سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد کی جانب سے صوبائی وزیر شکیل خان کا تعاقب، فائرنگ اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں
منتخب عوامی نمائندوں کو اس طرح ہراساں، ڈرانا اور دھمکانا نہ صرف جمہوری آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے بلکہ عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کی ب��ی کھلی توہین ہے
واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ خوف کا کوئی بھی حربہ ہمیں ہماری پرامن سیاسی جدوجہد سے نہیں ہٹا سکتا۔ ہم آئینی، قانونی اور پرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد پر کاربند ہیں،عوام کے حق نمائندگی کو کسی صورت دبنے نہیں دیں گے
ایک خاتون چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے پنجاب میں خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، اور چادر چار دیواری کا تقدس بغیر کسی ڈر اور خوف کے پامال کیا جا رہا ہے وہ انتہائی شرمناک اور ہماری روایات کے منافی ہے۔
آج صبح ایک بار پھر علیمہ خان کو جس انداز میں اغوا کیا گیا اور 3MPO کے تحت جیل منتقل کیا گیا، یہ بدترین سیاسی انتقام کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
اگر اختلاف عمران خان س�� ہے تو مقابلہ بھی عمران خان کے نظریے اور سیاست سے کریں۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، اور خاندان کی خواتین کو نشانہ بنانا کون سی سیاست، کون سا قانون اور کون سی اخلاقیات ہیں؟
ہماری مذہبی یا معاشرتی روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے، جیسا کہ موجودہ دور میں کیا جا رہا ہے۔ خواتین کو ہراساں کر کے، اغوا اور گرفتار کر کے اور خاندانوں کو دباؤ کا ذریعہ بنا کر نظریے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی حقیقی آزادی کی جدوجہد میں صرف 100 روپے عطیہ کر کے اپنا حصہ ڈالیں۔
آپ اپنے عطیات MCB بینک (اکاؤنٹ نمبر: 1208326601008525) یا جاز کیش ایپ کے Donations سیکشن کے ذریعے آسانی سے منتقل کر سکتے ہیں۔
پچھلے تین سال میں فواد چوہدری جتنا خود ایکسپوز ہوا، شاید ہی کوئی سیاستدان ہوا ہو ن لیگ سے ذرا سی امید لگے تو مریم نواز کے حق میں ٹویٹیں شروع، فوج سے کوئی آس بندھے تو فوج کے حق میں بیانیہ شروع، PTI سے واپسی کی ہلکی سی امید نظر آئے تو فوراً PTI کی تعریفیں، اور جس طرف سے امید ٹوٹے، اگلے ہی دن اسی کے خلاف محاذ کھول لیتے ہیں
عوام کو فواد چوہدری کے بارے میں بڑی غلط فہمی تھی کہ یہ بڑا سمجھدار، تیز طرار اور سیاست کی باریکیاں سمجھنے والا آدمی ہے، پچھلے تین سال میں فواد نے اپنی ذہانت کا سب سے بڑا کارنامہ یہی دکھایا ہے کہ ہر دروازے پر دستک دی، ہر طرف امید لگائی، ہر بار رخ بدلا اور آخر میں کسی طرف کے بھی نہ رہے
پچھلے تین سال میں فواد چوہدری جتنا خود ایکسپوز ہوا، شاید ہی کوئی سیاستدان ہوا ہو ن لیگ سے ذرا سی امید لگے تو مریم نواز کے حق میں ٹویٹیں شروع، فوج سے کوئی آس بندھے تو فوج کے حق میں بیانیہ شروع، PTI سے واپسی کی ہلکی سی امید نظر آئے تو فوراً PTI کی تعریفیں، اور جس طرف سے امید ٹوٹے، اگلے ہی دن اسی کے خلاف محاذ کھول لیتے ہیں
عوام کو فواد چوہدری کے بارے میں بڑی غلط فہمی تھی کہ یہ بڑا سمجھدار، تیز طرار اور سیاست کی باریکیاں سمجھنے والا آدمی ہے، پچھلے تین سال میں فواد نے اپنی ذہانت کا سب سے بڑا کارنامہ یہی دکھایا ہے کہ ہر دروازے پر دستک دی، ہر طرف امید لگائی، ہر بار رخ بدلا اور آخر میں کسی طرف کے بھی نہ رہے
کوہاٹ حملے میں شہید ہونے والے ایس پی ٹریفک اکب�� شینواری کے کمسن بچے نے والد کی قبر پر سلامی بھی دی اور ساتھ زار و قطار روتا رہا!!! 💔😢
دشمن نے کیا کھیل کھیلا ہے، دہشت گرد بھی پختون، دہشت گردی کا شکار بھی پختون، مرنے والا بھی پختون اور مارنے والا بھی پختون؟ 🥹💔
