سپہ سالار کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر پاکستانی کا دل دکھا دیا،،(مریم نواز ٹویٹ)
مریم صاحبہ : یاد کیجئیے، کل جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر نام لے کر آپ کے پاپا نوازشریف کی تنقید سے آپ محظوظ ہوتی تھیں،بلکہ لطف اندوز ہوتی تھیں،،
حسینی طریقے پر ہیں اور انشاءاللہ اُسے نبھائیں گے۔ کوئی پرواہ نہیں نتیجہ کیا ہوتا ہے!
سہیل آفریدی نے جنگ لڑی ہے اور قربانی دی ہے۔ جتنا اُس کی طاقت میں تھا اُس سے زیادہ کیا ہے۔
مولانا اور محمود خان اچکزئی پر محسن نقوی کے الزامات پر میرے رد عمل۔
میرے اوپر انگلی اٹھانے والوں! یہ ہیں میری خدمات!
محسن نقوی نے آج تحریک انصاف کو تقریباً تحریک طالبان قرار دے دیا ہے۔ اصل دہشت گردی کے سہولت کار وہ ہیں جنہوں نے سانحۂ APS کے دہشت گردوں کو اپنی قید سے فرار کرایا۔
اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ عاصم منیر کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ افسوس کہ طالبان بنانے اور ان کا خمیازہ بھگتنے کے باوجود کچھ نہیں سیکھے۔ ہوسِ اقتدار میں یہ پوری قوم کو ذبح کر دیں گے یہ اس ملک کو دہشستان بنا دیں گے۔
اسٹیبلشمنٹ نے لانگ مارچ روکنے کیلئے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کو ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی دی، لیکن اس سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ سہیل آفریدی نے واضح طور پر اسٹیبلشمنٹ سے کہہ دیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے عوام کے سروں کا سودا نہیں کرے گا۔ اس مؤقف کے ساتھ سہیل
یہ شرمناک ہے۔۔۔۔یہ کھسیانی ہنسی خیبر پختون خوا کے عوامی مینڈیٹ کے قتل کے جرم کو نہیں چھپا سکتی۔۔۔ان دونوں نے اپنی سیاست کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط پر اتفاق کرلیا۔۔۔۔
پاکستان تحریک انصاف کیلئے اب Win Win صورتِ حال ہے،یا تو عمران خان کے انسانی حقوق بحال ہوجائینگے یا گورنر راج کی صورت میں مقبولیت، مزاحمت نئی بلندیوں تک جائیگی۔۔۔
آمریت، ڈکٹیٹرشپ کی شکست اب نوشتہ دیوار ہے،اب بچاو کی کوئی صورت نہیں بس اب سوال صرف کب کا ہے کہ کب تک اس گرتی ہوئی آمریت کو زندہ رکھا جاتا ہے۔
تاریخ ہے کہ ایک ڈکٹیٹر ایمرجنسی تب لگاتا ہے جب وہ اپنا اقتدار جاتا دیکھ کر بےبس ہو جاتا ہے اور خوف میں ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ مشرف اور اندرا گاندھی کی ایمرجنسی تمہارے سامنے ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد انہیں اپنا اقتدار کھونا پڑا۔
دہشت گرد تم بناؤ، دہشت گردی تم کرو، ان کے ساتھ فکس میچ کھیل کر پھر ایمرجنسی لگاؤ۔ کیا عوام نہیں جانتی کہ دہشت گرد کون ہے! تم اس اقدام کو چند دن کے لیے بھی ہضم نہیں کر سکو گے!
The countdown has begun
گھر کو باہر سے فوج، ایجنسیوں نے بند کر کے بجلی کاٹ دی ہے۔
میں 9 نمبر کے بالکل سامنے ہوں۔
عاصم منیر تمہارا خوف دیکھ کر، تم جس ڈگر پر چل پڑے ہو، تم کچھ دن کے مہمان ہو۔
میری نہ سہیل آفریدی سے کبھی ملاقات ہوئی، نہ کوئی بات چیت، مگر جس دلیری سے وہ اس مارچ کو آگے لے کر چل رہا ہے، یہ واقعی قابلِ دید ہے۔ میرے اسی میدان میں 60، 65 سال گزر گئے ہیں۔ سہیل جس دانشمندی سے آگے بڑھ رہا ہے، اس نے واقعی اسٹیبلشمنٹ کو پریشان کر دیا ہے۔
شاباش سہیل آفریدی!
@SohailAfridiISF
Imran Khan must be proud of his tiger
فورسز، ایجنسیاں میری بیٹی کے گھر کے باہر موجود ہیں۔ پوری آبادی کو تم نے پریشان کیا ہوا ہے۔ لوگوں کا کیا قصور ہے؟
میرے داماد، بیرسٹر شاہزیب ہاشمی، کو انہوں نے پاکستان ٹاؤن کی مسجد میں جانے اور نماز پڑھنے سے روک دیا ہے۔ جتھوں کی صورت میں آئی ایس آئی اور فورسز موجود ہیں۔ میرے داماد شاہد بہار کے کمرے کے باہر بیٹھے ہیں۔ جو دیواریں، جو گھر یہ گرا کر گئے ہیں، ان کے اوپر یہ دندناتے پھر رہے ہیں، جیسے کوئی بڑی چیز فتح کر لی ہے۔
میرے رشتہ دار مخدوم شاہد ہاشمی جو شہر میں رہتے ہیں ان کو فیض ٹاؤن سے اٹھا لیا ہے۔
دوسروں کو انتشاری کہنا بند کرو، تم خود انتشاری ٹولہ ہو۔
میرے گھر کو 30، 40 ویگو ڈالوں اور سینکڑوں سول کپڑوں میں ملبوس ایجنسیوں والوں نے گھیر لیا ہے۔ ان سے پھر کہتا ہوں، یہ کام آپ کے کرنے کے نہیں ہیں۔
میرے پاکستانیوں، انشاءاللہ میں تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے 5 بجے چونگی نمبر 9، ملتان پہنچوں گا!
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
افغانستان سے منسلک اکاؤنٹ یہ ویڈیو شئیر کررہے ہیں کہ واخان کے راستے افغانستان، چین سے منسلک ھوگیا ہے اور غالباً یہی واخان کا کوریڈور تھا، جس کے بارے گزشتہ سال پاکی فوج سے منسلک اکاؤنٹ دعویٰ کر رہے تھے کہ پاکی فوج نے یہاں قبضہ کرکے سبز پرچم لہرا دیا ہے
آج تاخیر سے ٹویٹ کرنے پر معذرت۔
میں دھرنے میں شرکت کے حوالے سے لائحۂ عمل طے کرنے میں مصروف تھا۔ کئی رہنماؤں، پارٹیوں اور تنظیموں سے رابطہ ہوا۔ عنقریب اس کا بھرپور حصہ بنوں گا۔
فی الحال ان کی بزدلی اور ڈر دیکھ رہا ہوں۔ عاصم منیر کے اندر اقتدار جانے کا خوف دیکھ رہا ہوں۔
80 سال سے اس ملک کو کھاتی دیمک سے نجات حاصل کرنے کا وقت ہے!