کہیں پہ دن، کہیں پہ رات میں ذلیل ہوئے۔
کہیں پہ دن، کہیں پہ رات پہ ذلیل ہوئے۔
طرح طرح کی روایات میں ذلیل ہوئے۔
وہاں پر خاک اڑائی گئی، جہاں کم ظرف واردات میں ذلیل ہوئے۔
وہ قید خانے میں پڑا ایک شخص معزز ٹھہرا،
تم اپنے محلات میں بھی ذلیل ہوئے۔
عمران خان کو آئسولیٹ کر کے بھی وہ عمران کو توڑ نہ پائے۔ عمران خان کی مزاحمت نے بڑے بڑوں کو جھکا دیا ۔ میرا لیڈر پہلے سے بھی بڑا لیڈر بن گیا، ڈیلر نہیں بنا
@iqrarulhassan 🤦🤦کسی کو تو بخش دیں۔ جب بھی ٹیوٹر کھولو آپ کا کوئی نیا محاذ کھلا ہوتا ہے۔ اصل خبریں دب جاتی ہیں آپ کی ان فضولیات سے ۔ شاید آپ کا یہی ایجنڈا ہے کہ ملک کے مسائل سے توجہ ہٹ رہی۔ہمیں کوئی سروکار نہیں ان فضولیات سے۔ ہمیں معاف کریں اور براہ راست سب سے جنگ کریں ٹیوٹر پر نہیں 🙏
یہ پاکستان کے اندر گل سڑ جانے والی روح کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ہے۔
فیصل آباد کے ایک گاؤں سے تین بوڑھی عورتیں...
عمر پچھتر، اسی کے آس پاس۔ وہ عورتیں جن کی کمر سیدھی نہیں ہوتی، جن کی زندگی کا آخری سہارا صرف دعا رہ گئی تھی؛ ان کا کوئی خواب نہیں، کوئی لالچ نہیں، کوئی منصوبہ نہیں...
بس ایک خواہش:
'مرنے سے پہلے خانۂ کعبہ دیکھ لیں'۔
انہیں مفت عمرہ پیکج ملا۔
اور پاکستان میں 'مفت' ہمیشہ کسی لاش کی قیمت پر ہوتا ہے۔
گاؤں کا زمیدار طاقتور، بااثر، وہی جس کے سلام کے بغیر گاؤں میں شادی نہیں ہوتی؛ ان کے لیے رحمت بن کر آیا۔ اس نے ایک ڈبہ دیا۔ جوتے دیے۔
منشیات سے بھرے!
بوڑھی عورتیں کیا جانتیں کہ ان چیزوں میں موت بھری ہے؟
یہ وہ نسل ہے جسے سوال کرنا سکھایا ہی نہیں گیا، صرف ماننا سکھایا گیا۔
پاکستانی ایئرپورٹ پر کسی نے نہیں پوچھا۔
صرف پاسپورٹ دیکھے، انسان نہیں۔
سعودی عرب میں قانون نے پوچھا۔
اور جواب 25 سال قید ہے۔
پچیس سال!
ان عورتوں کے لیے جو شاید پچیس مہینے بھی زندہ نہ رہ سکیں۔
اصل مجرم؟
وہ زمیدار؟ وہ نیٹ ورک؟ وہ طاقت؟
سب واپس اپنے گھروں میں جا کر سکون سے سو گئے۔
یہ صرف اسمگلنگ نہیں، یہ 'طبقاتی درندگی' ہے۔
پاکستان میں استغفراللہ غریب عورت سب سے محفوظ سمجھی جاتی ہے، کیونکہ وہ سب سے زیادہ استعمال کے قابل ہوتی ہے۔
بوڑھی عورت سب سے بہتر کورئیر ہوتی ہے، کیونکہ اس پر کوئی شک نہیں ہو سکتا۔
اور مذہب سب سے مضبوط پردہ ہوتا ہے، کیونکہ اس پر سوال کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔
یہ ہے ہمارا معاشرہ...
جہاں طاقتور گناہ کو خیرات بنا کر دیتا ہے
اور کمزور اس خیرات کی قیمت اپنی زندگی سے ادا کرتا ہے۔
سب سے خوفناک بات یہ نہیں کہ تین بوڑھی عورتیں جیل میں ہیں۔ سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ یہ خبر ہمیں زیادہ دیر ہلا نہیں سکی۔
ہم نے ایک لمحہ افسوس کیا،
پھر آگے اسکرول کر دیا۔
یہ اس قوم کی اخلاقی موت ہے!
وہ عورتیں شاید کبھی واپس نہ آئیں۔
لیکن ہم سب کا ضمیر وہیں ان کے ساتھ دفن ہو چکا ہے۔
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
Allah didn’t remove the sea for Musa.
He parted it.
Allah didn’t extinguish the fire for Ibrahim.
He made it cool.
Allah didn’t directly heal Ayyub.
He guided him to the water.
Allah didn’t place dates in Maryam’s hands.
He instructed her to shake the tree.
Allah doesn’t always take away our hardships, but He provides a path through them.
So when we seek relief, don’t be surprised if it comes with challenges to overcome.