Dove صابن کا متبادل۔۔۔۔
بائیکاٹ مہم کے حوالے سے بعض احباب پوچھ رہے کہ Dove صابن کا مقامی متبادل کونسا صابن ہوگا؟
تو Dove کا بہترین پاکستانی متبادل " سعید غنی " کا Goat Milk Soap ہے جو دو سائز میں میسر ہے جن کی قیمتیں 150 اور 280 ہیں۔
اس صابن کو آپ یہاں سے آرڈر کر سکتے ہیں :
۔۔۔۔۔۔ https://t.co/ZbiWkWAC0n
شیئر کرنا مت بھولیں۔۔۔۔
لاہور میں گاڑی کی ٹکر مار کر 6 افراد کو قتل کرنے والے لونڈے لپاڑے نے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا اور استدعا کی گئی ہے کہ تحفظ فراہم کیا جائے.6 افراد کا قاتل کسی حرام خور کی اولاد تحفظ مانگ رہا ہے،ہائی کورٹ کا چیف جسٹس امیر بھٹی ہے تو عین ممکن ہے ٹرک لے کر کیس کسی اپنے جیسے بکاؤ جج کے سامنے لگا دے،اس کے باپ کو بھی گرفتار کیا جائے جس نے 14 سال کے لونڈے کو سڑک پر گاڑی چلانے کے لیے دی،گاڑی بھی نان کسٹم ہے یہ دوہرے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں انہیں الٹا لٹکایا جائے
تحقیقات میں نئے انکشافات:
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک امیر لونڈے لپاڑے نے اپنی تیز رفتار گاڑی سے دوسری کار کو ٹکر ماری اور 6 افراد موقع پ�� جاں بحق ہو گئے،پولیس تفتیش کے مطابق لڑکا خواتین کی گاڑی کا پیچھا کر کے ہراساں کرنے کی ��وشش کر رہا تھا،متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور نے روک کر لونڈے لپاڑے کو سمجھایا لیکن وہ آگے سے گالیاں اور دھمکیاں دیتا رہا کہ میں دیکھتا ہوں تم لوگ کیسے ڈیفنس میں گاڑی چلاتے ہو.
گاڑی کا ڈرائیور اپنی بہن اور بیوی کو لے کر دوبارہ منزل کی طرف روانہ ہوا تو ملزم نے پھر پیچھا شروع کر دیا اور میکڈونلڈ چوک پر ملزم نے 160 کی سپیڈ سے اپنی کار کو خواتین والی کار سے ٹکر ماری،گاڑی 70 فٹ دور جا گری اور اس میں سوار تمام افراد جان بحق ہو گئے
وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے IG پنجاب کو مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی ہدایت کر دی،گزشتہ شب پولیس نے اس معاملے پر وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی.
اس کے باپ کو بھی گرفتار کیا جائے جس نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے 14 سالہ بیٹے کو سڑک پر گاڑی چلانے کے لیے دی،باپ بھی قتل میں برابر کا شریک ہے.
نام : حدیقہ کیانی
۲۰۰۵ کے زلزلہ میں ایک بچہ گود لیا، ماں اور باپ دونوں
بن کر پالا۔
وہ بچہ آج ایک روشن مستقبل والا نوجوان ہے۔
۲۰۱۰ کے سیلاب میں متاثرین کے لئیے گھر بنائے، سکول بنائے، مساجد بنائیں اور اسپتال بنائے۔
۲۰۲۳ کے سیلاب میں نصیر آباد ، بلوچستان میں سیلاب متاثرین کے لئیے ایک سو گھر تعمیر کروائے، جس میں ایک اسکول، ایک مسجد ��ور ایک میٹرنٹی ہوم بھی شامل ہے۔
مزید ڈھائ سو گھروں کی تعمیر جاری ہے
یہ تحریر لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ کو صنفی آزادی کے حوالے سے کوئ اشکال ہیں تو عورت مارچ میں شامل ہونے کی بجائے حدیقہ کیانی کی پیروی کر لیں، آزادی کا حقیقی مفہوم آپ کو سمجھ آجائے گا۔اسی طرح اگر آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت تآزہ کرنی ہے تو چندہ خور، فساد پرور ، فرقہ پرست مولوی کا دامن چھوڑ کر حدیقہ کیانی کا دامن تھام لیں، فلاح انسانیت اور رحمت اللعالمین کا مشن یہ نیک بخت عورت پورا کر رہی ہے۔ اور اگر کوئ دعا ل کروانی ہے تو حدیقہ کیانی سے درخواست کر لیں کیونکہ عصر حاضر کی سب سے بڑی صوفی تو یہی معلوم ہوتی ہے، جو قوالیوں، لنگروں پر چونیاں ضائع کرنے کی بجائے اپنا تن من دھن سب انسانیت کی فلاح و بہبود پر خرچ کر رہی ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو حدیقہ کیانی کے روشن راستے کی پیروی کرنے کی توفیق دیں۔ آمین
( نیچے تصویر میں ناد علی جونومولود تھا اور اپنے والدین ۲۰۰۵ کے زلزلہ میں کھو چکا تھا اپنی روحانی والدہ حدیقہ کیانی کے ہمراہ موجود ہے)
