سمی دین بلوچ کا خود والد صاحب ڈاکٹر محمد دین بلوچ سالوں سے جبری لاپتہ ہے لیکن وہ پھر بھی دوسروں کے لئے امید بنی ہوئی ہے
اتنا بھی کوئی کیسے بہادر ہوسکتا ہے؟
یہ بلوچوں کا خون کس چیز سے بنتی ہے؟
اِک ایسا سالگرہ کہ جس کا کیک آج اسلام آباد پریس کلب کے باہر اَشکوں سے تَر اُجڑے سبزہ زار میں قلم سے کاٹا گیا۔
یہی لمحات اپنا کُل زادِ راہ اور سرمایہِ حیات ہیں۔
یہ فاتحانہ مسکراہٹیں اُن ماؤں، بہنوں، بھائیوں کے نام جن کی زندگیاں اپنے پیاروں کی مسکراہٹوں کے انتظار میں کَٹ رہی ہیں۔
پشتون ساتھیوں کی اس محبت کو بلوچ نسل در نسل یاد رکھیں گے۔ پشتون مشکل کی گھڑی میں ہماری ماؤں بہنوں کے ساتھ کھڑے رہے اور ان کی ہر ممکن مدد کی۔
#MarchAgainstBalochGenocide
یہ ہے کوہ سلیمان کے دامن سے لانگ مارچ میں شریک سعدیہ بلوچ @sadiabalochssb جو پنجاب یونیورسٹی میں لاء کی سٹوڈنٹ ہے لیکن وہ سب کچھ چھوڑ کر بلوچ خواتین لانگ مارچ کا حصہ بنی۔
جب ان سے پوچھا کہ آپ کا کوئی گھر والا لاپتہ ہے ؟
تو بتایا نہیں اپنے گھر کا کوئی بندہ لاپتہ نہیں، لیکن جتنے لوگ جبری لاپتہ ہیں وہ میرے بھائی ہیں وہ میرے اپنے ہیں۔
بہادر سعدیہ بلوچ نے ثابت کر دیا کہ بلوچ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں انکا درد انکا غم اپنے وطن اور وطن کے باسیوں کے لیے مشترک ہے بلوچ وطن اپنے ان بچوں کی بہادری اور کمٹمنٹ کو سلام پیش کرتی ہے
#MarchAgainstBalochGenocide
@MahrangBaloch_@SammiBaluch@VeengasJ@PirdhanB@BalochLatif@bahot_baluch@zehrijournalist@HamidMirPAK
جی ایچ کیو میں بیٹھے فرعون اور انکے ٹاؤٹ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کو شکست دے کر اسلام آباد سے بھگا دیا ہے لیکن فیصلہ بلوچ عوام نے کرنا ہے اور انھوں نے تو مہرنگ کے لئے نغمے بنا دئیے ہیں کہ
“مہرنگ تم یہ جنگ جیت چکی ھو”
#MarchAgainstBalochGenocide https://t.co/qLzYUzhoA8
ویسے تو میں کیمرے پر کم ہی آتا ہوں لیکن کل جب بلوچ بہن بھائی جا رہے تھیں، تو ہمارے دل رو رہے تھیں۔
ایک پیغام ریکارڈ کیا۔
یہ ہار کے نہیں جار رہے ہیں۔۔
اس دھرنے کی وجہ سے بلوچوں کے بارے میں جو Perspective بنا تھا وہ ختم اور تبدیل ہو گیا۔۔۔
دو مطابات تھیں
1-لاپتہ لوگوں کو رہا کریں یا اگر کوئی جرم کیا ہے تو انکو عدالتوں میں پیش کریں لیکن بلاچ بلوچ کی طرح ماورائے عدالت قتل نہیں۔
2-بلوچ جینو سائڈ بند کریں
ریاست کو انکے ساتھ ہر قیمت پر مزاکرات کرنے چاہئے تھے اب بھی وقت ہے
کیا پتا کل پھر بلوچ ہی مزاکرات پر راضی نہ ہوں۔
@MahrangBaloch_@SammiBaluch@sairabaluch_@PirdhanB
Goodbye young brave Dr @MahrangBaloch_ May you come back to a more tolerant receptive Islamabad,you have brought the nation’s attention a grave crime against humanity & united the Baloch people to raise their voice against decades of injustice.
میں اپنی بیٹی کو اس کی چھوٹی بلوچ بہنوں کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے لے گیا، فکر مند تھا کہ شاید میں اسے زیادہ دیر تک وہاں نہ رکھ سکوں۔ لیکن میں کتنا غلط تھا! وہ جا کر اپنے چھوٹے دوستوں کی گود میں بیٹھ گئی۔ اور اب، یہ صرف ایک یاد ہے، وہ واپس چلے گئے ہیں اور ہم کچھ نہیں کر سکے۔
In response, Irish Foreign Minister Michael Martin confirmed that Ireland is already aware of the issues in Balochistan and has raised them with Pakistani authorities multiple times. He affirmed that Ireland is closely monitoring the human rights and political situation.