پاکستان کی ایک کینگرو کورٹ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سیاسی رہنما گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ میں اس فیصلے کو صرف ایک سزا کے طور پر نہیں دیکھتی، بلکہ اسے بلوچستان میں انصاف کے ساتھ ہونے والے مسلسل مذاق اور پُرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کے جاری عمل کی ایک اور مثال سمجھتی ہوں۔
جس مقدمے میں دفاع کے وکیل کی غیر موجودگی میں گواہ پر جرح کی جائے، جہاں دفاع کو اپنی بات مؤثر طور پر رکھنے کا مکمل موقع نہ دیا جائے، اور جہاں جج ملزم اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں طے شدہ احکامات کی تکمیل کرے، وہاں عدالت کے طرزِ عمل، دباؤ اور غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ یہ عدالتوں کا یہ طرز عمل انصاف کے زمرے میں آتا ہے ؟
گلزادی بلوچ کوئی نامعلوم چہرہ نہیں، وہ ہماری ساتھی اور ہماری جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ اسے خاموش کرنے کے لیے عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف ہماری آواز کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گلزادی کی سزا اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بلوچستان میں پُرامن سیاسی جدوجہد کو کس قدر دباؤ اور جبر کا سامنا ہے۔
ہمارے ساتھیوں پر جبر صرف قید اور مقدمات تک محدود نہیں۔ ہماری تنظیم کے سرگرم کارکن نذر مری بلوچ کو بھی گزشتہ ایک سال سے جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پُرامن سیاسی کارکنوں کو قید اور لاپتہ کرکے بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟
ہمیں مذاکرات کا درس دینے والوں سے میرا سوال ہے: جب ایک طرف ہمارے ساتھی جیلوں میں قید ہوں، دوسری طرف ان کے دفاع اور قانونی حقوق محدود کیے جائیں، اور سیاسی جدوجہد سے دستبرداری کے لیے دباؤ ڈالا جائے، تو پھر مذاکرات کس بنیاد پر ہوں گے؟ گلے پر چھری رکھ کر مذاکرات نہیں ہوتے، یہ صرف جبری خاموشی مسلط کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ مجرمانہ طرزِ عمل بلوچستان میں پُرامن جدوجہد پر ریاستی اداروں کے جاری جبر کی ایک سفاک مثال ہے۔ نام نہاد مذاکراتی عمل کے دوران، بلوچستان میں جاری خونریزی اور مسلسل جبر کے باوجود، معاملہ فہمی، سنجیدگی اور نیک نیتی کے بجائے دباؤ، ہٹ دھرمی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔
مذاکرات کے نام پر مسلسل ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ ہم اپنی پُرامن سیاسی جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں۔ ہمیں کہا گیا کہ تمام ججز ہمارے ہاتھ میں ہیں اور آپ کی دی ہوئی کوئی بھی درخواست کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہم نے ان تمام حالات کے باوجود دلیل اور سیاسی جرات کا راستہ اختیار کیا، جو ہماری بنیادی سیاسی تربیت کا حصہ ہے۔ ہم بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے ہم نے کبھی بھی مکالمے اور مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔
اس جبر کے دورانیے میں بھی ہماری تنظیم لاپتہ افراد کی سالانہ رپورٹ محکمہ داخلہ بلوچستان میں جمع کرائی، جو ہمارے زمہدار تنظیم ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
مگر ہم نے مذاکرات کے نام پر کسی بھی سیاسی انجینئرنگ کو نہ پہلے قبول کیا ہے اور نہ آئندہ کریں گے۔ بی وائی سی بلوچ عوام کی نمائندہ جماعت اور ان کی امانت ہے۔ ہماری جدوجہد کسی فرد یا عہدے کے لیے نہیں بلکہ اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور انصاف کے لیے ہے۔
ہمارے انکار کے بعد چار رکنی عسکری مذاکراتی ٹیم نے ہمیں کہا کہ فیصلہ یہ ہے کہ جب تک آپ ہماری باتیں نہیں مانیں گے، آپ جیل میں رہیں گے۔ ہمیں یہ بھی کہا گیا کہ جج کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر ہم ان کی بات مان لیتے ہیں تو ہم میں سے ایک شخص کو رہا کر دیا جائے گا؛ وہ باہر جا کر ان کی باتوں پر عمل کرے گا تو باقی لوگوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ہمیں دو، تین سال کے لیے یورپ میں آباد ہو جانے کی پیشکش بھی کی گئی۔ ہم نے ان سمیت تمام ایسی پیشکشوں کو مسترد کیا، کیونکہ ہماری جدوجہد کسی وقتی رعایت، مراعات یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہے۔
ہم نے واضح کیا کہ ہم کسی سلیکٹڈ پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بنیں گے، جو عوام کے بجائے عسکری قوتوں کے ترجمانی کریں نہ کبھی بلوچستان کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں پناہ لیں گے۔ ہمارا انتخاب بلوچستان کی عوام ہیں، اور ہمارا راستہ اپنے عوام کے بنیادی جمہوری حقوق کی جدوجہد ہے۔ اگر اس جدوجہد کی قیمت قید ہے تو ہم یہ قیمت ادا کریں گے، اور جیل سے بھی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ہم ان تمام اداروں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ طاقت کے بل پر آپ بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔ آپ نے بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کرنے اور کارکنوں کو لاپتہ کرنے کے باوجود بلوچستان میں امن قائم نہیں کیا-
155 days, and Dad Shah Baloch is still missing.
