پاکستان سعودیہ ترکیا کا معاہدہ فرقہ وارانہ ہے، امریکی غلامی ہے، غلط ہے. اسکی مذمت ہونی چاہئے اور اسکے خلاف مہم چلنی چاہئے.
اب نظر ڈالیں حلال معاہدوں پر جن پر پاکستان میں مکمل خاموشی تھی:
2001 میں ایرانی نظام اور پاسداران انقلاب نے افغانستان میں ریجیم چینچ اور قبضہ کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ طاجيكستان میں خفیہ معاہدہ کیا تھا، جسکے مطابق ایران نے افغانستان میں ریجیم چینج اور قبضہ کرنے میں امریکی اور نیٹو افواج کی مکمل عسکری اور انٹیلیجنس مدد کی، ایرانی افسران باقاعدہ افغانستان کے اندر امریکیوں کے ساتھ تھے. پاکستانی مدد صرف ائیر سپیس تک محدود تھی.
2003 میں ایرانی نظام نے خفیہ معاہدے کے تحت امریکی برطانوی افواج کو بغیر لڑے عراق پر قبضہ کروایا. پاسداران کے مجاہد، امریکی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے. اسوقت سعودیہ نے امریکی اڈوں کو خالی کروا دیا تھا کہ سعودی سرزمین سے عراق پر قبضہ نہیں ہونے دے سکتے. امریکی افواج نے قطر میں بیس بنایا اور ایران کی مدد لی.
2003 میں ایرانی نظام نے اپنے نیوکلیئر پروگرام بچانے کیلئے امریکہ اور عالمی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ معاہدہ کیا، جسکے مطابق مراعاتوں کے بدلے پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بے نقاب کردیا اور پاکستانی ایٹمی پروگرام کو داؤ پر لگانے کی کوشش کی.
2004 میں ایرانی نظام نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جو "کسی ملک کے خلاف نہیں تھا!" (سمجھ گئے ہوں گے!)
2011 میں ایرانی نظام نے روس کے ساتھ شام کی عوام کو کچلنے کا معاہدہ کیا ایک ظالم حکمران کو بچانے کیلئے. دس لاکھ سے زیادہ شامی مارے گئے تھے.
2011/2012 کے لگ بھگ ایرانی نظام نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ چابہار میں اڈہ قائم کرنے کا خفیہ معاہدہ کیا. پاسداران انقلاب اسلامی فورس کے اڈوں کے درمیان کمانڈر کلبھوشن یادیو کا سیاحتی دفتر کھولا تھا جو "کسی کے خلاف نہیں تھا!"
2015 میں یمن جنگ پر پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی کوششیں کی تاکہ پاکستان یمنی اور سعودی حکومتوں کا ساتھ نہ دے، ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد آ گئے ہمارے حکام کو ریاض جانے سے روکنے اور پیچھے سے بھارتی حکام کو سعودیہ بھیج دیا پاکستان کی پوزیشن خراب کرنے.
2015 میں ایرانی نظام نے امریکہ اور بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کئے جن سے بے تحاشا مالی فوائد کے ساتھ ساتھ یہ معاہدہ بھی کہیں ہوا کہ مغرب اور ایران ملکر کام کریں گے مشرق وسطی میں اور "عرب بہار" مظاہروں کے ذریعے عرب بادشاہتوں کو گرائیں گے.
2016 میں ایرانی نظام نے مودی جی اور افغان صدر کو چابہار معاہدے کیلئے مدعو کیا، گوادر کی توڑ میں، لیکن یہ اقدام بھی "کسی کے خلاف نہیں تھا!"
یہ سب حلال معاہدے تھے. اصل غلط معاہدہ وہ ہے جو پاکستان نے مکہ میں سعودیہ اور ترکیا کے ساتھ کیا ہے.
@MumtazBhattiDin سر ، اپ کی رائے سے اتفاق کے بعد صرف ایک بات سے اختلاف کہ امریکہ کی ڈیفنس ٹیکنالوجی ناقص ہے ۔ کیسا ہو کہ کل یہ راز کھلے کہ سارا پرانا اسلحہ پھونک کے امریکہ عرب ملکوں کو بھاری بل بھیج دے
Three great leaders of Muslim Ummah, H.E. Muhammad Bin Salman, H.E. Tayyip Erdoğan and General Asim Munir . Remind me of Islamic Summit. May Almighty protects them