علامہ اقبال کے شاہین کو آج پوری ملتِ اسلامیہ کی علامت اور مسلمانوں کے اجتماعی خواب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن تاریخ کا ایک کم زیرِ بحث پہلو یہ بھی ہے کہ اقبال کے 1930 کے الٰہ آباد تصور میں نہ بنگال شامل تھا اور نہ اتر پردیش، بہار، بمبئی، مدراس اور دیگر ہندو اکثریتی صوبوں کے کروڑوں مسلمان۔
اقبال نے پنجاب، سن��ھ، بلوچستان اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) پر مشتمل ایک مسلم اکثریتی سیاسی اکائی کی بات کی تھی۔ ان کا تصور بنیادی طور پر شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں پر مرکوز تھا۔
تاریخ کی دلچسپ ستم ظریفی یہ ہے کہ بعد میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی سیاسی جدوجہد، حمایت اور قربانیاں انہی مسلمانوں نے دیں جو بنگال اور ہندو اکثریتی صوبوں میں آباد تھے، حالانکہ اقبال کے ابتدائی تصور کا مرکز وہ علاقے نہیں تھے
اس نوجوان سے میری بھی کئی بار اسپیسز میں بحث اور اختلافِ رائے ہو چکا ہے۔ ایک موقع تو مجھے اچھی طرح یاد بھی ہے۔ لیکن اختلاف اپنی جگہ، اور انصاف اپنی جگہ۔
میرا اصول سادہ ہے: کسی کی اچھائی کو اچھائی کہنا چاہیے۔ اس سے نہ انسان چھوٹا ہوتا ہے اور نہ اس کے مؤقف کی قیمت کم ہوتی ہے۔
میں نے اس نوجوان میں واضح بہتری دیکھی ہے۔ اس کے اندازِ گفتگو میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی، تحمل اور پختگی نظر آتی ہے۔ ماضی میں بعض اوقات جذبات غالب آ جاتے تھے اور اصل پیغام پس منظر میں چلا جاتا تھا، لیکن آج جب اس کی گفتگو سنتا ہوں تو ایک نسبتاً زیادہ متوازن اور بالغ سوچ دکھائی دیتی ہے۔
آپ اس کی قیادت سے اختلاف کر سکتے ہیں، اس کی جماعت پر تنقید کر سکتے ہیں، اس کے مؤقف کو چیلنج کر سکتے ہیں، حقائق پیش کر سکتے ہیں، لیکن کم از کم یہ تو تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ نوجوان جن لوگوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا ہے، ان کے لیے آواز اٹھاتا ہوا اور عملی طور پر متحرک نظر آتا ہے۔
رہی بات ان سوالات کی کہ وہ پاکستان کیوں نہیں جاتا یا اس کا تعلق کس علاقے سے ہے، تو اس بارے میں میرے پاس کوئی معلومات نہیں۔ میں افراد کو ان کے دلائل، کردار اور طرزِ عمل سے جانچنے کو ترجیح دیتا ہوں، نہ کہ افواہوں اور نسبتوں سے۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے جعلی شناختوں کے پیچھے چھپ کر کردار کشی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ رویہ نہ کسی مؤقف کو مضبوط کرتا ہے اور نہ کسی تحریک کو۔
اور واضح رہے کہ میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ میں کسی جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہوں اور نہ کسی سیاسی کیمپ کا حصہ بننا چاہتا ہوں۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری وابستگی صرف اصول سے ہے۔ جو بات درست لگے گی، اس کی تائید کروں گا، چاہے کہنے والا کوئی بھی ہو۔ اور جو بات غلط لگے گی، اس پر تنقید بھی کروں گا، چاہے وہ میرا پسندیدہ شخص ہی کیوں نہ ہو۔
اشخاص بدلتے رہتے ہیں، جماعتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں، لیکن اصول اور دیانتِ رائے ہی وہ چیز ہے جس پر انسان کو آخر تک قائم رہنا چاہیے۔
میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
ہے خوئےِ ایازی ہی سزاوارِ ملامت
محمود کو کیوں طعنۂ اکرام دیا جائے
ضد ہے کہ انہیں مان کے سرخیلِ بہاراں
غنچوں کی طرف سے کوئی پیغام دیا جائے
ہم مصلحتِ وقت کے قائل نہیں یارو
الزام جو دینا ہے سرِ عام دیا جائے
بہتر ہے کہ اس بزم سے اٹھ آئیے محسنؔ
سرقے کو جہاں رتبۂ الہام دیا جائے
— محسنؔ بھوپالی
اختلافات اپنی جگہ، مگر بات کو غور سے سنا جائے تو بوری بند لاشوں، مہاجروں کی قربانیوں اور عورتوں کی نمازِ جنازہ جیسے حساس موضوعات کا ذکر کافی سُتھرے اور متوازن انداز میں کیا گیا ہے
There is no question that PPP carries the heaviest responsibility for Karachi’s destruction. But a people who refuse to examine their own failures are doomed to repeat them. Who opened the doors? Who sold their conscience for positions, contracts, plots, and privileges? Oppressors do not rule alone; they survive because someone is always willing to profit from the suffering of their own people.
