ساری رات امریکہ ایران کے جنوبی صوبوں اور جزائر پر بمباری کرتا رہا۔ دعوی یہ تھا کہ فوجی ٹارگٹس کو ہٹ کر رہا ہے۔ لیکن اصل میں سولین آبادی پر بم برساتا رہا۔
اس جگہ ملبے تلے دبے دو بچوں کا نکالا جا رہا ہے۔
ایران مخالفین سے سوال
امریکہ ایران پر حملے نہ یورپ میں اپنی بیسز سے کر رہا ہے نہ اسرائیل سے انجام دے رہا ہے۔
عرب ممالک میں اپنے اڈوں سے حملے کر رہا ہے۔ ان ممالک میں امریکہ کی پچاس ہزار فوج ہے۔
یہاں سے فائر آئے گا ایران اگر وہاں حملہ نہ کرے تو کہاں کرے؟
"ٹائم نکال کر ضرور غور و فکر کیجئے گا"
مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہر دور میں اللہ کسی نہ کسی ابو ذر کو ضرور پیدا کرتا ہے۔
ایسا انسان جس کا مسئلہ اقتدار نہیں ہوتا بلکہ ضمیر کی آواز ہوتی ہے۔
حضرت ابو ذر غفاریؓ ان چند لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آسمان نے کسی ایسے شخص پر سایہ نہیں کیا اور زمین نے کسی ایسے شخص کو نہیں اٹھایا جو ابو ذر سے زیادہ سچا ہو۔
سوچئے ذرا...
کسی انسان کی پہچان اسکی عبادت، بہادری یا علم سے پہلے اسکی سچائی ہو، تو پھر وہ آدمی کیسا ہی ہوگا؟؟؟
حضرت عثمانؓ کے دور میں اسلامی ریاست اپنی وسعت کے عروج پر تھی۔ فتوحات ہو رہی تھیں، دولت آ رہی تھی، نئے علاقے شامل ہو رہے تھے۔ لیکن اسی دور میں کچھ ایسے فیصلے بھی ہوئے جن پر بے تحاشا سوال اٹھے۔ گورنروں کی تقرریوں پر اعتراضات ہوئے، اقربا پروری کے الزامات لگے، اور ریاستی وسائل کے استعمال پر بھی مختلف آراء سامنے آئیں۔
ان حالات میں ایک آواز بار بار اٹھتی تھی۔
وہ ابو ذرؓ کی آواز تھی!
وہ بار بار سورۂ توبہ کی اس آیت کی طرف توجہ دلاتے کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انکے لیے سخت وعید ہے۔
انکے نزدیک ریاست کا صرف مضبوط ہونا کافی نہیں تھا۔
ریاست کا منصف ہونا ضروری تھا!!!!
تاریخ میں ہے کہ شام میں انکی حضرت معاویہ سے بھی اس معاملے پر بہت اختلاف ہوا۔ پھر وہ مدینہ واپس آئے، اور بعد ازاں انھیں ربذہ جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ ان واقعات کی تفصیلات مختلف مؤرخین نے مختلف انداز سے بیان کی ہیں، لیکن ایک چیز ہر روایت میں مشترک ہے:
"ابو ذرؓ نے اپنی بات کہنا نہیں چھوڑی۔"
انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ سامنے کون ہے۔
انہوں نے یہ دیکھا کہ حق اور سچ کیا ہے۔
مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے...
ہم ابو ذرؓ کی سچائی کے قصے تو بڑے شوق سے پڑھتے ہیں، لیکن اگر ابو ذرؓ ہمارے دور میں ہوتے تو کیا ہم انہیں برداشت کر لیتے؟
اگر وہ کھڑے ہو کر پوچھتے کہ سیاسی پارٹی یا ریاست کے اندر احتساب کہاں ہے؟
اگر وہ پوچھتے کہ اصول حالات کے ساتھ تیزی سے کیوں بدل جاتے ہیں؟
اگر وہ پوچھتے کہ جو وعدے عوام سے کیے تھے، ان کا حساب اب کون دے گا؟
کیا ہم انہیں بھی "وقت مناسب نہیں"، "اتحاد خراب ہو جائے گا"، یا "یہ تو دشمن کا بیانیہ ہے" ، "تم تو غدار ہو" کہہ کر خاموش کرانے کی کوشش نہ کرتے؟
مجھے لگتا ہے ہر تحریک کا اصل امتحان اقتدار میں نہیں ہوتا۔
اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ 'وہ اپنے ابو ذر کے ساتھ کیا کرتی ہے۔'
کیونکہ چاپلوس ہر دربار میں مل جاتے ہیں۔
مگر تاریخ میں جگہ ہمیشہ ابو ذر جیسے لوگوں کو ملتی ہے۔ وہ لوگ جو شخصیتوں کے نہیں، اصولوں کے وفادار ہوتے ہیں!
