یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر کوئی جماعت یا تحریک کسی کے والد، بھائی، بہن یا خاندان کے کسی فرد کو کسی مشکل، مصیبت یا ناانصافی سے نجات دلائے تو اس کے لیے دل میں محبت، ہمدردی اور قدردانی کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس میں کوئی برائی نہیں، کیونکہ ہم سب انسان ہیں اور انسان کی فطرت احسان کو یاد رکھنا ہے۔ میں ایسے لوگوں سے اختلاف کرنے کی نہ نیت رکھتا ہوں اور نہ ہی خواہش۔
البتہ اس سے آگے ایک اور بلند مقام بھی ہے، جہاں انسان اپنی ذاتی تکالیف، ذاتی فوائد اور ذاتی تجربات سے اوپر اٹھ کر اپنے مقصد اور اپنے کاز کو مقدم رکھتا ہے۔ وہاں وہ اپنی ذات کے بجائے قوم کے اجتماعی مفاد کو سامنے رکھ کر سوچتا اور بات کرتا ہے۔
میری حقیر رائے میں ایسے لوگوں کا درجہ کچھ بلند ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنی ذات کے دائرے سے نکل کر پوری قوم کے فائدے، اس کے مستقبل اور اس کی بھلائی کے لیے اپنی توانائیاں اور اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو قوموں کی تعمیر کرتا ہے اور اجتماعی شعور کو آگے بڑھاتا ہے۔
یہ حقیقی سول سوسائٹی کی آواز ہے؛ ان غیر سیاسی لوگوں کی آواز جو زمین سے جڑے ہوئے ہیں، جو عوام کے مسائل کو قریب سے دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ اسے غور سے سنیے، کیونکہ یہی آوازیں کراچی کی تبدیلی کا سبب بنیں گی اور یہی آوازیں بہت جلد ایک مثبت انقلاب کی بنیاد رکھیں گی۔
سول سوسائٹی دراصل غیر سیاسی ہونی چاہیے، جس میں مقامی وکلا، ریٹائرڈ جج صاحبان، ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، فنونِ لطیفہ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوں۔ ان کی آواز میں وزن بھی ہوتا ہے اور اعتبار بھی، کیونکہ ان کے سامنے کسی سیاسی مفاد کا نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کا مقصد ہوتا ہے۔
اس کے برعکس وہ لوگ جو ہر معاملے کو سیاسی چشمے سے دیکھتے ہیں یا جنہیں عام اصطلاح میں “کی بورڈ مجاہدین” کہا جاتا ہے، اکثر کسی نہ کسی مفاد کے اسیر ہوتے ہیں۔ جب کسی جدوجہد کا مرکز مقصد کے بجائے معاوضہ بن جائے تو پھر توجہ کاز پر نہیں بلکہ ذاتی فائدے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ ایسے رویوں اور کرداروں کو عوامی سطح پر مسترد کیا جانا چاہیے تاکہ حقیقی اور مخلص آوازیں آگے آسکیں۔
You are a highly educated and well-trained engineer, and I commend you for your unwavering devotion to the Tehreek. Whether it is organizing local programs, coordinating meetings with government officials, or assisting deserving individuals in obtaining their rightful legal status, I have consistently found you at the forefront of service and dedication. Your commitment, hard work, and willingness to serve others have always stood out and earned my respect.
Manna, my heart goes out to you and your family. Two weeks is a long and exhausting time, and I can only imagine what you must be going through. Please know that I will keep your Amma in my prayers. May Allah grant her complete shifa, ease her pain, strengthen her body, and bring her safely back home to those who love her. A mother’s presence is a blessing beyond words, and you’re absolutely right, home never feels quite the same without her.
میں گفتگو کے دوران بولنے کی اور سُننے کی بات کر رہی تھی . یہاں تو معاملہ لکھنے کا ہے کوئی بیچ میں نہیں آتا پھر پڑھنے والے کو بھی ٹائم مل جاتا ہے جواب دینے کا تو میں بھی جواب در جواب جاری رکھتی ہوں . اس میں دونوں فریقین کو اپنی بات کہنے یا لکھنے کا موقع مل جاتا ہے . agree کرنا ضروری نہیں . ہاں سیکھا اس سے بھی جا سکتا ہے . جیسے میں نے یہ سیکھا ہے کس قسم کے لوگوں میں برداشت ہوتی ہے اور کس میں نہیں . ہمارے ہاں لوگوں کی عادت ہے دوران گفتگو سب ہی بول رہے ہوتے ہیں ایکدوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں بولتے سب ہیں سنتا کوئی نہیں . اسپیسز ہی سن لیجیے .
