اڈیالہ جیل کے بند کمروں میں عدالتیں لگا کر جن کیسز میں عمران خان کو سزا سنائی گئی، وہ کیسز اب یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اوپن کورٹ میں لگانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کیسز کی پروسیڈنگ میں پوری دنیا دیکھے گی کہ وہ کتنے بوگس کیسز ہیں جن میں عمران خان کو سزا سنائی گئی، علیمہ خان
عم��ان خان اس وقت اس نظام کے ہوش و حواس پر سوار ہیں۔ عدالتوں کے فیصلے بھی عمران خان کے گرد ہی گھوم رہے ہیں۔ اس کی بیوی کو آپ نے قید کیا ہوا ہے، بھانجے کو قید کیا ہوا ہے۔ جو پارٹی ٹکٹ ہولڈرز اور کار��ن اس کا ساتھ چھوڑ گئے، انہیں آپ نے چند ماہ میں معاف کر دیا، اور جو اس کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، ان پر آپ نے نہ جانے دنیا بھر کے کیا کیا ظلم کیے۔
وہ بنی گالہ میں تھا تو بنی گالہ خبروں میں تھا،وہ زمان پارک میں تھا تو زمان پارک ٹرینڈ کرتا رہا،وہ اڈیالہ جیل میں تھا تو چاروں طرف اڈیالہ جیل کےچرچےتھےاور آج دیکھ لیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کو،پوری دنیا میں شفاء ہسپتال کی گونج۔۔
خیراتی حکومت والے کل بھی کسی گنتی میں نہ تھے اور خیراتی حکومت والے آج بھی کسی گنتی میں نہیں۔۔
کسی قیدی کی اتنی دہشت ہو اور اتنا پروٹوکول دینا پڑ جائے تو اس کے لیے وزیراعظم کا عہدہ انتہائی چھوٹا ہے وہ تو پیدائشی لیڈر ہے اور اسے کہتے ہیں اسٹیٹس مین۔