جو تالیاں بجانے نہیں، آئینہ دکھانے آتے ہیں۔
اور شاید اسی لیے ہر دور کا اقتدار انہیں بالکل پسند نہیں کرتا۔
کیونکہ اقتدار کو تو صرف تعریف سننا پسند ہے۔
سوال نہیں۔
مجھے نہیں معلوم آج ہمارے درمیان کوئی ابو ذر ہے یا نہیں۔
لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ اگر کسی تحریک یا ریاست سے سوال پوچھنا غداری بن جائے، اگر احتساب صرف دوسروں کے لیے رہ جائے، اگر اصول صرف تقریروں تک محدود رہ جائیں، تو پھر مسئلہ مخالفین نہیں ہوتے...
پھر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نے خود اپنے ہی نظریے سے ہی سمجھوتہ کر لیا ہوتا ہے۔
اور جس دن ایک تحریک اپنے نظریے سے سمجھوتہ کر لے، اس دن اس کی شکست باہر سے نہیں آتی...
اندر سے شروع ہوتی ہے۔
اندر سے.......
بہت سارے جاننے والے خلیج فارس کے عرب GCC ممالک سے رابطہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کئی مہینوں سے کوئی کام نہيں ہے۔ کوئی کام، کوئی جاب دلوا دیں۔ پیسے پاکستان سے لا کر خرچ کر رہے ہیں۔ بس ہوگئی ہے۔
گزارش یہ ہے کہ حالات مزید خراب ہونے جا رہے ہیں۔ اور کئی مہینے اور سال یہ صورتحال رہ سکتی ہے۔
کام ملنا پہلے سے بھی دشوار ہوگا۔ کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ اکانومیاں بیٹھ رہی ہیں۔ نہ صرف کام ملنا ممکن نہيں رہے گا فیکٹریوں اور انرجی پلانٹس میں کام کرنے والے ورکرز کی زندگیاں بھی خطرے میں ہوں گی۔ ایک کہرام مچنے والا ہے۔ عرب ممالک میں صورتحال حیران کن حد تک تبدیل ہونے والی یے۔
آپ یہ چیزیں ذہن میں رکھ کر فیصلہ کریں کہ کیا کرنا ہے۔ ادھر رکنا ہے یا واپس جانا ہے۔ حالات یہی ہیں اور یہ تبدیل نہیں ہوں گے۔
عمران خان کے علاوہ سارے سیاستدان ڈرامے باز اور اداکار لگتے ہیں۔۔عمران خان کی تو بات ہی الگ ہے۔سب سے بڑی اداکارہ جو بہت pretend کرتی ہیں وہ مریم نواز ہیں۔
اداکارہ سارہ خان
😮🤔😭یہ شخص اکثر مویشیوں کی منڈی میں چاول بیچ کر رزق حلال کماتا ہے، اس کا چاول بیچنے کا اپنا فن ہے جو وائرل ہو گیا،
لیکن گزشتہ دنوں چند لوگوں نے اس کی غربت پر طنز مزاق کیا،
جب اس نوجوان کو طنز کرنے والوں کے بارے کہا گیا کہ آپ ان کے بارے کیا کہتے ہیں ؟
اس نوجوان کی انکھوں میں آنسو آگۓ ۔
دونوں انگلی👆 آسمان کی طرف کر کے بولا، میری غریبی پر مزاق کیا پھر بھی اللہ ان کا بھلا کرے،
اس کی زندہ دلی چیک کریں،،،
تو دوستو! آپ کو معلوم ہے اللہ کے ہاں سب زیادہ جلدی دعا قبول مظلوم کی ہوتی ہے، کسی کی دل نہیں دکھانا چاہیے کیونکہ اللہ دلوں میں رہتا ہے،،،،،،،، جزاک اللہ،،