As we commence phase five of our peaceful movement against human rights abuses, extrajudicial killings, and enforced disappearances through a rally in Quetta, the provincial government of Balochistan has imposed Section 144 to ban public gatherings.
The government spokesperson has also spread rumors about the possibility of a suicide bombing. This is an attempt to disrupt and disturb our right to peaceful assembly.
I want to draw your attention to the fact that in case of any unpleasant event or anything happening to peaceful protesters and the families of missing persons, caretaker Prime Minister Anwaar Ul Haq Kakar, government provincial spokesperson Jan Achakzai, the Balochistan government, and law enforcement agencies must be held accountable.
. @HRCP87@amnestysasia, @UNinPak@EUPakistan@RKionka@FrontLineHRD@unwomen_pak@ProtectHRD_EU@freedomhouse@MunizaeJahangir@MaryLawlorhrds
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
اسلام آباد کی اس ٹھٹھرتی سردی،یخ بستہ ہواؤں اور دھند کے راج میں 5 سیکنڈ کے لیے بھی بالکونی میں کھڑا ہونا مشکل ہے۔ اِن سخت موسمی حالات میں بچّے،خواتین اور ضعیف العمر بیمار لوگ پریس کلب کے سامنے کھلے آسمان تلے کیسے سو رہے ہوں گے،تصور کرنا مشکل ہے۔ دوسری جانب پولیس کی دھونس دھمکیاں۔
قاضی کا دوسرا چہرہ
تحریر: مطیع اللہ جان
یہ چیف جسٹس کی کرسی میں ایسا کیا ہے کہ اس پر بیٹھا شخص ایک جرنیل کی سازش ناکام بناُکر دوسرے جرنیل کی گود میں بیٹھ کر کلکاریاں مار کر خوش ہوتا ہے۔ افتخار محمد چودھری نے جنرل مشرف کیطرف سے اپنی برطرفی کا بدلہ جنرل کیانی کی گود میں بیٹھ کر لیا، اور آئین اور سیاست کو رسوا کرنے والے ساتھی جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بجا طور پر ذلیل و رسوا کیا مگر ساتھ میں جنرل کیانی کو مضبوط بنانے کے لئیے آصف زرداری کی حکومت اور سیاست دانوں کو سو موٹو اختیارات ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آصف زرداری کا قصور افتخار چودھری کی فوری بحالی کی مخالفت تھی، جنرل کیانی اور بحال شدہ افتخار چودھری نے پھر مل کر سیاستدانوں اور سویلین حکومت کرپشن کے الزامات پر یرغمال بنا کر رکھا-
آج بھی وہی کچھ ہو رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل باجوہ، جنرل فیض اور عمران خان کی مخلوط حکومت نے جسٹس فائز عیسی کو ذاتی طور پراور اِس ملک کے سیاسی اور عدالتی نظام کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچایا جس میں ثاقب نثار، آصف سعید خان کھوسہ اور بندیال ٹائپ ججوں کا گھناؤنا کردار رہا ہے مگر اب چیف جسٹس فائز عیسی کیا کر رہے ہیں؟ افتخار چودھری کی طرح معجزاتی بحالی کے بعد چیف جسٹس فائز عیسی کو بھی جسٹس اعجاز الاحسن کا سر طشتری میں پیش کیا گیا ہے بلکل اُسی طرح جس طرح جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور ساتھی پی سی او ججز کو افتخار چودھری کی رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ ویسے تو ایسے استعمال شدہ ججوں کیساتھ جتنا بھی ہوا وہ بہت کم تھا مگر پھر یہ ہر بحال شدہ چیف جسٹس ہر نئی اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کے لئیے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا اپنا مذھبی فریضہ کیوں سمجھتا ہے، بحال شدہ افتخار محمد چودھری نے ایک لومڑی کی مانند اسٹیبلشمنٹ کے بوڑھے شیر کے غار تک آصف زرداری اور سویلین حکومت کو گھیر کر لایا، بلکل اِسی طرح بحال شدہ قاضی فائز عیسی بھی جسٹس اعجاز الاحسن کے سر کو اسٹیبلشمنٹ کا تحفہ سمجھ کر اب عمران خان، اُسکی سیاسی جماعت اور ملک کی سیاسی جماعتوں کے اندر بھی انجینئیرنگ کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ افتخار چودھری کو بھی اپنی شھرت اور عوامی مقبولیت پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا جسکا نتیجہ اسکے بیٹے ارسلان کے کارناموں کیصورت سامنے آیا اور قاضی فائز عیسی بھی اُسی راستے پر چل نکلے ہیں۔
