اس سے پہلے کے ہم بے وفا ہو جائے
کیوں نہ اے یار ہم جدا ہو جائے
تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر
ہم بھی کل جانے کیا ہو جائے
تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا
ہم جو ٹوٹے تو جابجا ہو جائے
ہم اگر منزل نہ بن پائے
منزلوں تک کا رستہ ہو جائے
دیر سے سوچ میں ہیں پروانے
راکھ ہو جائے یا ہوا ہو جائے
*دھوپ میں لو لگنے سے موت کیوں ہوتی ہے؟*
ہم سب دھوپ میں گھومتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو دھوپ لگ جانے کی وجہ سے اچانک موت کیوں ہو جاتی ہے؟
ہمارے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ 37 ° ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اس درجہ حرارت پر ہی ہمارے جسم کے تمام اعضاء صحیح طریقے سے کام کر پاتے ہیں.
پسینے کے طور پر پانی باہر نکال کر جسم 37 ° سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے، مسلسل پسینہ نکلتے وقت پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہے.
اس کے علاوہ بھی پانی بہت کارآمد ہے، جسم میں پانی کی کمی ہونے پر ہمارا جسم پسینے کے ذریعے ہونے والے پانی کے اخراج کو روکتا ہے. (یعنی بند کر دیتا ہے)
جب باہر درجہ حرارت 45 ° ڈگری سے زائد ہو جاتا ہے اور جسم کا کولنگ سسٹم ٹھپ ہو جاتا ہے، تب جسم کا درجہ حرارت 37 ° ڈگری سے زیادہ ہونے لگتا ہے.
جسم کا درجہ حرارت جب 42 ° سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تب خون گرم ہونے لگتا ہے اور خون میں موجود پروٹین پکنے لگتا ہے.
پٹھے کڑک لگتے ہے اس دوران سانس لینے کے لئے ضروری پٹھے بھی کام کرنا بند کر دیتے ہیں.
جسم کا پانی کم ہو جانے سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، بلڈ پریشر low ہو جاتا ہے، اہم عضو (بالخصوص دماغ) تک خون کی رسائی رک جاتی ہے.
انسان کوما میں چلا جاتا ہے اور اس کے جسم کے ایک کے بعد ایک عضو دھیرے دھیرے کام کرنا بند کر دیتے ہیں، اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے.
گرمی کے دنوں میں ایسے مسائل ٹالنے کے لئے مسلسل پانی پیتے رہنا چاہئے، اس سے ہمارے جسم کا درجہ حرارت 37 ° ڈگری برقرار رہ پائے گا اس بات پر ہمیں توجہ دینا چاہئے.
آنے والے کچھ دنوں میں Equinox اكونكس کے گہرے اثرات خطے کے موسم پر پڑیں گے. کئی علاقے اس کی زد میں ہوں گے.
براہ مہربانی دوپہر 12 سے 3 کے درمیان زیادہ سے زیادہ گھر، کمرے یا آفس کے اندر رہنے کی کوشش کریں.
انسان کے جسم کا اوسط درجہ حرارت 37 درجہ سینٹی گریڈ ہوتا ہے ، اگر انسان کبھی 40 یا 50 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے ماحول میں ہو تو جسم کا درجہ حرارت بھی بڑھنے لگتا ہے جسم اپنا درجہ حرارت اوسط رکھنے کے لیے پسینہ پیدا کرتا ہے جس سے جسم کا درجہ حرارت ٹھیک رہتا ہے ، یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک جسم میں پانی کی کمی نہ ہو ، جیسے پانی کی کمی ہوگی ، پسینہ انا کم ہوجائے گا جسم کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا اور انسان '' لو لگنے '' ہا '' ہیٹ اسٹروک '' کا شکار ہوجائے گا
وجوہات
گرم موسم میں مشقت کا کام کرنا
زیادہ دیر سورج کی روشنی میں رہنا
کم پانی پینا
سر ڈھانپے بغیر گرمی میں باہر نکلنا
گرمی میں غیر ضروری لباس پہننا
گرمی سے اکر فوراً نہانا اور اے سی کمرے میں بیٹھ جانا
علامات
اچانک سر میں شدید درد ہونا
آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا
سر چکرانا
الٹی (قے) آنا
سانس لینے میں مشکل پیش آنا
بہت زیادہ پسینہ آنا
اچانک شدید کمزوری ہونا
بے ہوشی، دل کی دھڑکن تیز ہوجانا اور بخار ہوجانا۔
جلد گرم سرخ ہا خشک ہوجانا
بہت تیز بخار ہونا
احتیاطی تدابیر
- پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔
سحر اور افطار کے وقت نمک چینی کے پانی (نمکول) کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
گرم مضر صحت اور نشہ ور اشیاء اور کولڈرنک کے استعمال سے اجتناب کریں۔
براہ راست دھوپ میں جانے سے گریز کریں۔
بحالت مجبوری دھوپ میں جانا ہو تو سرڈھانپ کر جائیں یا چھتری کا استعمال کریں
دھوپ سے واپسی پر پنکھے یا ائیر کنڈ یشنرکے نیچے جلد نہ آئیں۔
مشقت کا کام دن کے آغاز اور اختتام پر کریں۔
اس موسم میں سلاد سبزی اور تربوز وغیرہ استعمال کریں
لو لگ جانے کی صورت میں اقدامات
-----------------------------------
متاثرہ شخص کو گرم جگہ سے ٹھنڈی سایہ دار جگہ یا اے سی روم میں منتقل کردیں۔
ٹانگیں جسم سے ذرا اوپر رکھیں
فوری طور پر ٹھنڈا پانی پلائیں۔
بٹن زپ وغیرہ کھول دیں
اٖٖضافی اور موٹے کپڑے فوراً اتار دیں موزے، جوتے، ٹائی، شرٹ وغیرہ اتار کر پنکھے کے نیچے لٹا دیں۔
بغل، کلائی، ٹخنوں اور رانوں پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں یا برف ملیں ۔
طبیعت میں بہتری آئے تو متاثرہ شخص کو فوری طور پر نہلا دیں۔
اگر طبیعت بہتر نہ ہو تو متاثرہ شخص کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیں۔
یاد رکھیے ۔۔۔
٭٭ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے سے گرمی کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے ، اور یہ صدقہ جاریہ بھی ہے
٭٭ اپنے علاقے کے طلبہ اور نوجوانوں کی مدد سے درخت لگانے کی مہم کی کا آغاز کریں ۔
اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کو نم رکھنے کی کوشش کریں.