عجیب الخلقت خاندان
نواز شریف 67 سال کا ہے لیکن69 سال والے شہباز سے
سے بڑا ہے
نواز شریف نے جب کلثوم بی بی بیمار تھی کہا تھا
میرا ان سے چالیس سال رفاقت کا رشتہ ہے ،جبکہ حسین 48 سال
اور مریم 46 کی تھی حسن 42 سال کا
نواز شریف کا ابا امیر تھا ،شہباز کا غریب
مریم کہتی ہے حسین نواز کا دادا ارب پتی تھا
جبکہ حمزہ کا دادا ایک مزدور تھا
جدہ سٹیل 2006 میں بیچ کے اسی پیسے سے 2002 میں لندن فلیٹ
خریدے جبکہ حسن نواز 1992 میں ادھر رہ رہا تھا
چودھری نثار کہتا ہے لندن فلیٹس 93 سے شریف خاندان کی ملکیت ہیں
سن 68 میں لگنے والی اتفاق فاؤنڈری نے 65 کی جنگ میں ٹینک بنائے تھے
جدہ سٹیل بیچی اور لندن کی پراپرٹی خریدی ،لیکن الحمد للہ جدہ سٹیل اب
بھی ہماری ہے 1989 ابوظہبی سے سٹیل مل شفٹ کرکے 1988 میں
جدہ میں لگا لی
ہم الحمد اللہ 1988 میں ارب پتی تھے لیکن ٹیکس صرف 900 دیتے تھے
سن 1992 میں چار ہزار سات سو ٹیکس دیا
میں جب وردی پہن کر گآؤں جاتا تو گاؤں کی عورتیں چھت پر چڑھ کر
دیکھتیں ،صفدر اعوان
حسین نواز نے دو سال کی عمر میں شیخ جاسم کے والد سے پارٹنر شپ
کا معاہدہ کیا
کلیبری فونٹ ایجاد ہونے سے پہلے اس خاندان نے استعمال کر لیا
ایک سال پہلے میری لندن تو کیا پاکستان میں کوئی پراپرٹی نہیں
لیکن ایک سال بعد الیکشن کے کاغذات میں پانچ ملیں سینکڑوں ایکڑ
زرعی اراضی ،شاپنگ مالز ،لندن میں پراپرٹی اور اٹلی میں سٹیل مل
وہ مہر النساء والی بات غیر اخلاقی ہے
کاپی
Federal Board of Revenue (FBR) to disable the mobile phone SIMs of the persons who are not appearing on active taxpayer list but are liable to file the Income Tax Retum for Tax Year 2023.
#FBR#TaxFiling2023#AvoidSIMBlockage#TaxConsultant#PakistanTax
Federal Board of Revenue (FBR) to disable the mobile phone SIMs of the persons who are not appearing on active taxpayer list but are liable to file the Income Tax Retum for Tax Year 2023.
#FBR#TaxFiling2023#AvoidSIMBlockage#TaxConsultant#PakistanTax
حلقہ PP156 کی تاریخی کامیابی پر والٹن روڈ پر پارٹی رہنماؤں، کارکنان اوراحباب نےجیت کاجشن منایا۔
میں حلقہ PP156 کی غیور عوام، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کا دل کی گہرائیوں سےشکریہ ادا کیا۔ میں یہ جیت حلقہ کی عوام کےنام کرتا ہوں جنہوں نےخوف کےبتوں کو شکست دےکر قومی فریضہ سرانجام دیا۔
" واہ قاضی تیرا انصاف ۔ الیکشن کمیشن کی بدنیتی اپنی جگہ مگر رات کے فیصلے نے ثابت کیا کہ سکندر سلطان راجہ اور قاضی فائز عیسی کے مسائل کچھ مختلف نہیں ، آئین کے مطابق (صاف شفاف انتخابات) پر الیکشن ایکٹ حاوی ہو گی۔ یہ سب عدالتی انجینئیرنگ نہیں تو کیا ہے۔ قاضی فائز عیسی کا یہ نیا رخ (شاید پرانا) کیا گل کھلائے گا؟ " مطیع اللہ جان
ایک ادارے کا سیاست میں بہت گھٹیا کردار ہے،سارے کام کرنے ہیں اپنا کام نہیں کرنا،پتلونیں اتار کر آ گئے اور اب اپنی بھڑاس لوگوں پر نکال رہے ہیں،کتنے کم ظرف لوگ ہیں،کتنے بذدل لوگ ہیں کہ اپنے شہریوں کے خلاف اپنی سب طاقت استعمال کر رہے ہیں،آپکے پاس سب طاقت ہے توپیں ہیں بندوقیں ہیں،ہمارے پاس آواز ہے اور قلم ہے،اور آپ ہم سے ڈرتے ہیں
کیا جنگ آپ لڑیں گے؟
(ایمان مزاری )