They may try to bury the truth in silence, but they cannot bury our voice. Every unanswered day strengthens our resolve, and every day he remains missing makes our demand louder:
1/2
Five months have passed since my brother, Dad Shah, was forcibly disappeared.
I urge everyone to join today’s campaign. Raise your voice, speak for him,& demand his safe & immediate release.ur one tweet can make a difference & help bring our happiness back.
#ReleaseDadShahBaloch
Does writing within mainstream spaces actively dismantle power, or does it simply serve the ruling apparatus?
In my latest article, I critique those mainstream writers who incorporate themselves into Hegemony […]
Link for the article/paper:
https://t.co/SVJa9GkF21
بلوچستان میں عدلیہ مکمل طور پر اپنا اثر اور عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ جس عدلیہ کی ذمہ داری عوام کو انصاف فراہم کرنا تھی، وہ آج ریاستی اداروں کی معاون بن کر انصاف کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان کامران ملاخیل بی وائی سی کے تمام مقدمات کی خود پیروی کر رہے ہیں، جبکہ ان کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مبین، جسٹس قادر شاہ بخاری سمیت پورے بلوچستان میں بی وائی سی کے مقدمات سننے والے ججز کو ریاستی ایما پر فیصلے دینے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ ایسے حالات میں عدلیہ کی غیرجانبداری اور آزادی ختم ہوچکی ہے ۔
گلزادی بلوچ کا مقدمہ اس عدالتی رویے کی ایک واضح مثال ہے۔ متعدد مواقع پر متعلقہ جج کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ دباؤ میں ہیں اور انہیں کیس میں سزا سنانے کی ہدایات دی گئی ہے، عدالتی آزادی اور غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ 7 ستمبر کو عدالت میں ہڑتال اور وکیلِ صفائی کی عدم موجودگی کے باوجود گلزادی بلوچ کے مقدمے کی کارروائی جاری رکھی گئی اور دفاع کے وکیل کی غیرموجودگی میں گواہ پر جرح کی گئی۔ یہ دفاع کے بنیادی حق اور منصفانہ ٹرائل کے اصول پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔
اسی طرح ہمارے مقدمات میں بھی ہماری اجازت کے بغیر تعینات کیے گئے سرکاری وکلاء کو مختلف مراعات دے کر اسلام آباد تک پہنچایا گیا، جبکہ ہمیں اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا۔ کیا یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انصاف ہے، جہاں عدالتیں آزادانہ فیصلوں کے بجائے ریاستی اداروں کے طے کردہ فیصلے سنانے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ہمیں عمر قید کی سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیل کا آئینی و قانونی حق حاصل ہے، مگر ہماری اپیل کی سماعت کے لیے بھی ایک طویل تاریخ، اکتوبر تک کی، مقرر کر دی گئی ہے۔ جسٹس کامران ملاخیل کی سربراہی میں اس طرح کی مسلسل تاخیر ہمارے بنیادی حقِ اپیل اور فوری انصاف کے حق کو متاثر کر رہی ہے۔ جب ایک شخص پہلے ہی قید میں ہو تو اس کی اپیل کو غیرضروری طور پر طویل عرصے تک مؤخر کرنا دراصل قید کو ہی سزا میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
13 جون سے آج تک فیس لیس ٹرائل کے خلاف بی وائی سی نے 20 پیشیوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس حوالے سے ہماری پٹیشن بلوچستان ہائی کورٹ میں جمع ہو چکی ہے، مگر چیف جسٹس کامران ملاخیل کی سربراہی میں عدالت ہماری پٹیشن سننے اور ہمارے دفاع کے بنیادی حق کا تحفظ کرنے کے بجائے مسلسل اس معاملے کو تاخیر کا شکار کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل عدلیہ کی غیرجانبداری پر ایک واضح سوال ہے۔
دوسری جانب چیف جسٹس ملاخیل کی جانب سے گزشتہ چھ ماہ سے ہماری ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کرنے کے بجائے بار بار مقدمات کو ڈی لسٹ کیا جا رہا ہے۔ کسی شخص کو عدالتی عمل کے ذریعے ہی سزا کا شکار بنانا اور ضمانت کے معاملے میں مسلسل تاخیر کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان کو کسی فریق کا کردار ادا کرنے کے بجائے اپنے آئینی منصب کے تقاضوں کے مطابق غیرجانبدارانہ اور انصاف پر مبنی فیصلے کرنے چاہئیں۔ عدلیہ کا کام ریاستی اداروں کے فیصلوں کو قانونی جواز فراہم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق، دفاع کے حق، اور انصاف تک بروقت رسائی کا تحفظ کرنا ہے۔
ہم سپریم کورٹ آف پاکستان اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بی وائی سی کے مقدمات میں عدالتی جانبداری، دفاع کے حق سے انکار اور انصاف کے تاخیر کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
10 ستمبر 2026
ہدہ جیل کوئٹہ
Symposium on Balochistan-2026
Balochistan, Lived: Stories, Art, Film and the Frames of Everyday Life.