کوہاٹ حملے میں شہید ہونے والے ایس پی ٹریفک اکبر شینواری کے کمسن بچے نے والد کی قبر پر سلامی بھی دی اور ساتھ زار و قطار روتا رہا!!! 💔😢
دشمن نے کیا کھیل کھیلا ہے، دہشت گرد بھی پختون، دہشت گردی کا شکار بھی پختون، مرنے والا بھی پختون اور مارنے والا بھی پختون؟ 🥹💔
لیکن اس ریاست کے دعویدار پھر بھی کہتے ہیں خیبر پختونخوا کی عوام دہشتگرد ہے،آخر کب تک ھماری معصوم بچے نا کردہ گناہوں کی سزا بھگتیں گے۔۔۔؟
ریاست اداروں اور صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے پاس اس سنگین مسلے کا کوئی حل موجود ہے؟ آخر کب تک ھم ریاست کی ناکام پالیسوں کے نتائج میں لاشیں اُٹھاتے رہینگے ؟
#KohatBlast
#Pakhtunkhwableeding
I’ve been looking at this picture again & again since morning. I have no words. He lost his father today. Specifically to you, @fawadchaudhry: may no child ever endure this pain. This is the price KP Police, the people of KP & their families are paying for a war they didn’t start.
ہمارا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ایک پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن طور پر آواز بلند کرنے اور اجتماع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم اسی آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آواز عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گے۔
عوامی مینڈیٹ کو کچل کر ملک پر مسلط ہونے والے وفاقی وزراء کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اختلافِ رائے کو دبانے یا شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے فارم 47 حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مطالبات سنے، آئینی حقوق کا احترام کرے اور سیاسی معاملات کا حل مکالمے، قانون اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرے۔
اس وقت پاکستان کا ہر ذی شعور شہری آئین کی اصل حالت میں بحالی اور ناحق قید سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے- پاکستان کا نوجوان روزگار اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مزدور اپنے معاشی حقوق اور باعزت زندگی کی جدوجہد کر رہا ہے۔ کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ اور معاشی تحفظ چاہتا ہے۔ اور ہر شہری انصاف، مساوات، آئینی آزادیوں اور باوقار زندگی کا حق مانگ رہا ہے۔ ان آوازوں کو دھمکیوں سے نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی مکالمے اور مؤثر حکمرانی سے جواب دیا جانا چاہیے۔
27 ستمبر کا لانگ مارچ پُرامن رہے گا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوگا۔ ہم ریاستی اداروں اور فارم 47 حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کریں گے، پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔
ملک اس وقت بہتر ہوگا جب دھمکیوں کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دی جائے گی؛ جب عوامی رائے کا احترام ہوگا؛ جب پارلیمنٹ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرے گی؛ جب عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی یقینی ہوگی؛ آئین بحال ہو گا اور سیاسی اسیران رہا ہوں گے اور جب صحافت کو آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
ہم کسی تصادم کے خواہاں نہیں۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے: آئین کی بحالی، قانون کی حکمرانی، سیاسی اسیران کی رہائی ، بنیادی حقوق کا تحفظ اور عوام کی آواز کا احترام۔
دباؤ، دھمکی یا خوف ہماری پُرامن اور آئینی جدوجہد کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہم قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنے جمہوری حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تُو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں۔