نازک صورتحال
جس پولنگ سٹیشن پر سید سہیل عباس کی 108 کی لیڈ ہے وہاں۔ ن لیگ نے سہیل بھائی کل 131 کو 13.1 پڑھ کر اقبال صاحب کے صرف 28 ووٹس کی لیڈ بناڈالی
ایک تع پڑھے لکھے نہیں اور پڑھنے لکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے
جی بی اے حلقہ 6 ہنزہ کے فاتح امیدوار نیکنام کریم کا اہم پیغام
ہمارا نتیجہ اگر کسے نے تبدیل کرنے کی جرت کی تو پھر ہم اس جرت کرنے والے کے گلے میں جوتوں کا پھندا ڈالیں گے اور اسے جوتے مار کر بھگا ئنگے
پچھلے کچھ مہینوں سے عمران خان صاحب سے ان کی بہنوں اور سیاسی رفقاء کی ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے۔ ہم مسلسل یہ آواز اٹھا رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کا علاج ان کی مرضی کے ہسپتال میں، ان کے پسندیدہ ڈاکٹروں اور ذاتی معالجین کے ذریعے، ان کے خاندان کی موجودگی میں کروایا جائے۔
حکومت اپنی غفلت اور رعونت کے باعث پہلے ہی عمران خان صاحب کی ایک آنکھ کا نقصان کر چکی ہے۔ اسی لیے گزشتہ روز خیبر پختونخوا کابینہ کے وزراء، اراکینِ صوبائی اسمبلی (ایم پی ایز)، وزیر اعلیٰ اور عمران خان صاحب کی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھیں، لیکن اس کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہیں عید پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی، اور تو اور انہیں کتابیں اور اخبارات تک فراہم نہیں کیے جا رہے۔
حکومت کا یہ رویہ ناقابلِ برداشت ہے اور اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر اپوزیشن اتحاد کی جانب سے قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ جاری ہے۔ انشاءاللہ کل قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی صاحب اسلام آباد پہنچ جائیں گے، جس کے بعد ہم اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔ @YousafzaiHusain
No army can withstand the strength of an idea whose time has come. Victor Hugo
Imran Khan also repeated this quote.
عمران خان نے بھی دہرایا تھا۔۔دنیا کی کوئی فوج اس نظریئے کی طاقت کے خلاف کھڑی نہیں ہو سکتی، جس کا وقت آ چکا ہو-
#گلگت_بلتستان_خان_کا#جی_بی_کا_کپتان_عمران_خان
ڈی سی کوئٹہ کے بیانات حقائق کے برعکس اور زمینی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے۔
کوئٹہ میں پٹرول کی شدید قلت برقرار ہے۔ پورے شہر میں صرف چند پٹرول پمپ جزوی طور پر فعال ہیں، جہاں بھی محدود مقدار میں پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عوام کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
فارم 47 کی نااہل حکومت کے دور میں عوام بجلی، گیس، پانی، موبائل نیٹ ورک اور اب پٹرول جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔
حکومتی دعوؤں اور بیانات کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئٹہ کسی ترقی یافتہ یورپی شہر کا منظر پیش کر رہا ہو، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام آج بھی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے پریشان اور مشکلات کا شکار ہیں۔ عوام کو دعوؤں نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
"ہمارا یہاں آنے کا مقصد ایک ہی ہے، عمران خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے،ان کی فیملی کی موجودگی اور ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں علاج کروایا جائے یہ کوئی غیرآئینی یا غیرقانونی مطالبہ نہیں ہے۔اگر یہ فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کو ملنے نہیں دے رہے تو اس کا مطلب یہ عمران خان کے ساتھ کچھ کرنا چاہ رہے جو پاکستان کی عوام کبھی برداشت نہیں کرے گی"۔وزیراعلی سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
#خان_کے_نام_سے_کانپتی_ٹانگیں