The question is not merely who destroyed Karachi. The question is: who keeps rescuing the destroyers? Who shakes hands with PPP when the cameras are off? Who forms alliances with them in the provinces and in Islamabad whenever power is on the table? Revolutionary rhetoric is cheap. Sacrifice is expensive. That is why so many speak like freedom fighters while living like beneficiaries of the very system they condemn.
Why do you have to hide behind a fake ID to say all this? 🤣
Come on, have the courage to use your real identity and then say whatever you want to say. Otherwise, getting blocked is exactly what you deserve.
Ciao 🤣
لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بنیادی طور پر اس لیے ہندوستان بھیجا گیا تھا کہ اقتدار کی منتقلی اور برطانوی راج کے خاتمے کا معاملہ جلد از جلد نمٹایا جا سکے۔ اس وقت ابتدائی طور پر مکمل تقسیمِ ہند کا تصور اس شکل میں زیرِ بحث نہیں تھا جس میں بعد میں پاکستان اور بھارت وجود میں آئے۔ 1946 کا کیبنٹ مشن پلان ایک ایسا فارمولا لے کر آیا تھا جس میں ایک متحدہ ہندوستان کے اندر انتہائی خودمختار صوبوں کا تصور موجود تھا، اور اس پر کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے کسی نہ کسی حد تک آمادگی ظاہر کی تھی۔
اس منصوبے کے تحت مرکز کے پاس صرف دفاع، خارجہ امور اور مواصلات جیسے محدود اختیارات رہنے تھے، جبکہ باقی اختیارات صوبوں کے پاس ہوتے۔ پنجاب، بنگال، سندھ، سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) اور بلوچستان سمیت دیگر اکائیاں وسیع خودمختاری سے لطف اندوز ہوتیں۔ اسی طرح ریاست ہائے شاہی (پرنسلی اسٹیٹس) کی آئندہ حیثیت بھی ایک اہم اور پیچیدہ سوال تھی۔
بہت سے مورخین کے مطابق اصل بحران اس وقت پیدا ہوا جب جواہر لال نہرو نے جولائی 1946 میں ایسے بیانات دیے جن سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ مستقبل کی دستور ساز اسمبلی کیبنٹ مشن پلان کی پابند نہیں ہوگی اور مرکز کو زیادہ اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں۔ مسلم لیگ نے اسے معاہدے سے انحراف سمجھا اور اسی کے بعد سیاسی کشیدگی میں تیزی آئی۔ اس تناظر میں بعض مؤرخین یہ رائے دیتے ہیں کہ اگر کیبنٹ مشن پلان اپنی اصل شکل میں نافذ ہو جاتا تو شاید تقسیمِ ہند کی نوبت ہی نہ آتی۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ محمد علی جناح اپنی سیاسی زندگی کے ابتدائی دور میں متحدہ ہندوستان کے زبردست حامی سمجھے جاتے تھے اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے۔ ان کا مطالبۂ پاکستان بھی ایک طویل سیاسی ارتقا اور باہمی عدم اعتماد کے بعد سامنے آیا، نہ کہ ابتدا ہی سے۔
جہاں تک لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور محمد علی جناح کے تعلقات کا سوال ہے، متعدد مؤرخین نے لکھا ہے کہ دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات کبھی خوشگوار نہ رہے، جبکہ ماؤنٹ بیٹن کے جواہر لال نہرو کے ساتھ نسبتاً قریبی تعلقات تھے۔ بعض مصنفین تو یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ماؤنٹ بیٹن کے بعض فیصلوں نے بعد میں ریاستوں کے الحاق کے عمل پر اثر ڈالا، اگرچہ اس بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلافِ رائے موجود ہے۔
بہرحال، ایک بات ضرور کہی جا سکتی ہے کہ 1946 سے 1947 کے درمیانی عرصے میں واقعات اس قدر تیزی سے رونما ہوئے، فرقہ وارانہ فسادات اس قدر شدت اختیار کر گئے، اور برطانوی حکومت نے اقتدار کی منتقلی کا عمل اس قدر عجلت میں مکمل کیا کہ عام لوگوں کو تو درکنار، بہت سے سیاسی رہنماؤں کو بھی دور رس نتائج پر غور کرنے کا مکمل موقع نہ مل سکا۔ قربانیوں، درست یا غلط فیصلوں، اور سیاسی بصیرت پر بحث اپنی جگہ، لیکن یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ حالات کو اس قدر تیزی سے آگے بڑھایا گیا کہ بہت سے فیصلے ایک غیر معمولی دباؤ اور ہنگامی کیفیت میں کیے گئے۔