باجی، باجی! آپ نے تو دنیا کی ایسی کی تیسی کر رکھی ہے۔ آدھے سے زیادہ لوگ تو ویسے ہی آپ سے خائف رہتے ہیں، اور اب آپ فرما رہی ہیں کہ “میں کم بولتی ہوں، سننے میں زیادہ فائدہ ہے، اس لیے خاموش رہتی ہوں۔”
باجی، آپ کہاں خاموش رہتی ہیں؟ ذرا سچ سچ بتائیے، دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ یہ بات آپ خود بھی مانتی ہیں؟ 😂😂
والد صاحب اکثر یہ بات کہا کرتے تھے جو ہم نے پلو سے باندھ لی ، اور وہ یہ ہے . The more you talk the more you repeat The more you listen the more you learn . اسپیسز واسیو کے لیے خصوصی پیغام ہے یہ ( کسی مفکر کا کہا ہوا ہوگا ) اِس پر عمل کیجئے بہت فائدہ ہوگا 😊 .
تطہیر تو ہوگی، ظاہر ہے؛ یہ ہمارا عقیدہ بھی ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا حساب دے گا، سزا و جزا کے مراحل سے گزرے گا، اور پھر اللہ کی رحمت سے تطہیر بھی ہوگی۔ مگر سیاسی حوالے سے سوال وہی ہے:
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک!
@hamidalibaigs چھوٹے کردار جب بڑے بنائے جاتے ہیں تو بصارت و بصیرت والے لوگ اس کو بونوں کی ایکشن فلم سمجھ کر دیکھتے ہیں۔ سچی تحریکیں اشخاص کی قید سے آزاد ہوجاتی ہیں مگر چھوٹی سوچ سے فنا ہوجاتی ہیں۔ یہ تحریک فنا نہیں ہوگی۔ تطہیر ہوجائے گی۔
محترم، اختلاف آپ کا حق ہے، مگر آپ نے میری بات کا جواب دینے کے بجائے ایک پوری تاریخ، ایک پوری تحریک اور لاکھوں لوگوں کے تجربات کو ایک شخص کے کھاتے میں ڈال دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ خود جس رویے کی شکایت کر رہے ہیں، وہی رویہ اختیار کر رہے ہیں: ہر خرابی کا ایک ہی مجرم تلاش کر لینا۔
جہاں تک “پورا سچ” بولنے کا تعلق ہے، پورا سچ یہ بھی ہے کہ کراچی کی سیاست، ریاستی پالیسیوں، لسانی کشیدگیوں، آپریشنز، کوٹہ سسٹم، معاشی محرومیوں اور کئی دہائیوں کے پیچیدہ عوامل کو ایک نام سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔
رہی بات “بزرگ” ہونے کی، تو آپ کی محبت ہے۔ میرے اور آپ کے درمیان غالباً اتنا فاصلہ نہیں جتنا آپ نے فرض کر لیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ چند برس یا دس سال کا فرق ہوگا۔ ویسے بھی دلیل کی دنیا میں عمر نہیں، استدلال وزن رکھتا ہے۔ اسی لیے میں اشخاص کے بجائے واقعات اور حقائق پر گفتگو کو ترجیح دیتا ہوں۔
اور ایک بات مزید، نہ میں نے آپ کو tag کیا تھا، نہ آپ سے کوئی جواب طلب کیا تھا، نہ ہی ایسی کوئی خواہش ظاہر کی تھی کہ آپ آ کر میری اصلاح فرمائیں۔ آپ خود گفتگو میں شامل ہوئے ہیں، اس لیے جواب بھی اسی تناظر میں دیا جا رہا ہے۔
میں اپنی رائے نہ چھپا کر دیتا ہوں اور نہ کسی کے ورغلانے یا خوش کرنے کے لیے۔ جو بات مجھے حق اور سچ معلوم ہوتی ہے، وہی لکھتا ہوں۔ لیکن نہ ہی تاریخ کو اس قدر سادہ بنا دیتا ہوں کہ تمام گناہ ایک نام کے کھاتے میں اور تمام ثواب دوسرے کے حصے میں چلے جائیں۔ باقی میری بات سے اتفاق یا اختلاف کرنا قارئین کا حق ہے؛ وہ خود فیصلہ کر لیں کہ کس مؤقف میں زیادہ وزن، توازن اور صداقت ہے۔ یہی میرا “پورا سچ” ہے۔
آپ کی تحریر سے اتفاق ہے پر الزام وہاں دیں جہاں بنتا ہے، قوم 47 سے 84 تک بالکل ٹھیک چل رہی تھی، مسائل بھی یہ نہ تھے جو آج ہیں۔
پھر آیا ایک نام نہاد قائد، جس نے قوم کی تربیت ہی ایسی کی کہ سب ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوگئے، *سیاسی اختلافات نے بھائی کو بھائی کی جان کا پیاسا کر دیا، رشتےداروں میں دراڑیں پڑ گئیں، دوست دشمن ہوگئے، اپنے ہی اپنوں کے نہ رہے، باپ کو گالی برداشت پر قائد پر بات کی تو جان سے جاؤ گے۔* توجس حسنِ سلوک کا آپ گلہ کر رہے ہیں وہ چالیس سالہ تربیت کا نچوڑ ہے۔
شادی سے روک لیتا منظور تھا جنازوں میں شرکت سے روکنے کا رواج ڈالنے والے کا نام کیوں نہیں لیتے؟ وہ جو بات بے بات سرکلر کی توثیق کر دیتے ہیں، آپ آج بھی ان کے پردے ڈھک رہے ہیں۔
معذرت کے ساتھ، بزرگ نوجوانوں کے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں، فکری بددیانتی، نوجوانوں کے ساتھ خیانت ہے، پورا سچ بولیں اور سینہ تان کے بولیں
علی بھائی، “بھد اُڑنا” جیسا سلیس اور برمحل محاورہ استعمال کرکے آپ نے تو ہماری اردو دوستی مزید پکی کر دی۔ اب ڈر یہ ہے کہ کہیں آپ کی تعریف کرتے کرتے ہماری اپنی بھد نہ اُڑ جائے! 😄
No, these changes were not achieved simply because people read new books and changed their minds.Ideas were essential, but ideas alone rarely overturn entrenched systems of power. The transformation of Europe involved centuries of conflict, sacrifice, political struggle, religious upheaval, revolutions, wars, and, in many cases, bloodshed.
