جرنیل کو ریٹائرمنٹ کا نہیں کہہ سکتے، ججوں کو انصاف کا نہیں کہہ سکتے، صحافیوں کو حقائق کا نہیں کہہ سکتے، تاجروں کو ٹیکس کا نہیں کہہ سکتے
عوام اپنے حقوق کا نہیں کہہ سکتے
مملکت خداد پاکستان
ان اداس ہم وطنوں کے لیے جنہیں لگتا ہے اب مکمل اندھیرا ہے۔
تارا تارا یہ کہتا ہے رات ڈھلے گی
رات کے ماتھے پر لکھا ہے رات ڈھلے گی
صبح پرستو
خواب بدستو
نور کے رستو
تم نے بس یونہی چلنا ہے رات ڈھلے گی
تارا تارا یہ کہتا ہے رات ڈھلے گی
زخم کی لو میں ڈھلتے رہنا
دیپ بجھیں تو جلتے رہنا
رستہ بن کر چلتے رہنا
رات نے آخر کو ڈھلنا ہے رات ڈھلے گی
تارا تارا یہ کہتا ہے رات ڈھلے گی
کل کا سورج ہم دیکھیں گے
سر ظلمت کا خم دیکھیں گے
اونچا اپنا علم دیکھیں گے
اس مشکل نے بھی ٹلنا ہے رات ڈھلے گی
تارا تارا یہ کہتا ہے رات ڈھلے گی
رات کے ماتھے پر لکھا ہے رات ڈھلے گی
احمد فرہاد
کل سے زور و شور سے اٹھارہ سیاحوں کی جان جانے پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا استعفیے کے طلبگار پاکپتن میں بیس بچوں کی جان جانے پر ایسا کوئی مطالبہ کیوں نہیں کر رہے؟ اصولی طور پر مریم نواز کو استعفیٰ دینا چاہئے اور اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے مگر شرم نہیں ہے
🚨*خسروں کے کوارٹر پر ڈاکوؤں نے دھاوا بول دیا اور سب کچھ لوٹنے کے بعد خسروں کے گروں کو بولا کہ ڈاکوؤں کے سردار کیلیے ایک پپو سا خسرہ تیار کرکے کمرے میں بھیجو*
*گرو نے اپنا سب سے پیارا خسرا تیار کیا اور ڈاکوؤں کے سردار کے پاس کمرے میں بھیج دیا*
*کمرے میں جب ڈاکوؤں کا سردار اپنے کام میں مصروف عمل تھا تو گرو نے باقی خسروں کیساتھ ملکر صحن میں رونا دھونا اور چیخنا چلانا شروع کردیا ۔۔*
*ڈاکو اپنے کام سے فارغ ہوکر جب باہر نکلے تو گرو سے پوچھا یہ کیا تماشہ ہے تم نے تو خود تیار کرکے خسرا میرے پاس کمرے میں بھیجا تھا پھر یہ چیخ و پکار اور تماشہ کیوں؟؟*
*گرو نے روتے ہوئے جواب دیا*
*جناب ہماری محلے داری ہے ہم نے محلے میں رہنا ہے کل کلاں ہم کہہ تو سکیں کہ ہم بہت روئے بہت چلائے لیکن ڈاکوؤں نے ترس نہیں کھایا۔*
*نوٹ۔ــــــــ: PPP & MQM بجٹ کیخلاف ملک گیر احتجاج کریگی*
چارا سازوں سے الگ ہےمیرا معیار کہ میں
زخم کھاونگا تو کچھ اور سنور جاونگا۔
تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا
ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہونگا مر جاونگا۔
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاونگا مگر صبح تو کر جاونگا۔