Panel-III: Balochi Films
Panelist 1. Mehrab Khalid
Panelist 2. Irfan Noor
Panelist 3. Maisa Rasool
Panelist 4. Sagar Daad
Join us
#SoB2026#Balochi_Films
Symposium on Balochistan 2026: Balochistan, Lived; Stories, Art, Film and the Frames of Everyday Life
Panel: Baloch Art Forms
Panelist.1: Mahal Abdul Manan
Panelist.2: Hani Akram
Panelist.3: Banadi Ashraf
Panelist.4: Sadaf Bashir
#SoB2026
our upcoming symposium on Balochistan-2026 (#SoB2026).
Balochistan Lived: Stories Art, Film and the Frames of Everyday Life.
Panel-1
Stories and Poetry
Panelists:
Mahpara
Raheem
Zaheer
Noor
Join #SoB2026.
Mehrgarh Research Institute (MRI) is pleased to announce that participant registration is now open for the Symposium on Balochistan (SoB-2026).
Please see the poster for further details.
Participant Registration Form: https://t.co/AIwZm3DEVI
#MRI#SoB2026
Families of civilians killed in the bombing of Gadar Gondan, Surab, have placed the bodies of their loved ones at Surab Main Chowk and begun a protest. The victims have been identified as Shabir, Noor Jan, Raj Bibi, Safia, and Jalal. Their deaths have left families demanding answers, accountability, and justice.The families have vowed to continue their sit-in until their demands are addressed.
#SurabMassacre
#BalochistanBleed
#StopBalochGenocide
𝗕𝗼𝗱𝗶𝗲𝘀 𝗼𝗳 𝘁𝗵𝗲 𝗦𝗹𝗮𝗶𝗻 𝗟𝗶𝗲 𝗼𝗻 𝘁𝗵𝗲 𝗥𝗼𝗮𝗱 𝗮𝘀 𝗦𝘂𝗿𝗮𝗯 𝗥𝗶𝘀𝗲𝘀 𝗔𝗳𝘁𝗲𝗿 𝗗𝗲𝗮𝗱𝗹𝘆 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻𝗶 𝗔𝗶𝗿𝘀𝘁𝗿𝗶𝗸𝗲𝘀
12 𝘼𝙪𝙜𝙪𝙨𝙩 2026 - 𝙎𝙪𝙧𝙖𝙗, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣
In the early hours, Pakistani Air Force jets carried out indiscriminate bombardment of civilian homes in the Gidar area of Surab, killing families as they slept. Several civilians, including women, children, and elderly men, were killed, while several others were injured. Entire households were wiped out, homes were reduced to rubble, and survivors searched through the wreckage with their bare hands for their loved ones.
Drones and Cobra gunship helicopters continue to patrol the skies over Surab, compounding the terror and fear among the civilian population.
In response, grieving families and residents of Surab brought the bodies of their loved ones to RCD road, main Chowk Surab and staged a sit-in protest, refusing to bury their dead until those responsible are held accountable and aerial operations in civilian areas are brought to an end.
This is not an isolated incident. It follows a documented pattern of aerial bombardment of civilian areas across Balochistan, from Zehri to Mastung, where the Pakistani military has repeatedly targeted residential areas and subsequently labeled those killed as “militants” to evade accountability.
The Baloch Yakjehti Committee (BYC) condemns this massacre in the strongest possible terms and call on national and international human rights organisations, the United Nations, Amnesty International, and Human Rights Watch to urgently take notice of this massacre and hold the Pakistani state accountable for the killing of Baloch civilians, including women and children, in their own homes.
#SurabMassacre
#StopBombingCivilians
The extreme barbarism on Baloch civilians at Surab, left us heartbroken. No any word can express this pain and neither any condemnation heels our heart.
Make these atrocities stop in Balochistan.
Do they look like militants? They are innocent children. What is their sin? Will killing children ever bring peace?
Is this Palestine? Is this Kashmir? No. It's Balochistan.