسی حکومت جہاں خلیفہ خود کو عوام کا مالک نہیں بلکہ خادم سمجھتا تھا۔حضرت عمرؓ وہ شخصیت تھے جن کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو نئی قوت ملی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اللہ نے اسلام کو عمر کے ذریعے عزت بخشی۔"اسی لیے انہیں الفاروق کہا گیا — حق اور باطل کے درمیان واضح فرق کرنے والا۔ان کی خلافت کے دس سال اسلامی تاریخ کا ایک عظیم انقلاب تھے۔ اسلامی ریاست مدینہ کی محدود سرزمین سے نکل کر فارس، شام، مصر اور بیت المقدس تک پھیل گئی۔ مگر حضرت عمرؓ کی اصل عظمت فتوحات نہیں، بلکہ وہ انصاف تھا جو دشمنوں تک کو متاثر کر دیتا تھا۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد عیسائیوں کو مکمل مذہبی آزادی دینا اس بات کا اعلان تھا کہ اسلام تلوار سے زیادہ عدل کا دین ہے۔حضرت عمرؓ نے پہلی مرتبہ باقاعدہ ریاستی نظام قائم کیا۔ صوبے بنائے، دیوان قائم کیے، بیت المال کو منظم کیا، پولیس اور عدالتی نظام قائم کیا، بازاروں کی نگرانی کا انتظام کیا اور ہجری کیلنڈر جاری کیا۔ انہوں نے حکومت کو صرف اقتدار نہیں بلکہ خدمت کا ادارہ بنا دیا۔ان کی زندگی کا سب سے عظیم پہلو ان کا عدل تھا۔ وہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں خود گشت کرتے تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔ قحط کے زمانے میں خود خشک روٹی کھاتے تاکہ عوام کی تکلیف محسوس کر سکیں۔ اپنے بیٹے کو بھی قانون کے سامنے رعایت نہ دی، اور ایک عام یہودی کی شکایت پر اپنے گورنر کو جواب دہ بنایا۔ تاریخ میں شاید ہی کوئی حکمران ایسا گزرا ہو جس کے دروازے پر پہرے کم اور انصاف زیادہ ہو۔ حضرت عمرؓ کا دور اس حقیقت کی علامت تھا کہ اسلامی ریاست نہ موروثی بادشاہت ہوتی ہے، نہ طبقاتی نظام؛ وہاں خلیفہ اور عام شہری دونوں قانون کے سامنے برابر ہوتے ہیں۔آج جب دنیا انصاف، دیانت اور حقیقی فلاح کی تلاش میں ہے، تو حضرت عمر فاروقؓ کا کردار ایک مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر مسلمان دوبارہ عزت، اتحاد اور عدل چاہتے ہیں تو انہیں حضرت عمرؓ کے اسوہ کو صرف تاریخ میں نہیں، اپنی ریاستوں اور معاشروں میں زندہ کرنا ہوگا۔
اللہم ارضَ عن عمر واجعلنا من الذین یقتدون به
(اے اللہ! عمرؓ سے راضی ہو جا اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں میں شامل فرما)
مولانا جلال الدین رومؒ نے اپنی کتاب کتاب مثنوی معنوی ہے میں لکھا ہے “قیصر روم کا ایلچی آیا تو لوگوں سے پوچھا خلیفہ کا محل کہاں ہے ؟ جواب امیر المومنین اور عام غریبوں کے گھروں میں کوئی فرق نہیں ۔ ایک بدو عورت نے اس اجنبی کو دیکھ کر کہہ کر کہا حضرت عمرؓ اس کھجور کے درخت کے نیچے سو رہے ہیں ، وہ اس جگہ آیا اور وہ گھبرا گیا۔ حضرت عمرؓ کو دیکھ کر کپکپی میں مبتلا ہو گیا ، پاوں لڑکھڑا گئے رعب فاروقی طاری ہوگیا ،اور اس پر اللہ کی طرف سے ایک اچھی حالت طاری ہوئی۔ لب پر خاموشی کی مہر لگ گئی ،،محبت اور ہیبت کی ملی جلی کیفیت میں اپنے آپ سے کہنے لگا: “میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے عظیم الشان دربار دیکھے ہیں لیکن اس شخص کی ہیبت نے میرے حواس گم کردئیے ہیں ۔ میں جنگلوں میں بڑے سے بڑے شکاری جانوروں سے لڑا ہوں ۔ شیر کی طرح جنگوں میں جنگوں میں لڑا ہوں بہت سے زخم کھائے اور دشمنوں کو لگائے لیکن میرا دل ہمیشہ قوی رہا ، یہ شخص بغیر ہتھیار کے زمین پر سویا پڑا ہے لیکن میں لرز رہا ہوں۔”یہ کیسی بات ہے؟ یہ مخلوق کی ہیبت نہیں ہے بلکہ اللہ کی ہیبت ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرا اور جس نے تقویٰ اختیار کیا، اس سے جن و انسان ڈرتے ہیں۔ ایک گھنٹے انظار کے بعد حضرت عمرؓ اٹھے۔ اس نے ان کو سلام اور تعظیم کی۔ اپنے پاس بلایا اور مطمئن کیا۔ اس کے دل کا ڈر جاتا رہا۔ اس گھبرائے ہوئے انہوں نے خوش کر دیا” 1/2
@salmaan_ghani غنی صاحب یہ نکتہ پاکستان کے مقامی پرو ایران صحافیوں کو بھی سمجھائیں، تمام نقویوں رضویوں شیرازیوں نے سوشل میڈیا ہر اپنی الگ جنگ چھیڑی ہوئی ہے
@RashidMurad پاکستانی سیاست دانوں کا حال ان کوٹھے والیوں جیسا ہے جو ہر بار کسی چاہنے والے کے ساتھ اس امید پر گھر بساتی ہیں کہ باقی زندگی عزت کے ساتھ گزرے گی، مگر پھر کچھ عرصے بعد اجڑ کر واپس اسی کوٹھے پر آنا پڑتا ہے۔