بلے کے نشان متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا فیصلہ ایک طرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے اُس گھناؤنے پراپیگنڈا کا براہ راست جواب ہے جو انکی حکومت میں صدارتی ریفرنس کے دوران کیا گیا۔ تو دوسری طرف ایک بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی سازش کا حصہ بھی ہے۔ ایک تیر سے دو شکار ہو گئے ہیں، عمران خان اور اُسکی پارٹی کے ساتھ جو ہوا وہ انکا اپنا کیا دھرا ضرور تھا مگر بطور سپریم کورٹ اور بطورچیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جس طریقے سے بلے کے نشان متعلق کیس کی سماعت کی اور دنیا نے براہ راست دیکھا وہ کسی طور بھی ذاتی رنجش اور انتقامی جذبے سے مبرا نہیں تھا۔ آج کا جنرل کیانی اور افتخار چودھری ایک بار پھر آج کے زرداری کے در پر ہیں۔
بلے کے نشان متعلق سماعت میں قاضی فائز عیسی نے ایک جج کی بجائے الیکشن کمیشن کے وکیل کا کردار ادا کیا، آئینِ پاکستان کے دفاع کا حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے تین ججوں نے ایک سیاسی جماعت (پی ٹی آئی) کے آئین پر عملدرآمد میں جتنی دلچسپی دکھائی اُس سے واضح طور پر انتقام اور ذاتی رنجش کی بو آ رہی تھی، یہ وہی چیف جسٹس تھے جو ایف بی آر اور دیگر قوانین کی خلاف ورزی کے دفاع میں بجا طور پر آئینِ پاکستان کی شق ۲۰۹ اور عدلیہ کی آزادی کی قوالی کرتے نہیں تھکتے تھے، اور اب جب مخالفین کا کیس سامنے آیا تو الیکشن ایکٹ عیسی کی بائیبل بن گیا۔
آئین کی تشریح پر انا کی تسکین حاوی ہو گئی، اعجاز الحسن کا استعفی، چند لاپتہ افراد کا واپس آ جانا، سیکرٹری دفاع کا افواج پاکستان کا افواج پاکستان کو خ، اس سب سے انا کی تسکین تو ہو جائیگی آئین کی تشریح نہیں۔
آئین کی شق ۱۷ میں تنظیم سازی کا بنیادی حق عام شھری کا ہے مگر جج صاحب کے لئیے اکبر ایس بابر کا پی ٹی آئی کا بانی رکن ہونا قاضی صاحب کے لئیے مقدس واقعہ ٹھرا۔ سیاسی جماعت کے آئین اور الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی تو شاید پی ٹی آئی نے ہی کر رکھی تھی کیونکہ کسی اور پارٹی کے کارکن نے شکایت ہی نہیں کی تھی ، واہ قاضی تیرا انصاف، آئین کے آرٹیکل ۲۰۱۸ (صاف شفاف انتخابات)پر الیکشن ایکٹ حاوی ہو گی۔ یہ سب عدالتی انجینئیرنگ نہیں تو کیا ہے۔ قاضی فائز عیسی کا یہ نیا رخ (شاید پرانا) کیا گل کھلائے گا؟ یہ چیف جسٹس کی کرسی میں ایسا کیا چُبھتا ہے جو اُسے اسٹیبلشمنٹ کے بوٹ میں اپنی شکل تلاش کرتے رہنے پر مجبور کرتا رہتا ہے، ظالمو قاضی ہمارے ہاتھ سے جا رہا ہے۔ہ
کل کی دو ٹوک جواب کے بعد میری Fabricated pictures کی بنا پر مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے زریعے میرے خلاف نازیبا اور غلیظ پروپیگنڈہ مہم جاری ہے۔
وہ دور گزر گئے جب کسی عورت کو خاموش کرنے اور اسکی آواز دبانے کیلئے اسکی پرائیوسی پر بلیک میلنگ اور کردار کشی کا حربہ استعمال کیا جاتا تھا
بلا شبہ یہ میرا زاتی فیصلہ تھا کہ میں نقاب میں میڈیا کے سامنے آؤنگی لیکن چند لوگوں نے بطور عورت اس چیز کو میری کمزوری سمجھ لیا ہے
اس جدوجہد میں ہم نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی زندگیوں کے ساتھ ساتھ بہت کچھ داؤ پر لگایا ہے مگر اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں انکو اور انکے پالنے والوں کو مبارک ہوں۔
