حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ جس طرح 8 فروری کو فارم 47 پہ اقتدار حاصل کر لیا، اسی طرح حکومت بنا لیں گے۔ لیکن عوامی شعور کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کشمیر کے عوام اپنے حقوق اور رائے کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں اور وہ واضح کر دیں گے کہ ہر جگہ ایک ہی حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہوتی
"اس حکومت نے صرف اپنے مفادات اور اپنے پیٹ کا سوچا ہے۔ آج غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہو گیا ہے۔ سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے؛ نہ وہ کسی خوشی میں شریک ہو سکتا ہے اور نہ کسی غمی میں۔ مہنگائی اور معاشی مشکلات نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں،
پچھلے اڑتالیس گھنٹوں سے عمران خان کا کوئی اتا پتا نہیں ... نہ کوئی خبر ، نہ کوئی آواز بس ایک سوال ہر زبان پر ہے عمران خان کہاں ہیں ؟ یہ صرف ایک لیڈر کا معاملہ نہیں ) یہ پوری قوم کی بے چینی ہے قیادت جواب دے حکومت جواب دے آخر عمران خان کدھر ہیں ؟
پہلے زمانے کے لوگ بہت سادہ دل ہوا کرتے تھے، محبت ملتی تو عمر بھر وفا میں گزار دیتے تھے۔ مگر آج کے لوگ بہت سمجھدار ہو گئے ہیں، محبت کے بدلے محبت نہیں دیتے بلکہ اکثر سبق دے جاتے ہیں۔"