It looks like Casablanca, Wasim. Beautiful city. اپنی عزت بچا کر رکھنا وہاں محال ہے، مگر مجھے عین یقین ہے کہ آپ خوشی خوشی راضی ہو جائیں گے۔ 😄On a serious note, do try Al Fassia while you’re there. It’s known for authentic Moroccan cuisine, and their lamb shoulder is absolutely extraordinary.
مجھے اب کسی سے گلہ نہیں رہا۔ جب میں مہاجروں کے مختلف گروہوں اور حلقوں کو دیکھتا ہوں تو کبھی کبھی دل میں یہ خیال آتا ہے کہ شاید ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، ہم نے خود بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
ایک دوسرے پر الزام تراشی، کردار کشی، نفرت اور ذاتی حملے۔ ہر شخص دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں مصروف ہے اور ہر ایک کو یہ فکر لاحق ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ نمایاں، زیادہ مخلص اور زیادہ قوم کا خیرخواہ دکھائی دے۔
افسوس یہ بھی ہے کہ بعض وہ لوگ جو کل تک برائیوں کی علامت سمجھے جاتے تھے، آج نجات دہندہ بن کر پیش کیے جا رہے ہیں، اور بعض وہ لوگ جنہوں نے اچھے کام کیے، آج مطعون ہیں۔ شاید یہ ہر قوم میں ہوتا ہو، لیکن اس وقت یہ منظر مجھے اپنے لوگوں میں زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
پھر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو لمبی لمبی بے معنی تحریروں اور مصنوعی دانشوری کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وہ چہرے ہیں جو سامنے آنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، اپنی اصل شناخت ظاہر نہیں کرتے، مگر دوسروں کو قربانی، مزاحمت اور جدوجہد کے مشورے دیتے ہیں۔ جو کام خود نہیں کر سکتے، دوسروں کو اس پر اکساتے ہیں۔
میں نے اسی لیے کنارہ کشی اختیار کی۔ میرا اصول سادہ ہے: جس راستے پر خود چلنے کا حوصلہ نہ ہو، اس پر دوسروں کو چلنے کا مشورہ بھی نہیں دینا چاہیے۔
شاید اصل المیہ یہی ہے کہ ہم نے مقصد سے زیادہ اپنی ذات کو اہم بنا لیا ہے۔ جب قوم، نظریے یا اجتماعی مفاد سے زیادہ اپنی نمائش عزیز ہو جائے تو پھر زوال صرف دوسروں کی وجہ سے نہیں آتا، ہم خود بھی اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
اشر بھائی، ابھی یہاں سندھڑی آم نہیں آیا۔ البتہ انور رٹول (Anwar Ratol) آ گیا ہے۔ کوئی مجھے بتا رہا تھا کہ یہ پنجاب کا نہیں بلکہ سندھ کا آم ہے۔ بہرحال، سندھ کا ہو یا پنجاب کا، انور رٹول واقعی نہایت میٹھا اور بے حد لذیذ آم ہے
I have read Karen Armstrong’s work many times and, while some readers may find it insightful, I often find her approach selective and at times misleading. Her writings tend to emphasize themes that support her broader narrative while downplaying evidence that may challenge it. The result is a portrayal of religion that can feel more ideological than objective.
In comparison, Reza Aslan’s No god but God is more engaging and accessible in its treatment of early Islamic history, though it too has been criticized for privileging modern historical interpretations over traditional Islamic scholarship. Both authors are worth reading, but neither should be treated as the final authority on the subjects they discuss.
My recommendation is to read them critically and alongside scholars representing a variety of perspectives, especially those rooted in the classical Islamic tradition.
ایمانداری کی بات سننی ہے تو پھر
میں نے کبھی نہیں سنا کہ ایک مرد کئی ماہ کسی بندے کمرے میں مردہ پڑا رہا اور اسے کسی نے ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی
خاندان کے ساتھ منسلک رہنے والا کوئی بھی انسان تین چار دن اگر کسی کو نہ ملے تو لوگ اسے ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں
میں کسی عورت کی آزادی یا خود مختاری کے خلاف نہیں
لیکن خاندان سے انکاری ہونا کچھ عجیب لگتا ہے