یقیناً جذبات میں بعض اوقات انسان سے ایسی باتیں سرزد ہو جاتی ہیں جن پر بعد میں اسے خود بھی افسوس ہوتا ہے۔ غصہ آ جانا ایک فطری امر ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اپنی غلطی کا احساس بھی ہو جانا چاہیے۔
البتہ میری رائے میں اگر کہیں کوئی تلخی یا بدزبانی ہو جائے تو بہتر یہی ہے کہ اسے مزید بڑھانے کے بجائے تحمل، درگزر اور مثبت طرزِ گفتگو سے اس کی تلافی کی جائے۔ اجتماعی انداز میں سخت ردِعمل یا غیر ضروری کشیدگی پیدا کرنا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔
جہاں تک فیصل عثمانی صاحب کا تعلق ہے، وہ ایک سنجیدہ اور سمجھدار شخصیت ہیں۔ اسی لیے اس نوعیت کی صورتحال ان کے حوالے سے غیر متوقع محسوس ہوئی۔
بہرحال، میری گزارش ہے کہ آپ اسپیس ضرور کریں۔ میری خواہش بھی یہی ہے کہ سوشل میڈیا جیسے مؤثر پلیٹ فارم پر آپ جیسے سنجیدہ اور معتبر لوگ فعال رہیں۔ یقیناً آپ کی گفتگو سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ میں خود روزمرہ گفتگو میں اکثر آپ اور حامد بھائی کے منتخب اشعار ک�� حوالہ دیتا ہوں۔ آپ دونوں کے لیے میرے دل میں ہمیشہ عزت، احترام اور نیک جذبات رہے ہیں۔
یقیناً جذبات میں بعض اوقات انسان سے ایسی باتیں سرزد ہو جاتی ہیں جن پر بعد میں اسے خود بھی افسوس ہوتا ہے۔ غصہ آ جانا ایک فطری امر ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اپنی غلطی کا احساس بھی ہو جانا چاہیے۔
البتہ میری رائے میں اگر کہیں کوئی تلخی یا بدزبانی ہو جائے تو بہتر یہی ہے کہ اسے مزید بڑھانے کے بجائے تحمل، درگزر اور مثبت طرزِ گفتگو سے اس کی تلافی کی جائے۔ اجتماعی انداز میں سخت ردِعمل یا غیر ضروری کشیدگی پیدا کرنا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔
جہاں تک فیصل عثمانی صاحب کا تعلق ہے، وہ ایک سنجیدہ اور سمجھدار شخصیت ہیں۔ اسی لیے اس نوعیت کی صورتحال ان کے حوالے سے غیر متوقع محسوس ہوئی۔
بہرحال، میری گزارش ہے کہ آپ اسپیس ضرور کریں۔ میری خواہش بھی یہی ہے کہ سوشل میڈیا جیسے مؤثر پلیٹ فارم پر آپ جیسے سنجیدہ اور معتبر لوگ فعال رہیں۔ یقیناً آپ کی گفتگو سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ میں خود روزمرہ گفتگو میں اکثر آپ اور حامد بھائی کے منتخب اشعار کا حوالہ دیتا ہوں۔ آپ دونوں کے لیے میرے دل میں ہمیشہ عزت، احترام اور نیک جذبات رہے ہیں۔
ہر نسل قوم میں گندے غلیظ لوگ ہوتے ہیں جو دن رات مہاجر قوم کو طعنے ہوتے ہیں مغلظات بکتے ہیں اسہی طرح ہر قوم میں انتہائی شاندار لوگ بھی ہوتے ہیں
بانیان پاکستان کی اولادوں سے متعلق اس بھائی کے جذبات کا دل سے احترام ہے
سلامت رہیں خوش رہیں آباد رہیں۔آمین
ہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے زومبیز ہی تو ہیں نہ بڑے چھوٹے کی تمیز رکھتے ہیں نہ کسی کے احسان مند مجھے حیرت ہوتی ہےاس معاشرے میں ہم زومبیز کے ہاتھوں کوئی محفوظ نہیں ہم سب وقت منافقوں کے گڑھ میں رہتے ہیں جہاں عمران خان کے نعرے لگانے والے برا وقت پر عمران خان کے خلاف ہوچکے الطاف حسین کے لئے جان دینے والے ان کے مرنے کی بددعائیں کررہے ہیں
کسی کو چاہینگے تو پوجاع ہی شروع کردینگے
عجیب لوگ ہیں ہم
ہماری کوئی بیٹھک نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ہم ایک ساتھ بیٹھنے کے لائق ہی نہیں
ہر نسل قوم میں گندے غلیظ لوگ ہوتے ہیں جو دن رات مہاجر قوم کو طعنے ہوتے ہیں مغلظات بکتے ہیں اسہی طرح ہر قوم میں انتہائی شاندار لوگ بھی ہوتے ہیں
بانیان پاکستان کی اولادوں سے متعلق اس بھائی کے جذبات کا دل سے احترام ہے
سلامت رہیں خوش رہیں آباد رہیں۔آمین