یہ مناظر انتہائی افسوسناک اور خطرناک ہیں فوجی افسر کی وردی جنریشن زی کو سوٹی سے مارنا، پستول نکال کر فاہرنگ کرنا وہ بھی اسلام آباد میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الله ہی رحم کرے اب
سہراب برکت نے سارے بیانیے پر پانی پھیر دیا!!
عمران خان کو جب بتایا گیا, کہ علیمہ خان آپکے لیے تحریک شروع کرچکی ہے, تو عمران خان پارٹی پر حیران ہؤا, کہ پوری پارٹی اتنی ڈری ہوئی ہے, اب علیمہ خان تحریک چلا رہی ہے, تو عمران خان نے علیمہ خان کو سراہا!!
اور یہ خبر سمجھ میں بھی آتی ہے!
باقی سب خبریں جھوٹ پر مبنی ہے!!
تازہ ترین
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں آرمی آفیسر جانب سے طالب علم پر تشدد و بعد ازاں سیلف ڈیفنس میں فائرنگ جیسے افسوسناک وقوعہ بعد طالبات تفصیلات بتاتے ہوئے
🚨طالبہ کا انکشاف
پولیس والے کہہ رہے ہیں کہ وہ فوجی افسر کو ہتھکڑیاں نہیں پہنا سکتے ، آپ کیوں ہتھکڑیاں نہیں پہنا سکتے،
یہاں کسی لڑکی کی عزت محفوظ نہیں ہے کہ " کوئی بھی آرمی افسر آکر اس کا دوپٹہ کھینچے "آج اگر آپ نے آواز نا اٹھائی تو کل کسی کی عزت محفوظ نا ہوگی
#بریکنگ#نیوز
اسلام آباد سرحد یونیورسٹی میں ہنگامہ
آرمڈ فورسز کے آفیسر کا سٹک سے کسی نوجوان طالب علم پر تشدد
بعد ازاں باقی طلباء مشتعل ہو گئے اور افسر پر حملہ کر دیا
باوردی افسر نے پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کردی
واقعہ بعد یونیورسٹی کے حالات کشیدہ
پولیس کی بھاری نفری طلب
مسلم دنیا کے دو بدترین آمر جرنیل، جن میں ایک خصلت مشترک ہے، عالمی طاقتوں کے لیے وفادار، مگر اپنے ہی عوام کے لیے خونخوار بھیڑیے۔
ایک نے مصر کے منتخب اور مقبول رہنما محمد مرسی کو قید میں رکھا، اور ان کی موت آج بھی شدید سوالات اور شکوک کے سائے میں ہے۔ اسی طرزِ اقتدار کی بازگشت آج پاکستان میں بھی سنائی دے رہی ہے، جہاں عمران خان کو طویل قید اور تنہائی میں رکھ کر ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جس کے نتائج پوری قوم کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ایک نے تحریر اسکوائر میں اپنے ہی شہریوں پر طاقت کا بے رحمانہ استعمال کیا، ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا اور شہیدکیا پاکستان میں بھی ڈی چوک اور دیگر مقامات پر ریاستی طاقت کے استعمال، گرفتاریوں قتل اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں نے عوام کے اندر گہرے زخم چھوڑے ہیں۔
تاریخ کا سبق واضح ہے!
جبر وقتی طور پر خاموشی پیدا کر سکتا ہے، عوام کی آواز ختم نہیں کر سکتا۔
اس سے پہلے کہ ملک کو مزید سیاسی، معاشی اور اخلاقی کھنڈر میں تبدیل کیا جائے، ہمیں اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے پُرامن مگر مضبوط آواز بلند کرنا ہو گی ۔ سب سے بڑھ کر عمران خان کی زندگی، صحت اور بنیادی حقوق کی حفاظت اور آزادی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔
اقتدار کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، عوام کی نفرت اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ساتھ چلتا ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ طاقت انہیں ہمیشہ محفوظ رکھے گی، انہیں تاریخ کے ہر آمر کا انجام پڑھ لینا چاہیے۔
ہماری توجہ ، عمران خان کی سلامتی، آزادی اور آئینی حقوق پر ہونی چاہیے۔ باقی فیصلے وقت کرے گا۔ اور تاریخ اپنے فیصلے دیوار پر پہلے ہی لکھ دیتی ہے۔
🚨اس خبر کو منظر سے ہر گز نہ ہٹنے دیں ‼️
عمران خان کی بہنوں نے عمران خان کی صحت کے معاملے کو بھرپور طریقے سے عالمی لیول تک پہنچا دیا ہے اب اسے کسی دوسرے بھی فالتو کی بحثوں میں پیچھے نہ جانے دیں اس وقت سب سے ذیادہ اہم موضوع عمران خان کی صحت اور سلامتی ہے ۔🙏
مجرم جنرلز۔ مجرم سیاستدان۔
ارشد شریف شہید نے بھی ہماری طرح کبھی انہی مجرموں پر فخر کیا تھا—اور وہی لوگ ہیں جنہوں نے کینیا میں ان کا قتل کروایا۔
سبق بالکل واضح ہے: ایسے لوگوں سے دور رہیں، اور ان سے ان کی اپنی حدود میں سختی سے نمٹیں۔ کبھی ان سے احسان نہ مانگیں۔
Criminal generals. Criminal politicians. Arshad Sharif once took pride in the very same criminals—and they are the ones who got him assassinated in Kenya. The lesson is clear: stay away from such people, and deal with them firmly within their own boundaries. Never ask them for favours.
اگر پارٹی لانگ مارچ کو لے کر سیریس ہے تو ابھی تک پنجاب یا سندھ میں پارٹی تنظیم کا کوئ اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا ؟؟
اور یہ سہیل آفریدی نے جن عہدے داروں کو اپنے گاڑی پر چڑھایا ہوا ان اپنے اپنے حلقوں میں کیوں نہیں بیجتا ؟؟ وہاں جا کر تنظیم کو متحرک کریں تاکہ زیادہ اور جلدی عوام کو تیار کیا جا سکے ۔۔۔۔