ننھا منھا دھشتگرد جمال رئیسانی اسلام آباد بیٹھ کر بلوچستان کے لئے آنسو بہا رہا ہے لیکن تھائی لینڈر ماں کے بچے کا بلوچستان سے تعلق اس وقت بنا،جب اسے نگران صوبائی وزیر بنانے کے لئے پاکستانی شناختی کارڈ بنایا گیا
اگر اسکا باپ نہ مرتا تو آج بھی تھائی لینڈ میں مساج پارلر چلا رہا ھوتا
بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے تیسرے مرحلے میں آج کوہ سلیمان کے علاقے میں احتجاج تھا اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اغواء گردی کرتے ھوئے تونسہ سے 40 سے زائد مظاہرین اغواء کرلئے ہیں جبکہ ڈیٹھ سکواڈ والوں کو اسلام آباد میں تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں
#IStandWithBalochMarch
سپریم کورٹ نے آئین شکن غدار اور قاتل مشرف کو سزا کا جسٹس وقار سیٹھ کا فیصلہ بحال کردیا ہے لیکن اس آئین شکن کی ہڈیاں قبر سے نکال کر لٹکائی جانی چاہئے تاکہ موجودہ آرمی چیف عاصم منیر یا اسکے بعد آنے والوں کو آئین شکنی کرنے سے پہلے خوف ھو کہ بعد میں ہمارا انجام بھی ایسا ھوسکتا ہے
بلوچستان کے شہروں کی آبادی پنجاب کی طرح لاکھوں کروڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے اور پورے خاران ضلع کی آبادی صرف 45 ہزار ہے لیکن آج جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج میں خاران شہر میں عوام کی شرکت دیکھئیے۔
ہر خاتون ہر مرد ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کے لئے باہر نکل آیا ہے
#IStandWithBalochMarch
جان اچکزئی جیسے کتے مہرنگ بلوچ،سمی دین بلوچ اور دیگر خواتین پر بھونکتے ہیں کہ بیرون ملک جانا چاہتی ہیں لیکن کیا کریمہ بلوچ کینیڈا اور ساجد بلوچ سویڈن میں قتل نہیں ھوا؟
سلام ہے انکو کہ اغواء اور قتل ھونے کے خدشے کے باوجود شیرنی بن کر میدان میں کھڑی ہیں
#IStandWithBalochMarch
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ماہرنگ بلوچ @MahrangBaloch_ کی زیر قیادت دھرنے میں اہلیہ حمیرا طیبہ @humairatayyaba سمیت شرکت کی۔ 48 دنوں سے زائد ہو گئے ہیں حکومت @GovtofPakistan کی بے حسی، مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ابھی تک دھرنے کے مطالبات نہیں سنے گئے۔ حکومت فوری طور پر جبری گمشدہ افراد کو بازیاب کرے، جبری گمشدگی ختم کرے، ماورائے عدالت قتل بند کرے، ڈیتھ سکواڈ کا خاتمہ کرے اور بلوچ دھرنے کے مطالبات تسلیم/پورا کرے۔ پاکستان بھر کے عوام محکوموں، مظلوموں، دردمندوں، دکھ کے ماروں دھرنے کے شرکاء کی آواز بنیں۔
#IStandWithBalochMarch
@mohrpakistan
یہ ریاست آخر چاہتی کیاہے؟ نہ جبری گمشدگی کے پالیسی کو ختم کرنے کو تیار ہے، نہ انسانی حقوق کے پامالیوں کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے، نہ پرامن احتجاج کے مطالبات کو تسلیم کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی پر امن احتجاج کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔
آج تونسہ شریف میں پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
#IStandWithBalochMarch
#MarchAgainstBalochGenoscide
پاکستان کے کئی سابق وزرائے اعظم، سابق وزرائے اعلیٰ ، سابق گورنر اور سابق پارلیمنٹرینز شہید کر دئیے گئے کسی کے قاتلوں کو آج تک سزا نہ ملی شہید بینظیر بھٹو اور شہید اکبربگٹی کے مقدمات میں نامزد ملزم جنرل پرویز مشرف ایک دن کے لئے بھی جیل نہ گیا ان سب شہدا کو ریاست کب انصاف دیگی؟
جس دن سے یہ بےغیرت انسان جمال رئیسانی بلوچ خواتین کے مقابلے پر دھرنہ دے کر بیٹھا تھا،تب سے سوچ رہا تھا کہ اتنے بےغیرت انسان کا انتہائی حرامی انسان غفورے ماچھی سے تعلق ضرور ھوگا اور آج یہ تصویر سامنے آگئی کیونکہ ممکن ہی نہیں ہے کہ پاکستان کے کسی حرامی کا غفورے سے تعلق نہ ھو