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سر بزم رات یہ کیا ہوا
مری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
مجھے جو بھی دشمن جاں ملا وہی پختہ کار جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا تیر خطا ہوا
مجھے آپ کیوں نہ سمجھ سکے یہ خود اپنے دل ہی سے پوچھیے
مری داستان حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا
جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھی
یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے مرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا
ہمیں اس کا کوئی بھی حق نہیں کہ شریک بزم خلوص ہوں
نہ ہمارے پاس نقاب ہے نہ کچھ آستیں میں چھپا ہوا
مجھے اک گلی میں پڑا ہوا کسی بد نصیب کا خط ملا
کہیں خون دل سے لکھا ہوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا
مجھے ہم سفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال مری طرح
کئی منزلوں کا تھکا ہوا کہیں راستوں میں لٹا ہوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے سر راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا نہ سفر کا حق ہی ادا ہوا
اقبال عظیم
Remembering the nightingale Nayyara Noor Ji on her 1st death anniversary. Born in 1950, she carved a niche for herself on the throne of stellar ghazal singers. Last of the ghazal queens, she left for heavenly abode on 20 August 2022. Forever in our hearts 🖤
تاریخ کے ساتھ انصاف کرنے والے ڈاکٹر مبارک صاحب کے ساتھ کون انصاف کرے گا ۔۔۔
پبلشر ان کو کتابوں کی رائلٹی دے رہیں اور نہ سوفٹ کاپیز ۔۔۔
آئیں سب ملکر ڈاکٹر مبارک صاحب جو انصاف دلائیں ۔
ڈاکٹر مبارک علی بیاسی سال کے ہو گئے ہیں۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے ہسٹورین ہیں۔ وہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیز سے پی ایچ ڈی اور دیگر ڈگریز لے چکے ہیں۔ ساری عمر درس و تدریس اور لکھتے پڑھتے گزاری ہے۔ تاریخ پر ان کی ایک سو سے اوپر کتابیں ہیں۔ اسی کام میں وہ پچھ��ے بیس سال سے اپنی آنکھیں بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ اب وہ کتابیں ایپس پر سنتے ہیں اور بول کر ٹائپ کرواتے ہیں۔ لیکن اس بڑھاپے میں ان پر مشکل یہ آن پڑی ہے کہ ان کی کتابیں چھاپنے والے فکشن ہاؤس نے انھیں رائیلٹی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حالانکہ ظلم دیکھیں کہ یہ رائیلٹی ��ھی محض دس فیصد تھی۔ سال کی کل رقم بس ساٹھ ہزار روپے۔ مارچ دوہزار تتئس میں معاہدے کے مطابق اسے کچھ رائیلٹی بڑھانا تھی، لیکن فکشن ہاؤس کے ظہور احمد خان نے کانٹریک ہی ختم کر دیا۔ لیکن ستم یہ ہے کہ کانٹریکٹ ختم کرنے پر ظہور کو بتانا تھا کہ وہ کتنی کتابیں چھاپ چکا ہے اور کتنا سٹاک باقی ہے۔ لیکن ظلم یہ ہے کہ نہ تو وہ ڈاکٹر صاحب کو ایسی کوئی بات بتا رہا ہے بلکہ وہ کانٹریکٹ ختم کرنے کے باوجود ان کی کتابیں چھاپ بھی رہا ہے اور بیچ بھی رہا ہے۔ کتابوں کے کئی ٹائٹلز بھی فکشن ہاؤس کو ڈاکٹر صاحب ہی نے بنوا کر دئیے اور کمپوزنگ بھی ڈاکٹر صاحب نے کروائی، لیکن اس کے پیسے بھی ابھی تک انھی�� ادا نہیں کیے گئے، حالانکہ یہ چند ہزار روپے کی رقم ہے اور اس کو سالوں بیت گئے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ظہور احمد خان مالک فکشن ہاؤس ان کی کتابوں کی فائلز، سافٹ کاپیز بھی دینے سے انکاری ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کوئی بیٹا نہیں اور ان کے ساتھ کوئی سیاسی طاقت بھی نہیں۔ پولیس کو انھیں نے درخواست کی ہے لیکن پولیس بھی ظہور احمد سے کتابوں کی تعداد پوچھنے اور ��افٹ کاپیز لینے سے قاصر ہے۔ یعنی ڈاکٹر صاحب اپنی زندگی بھر کی محنت کا صلہ نہیں صرف محنت واپس مانگ رہے ہیں وہ بھی نہیں مل رہی۔ یہ ہم کے لیے بطور قوم افسوس کا مقام ہے۔