اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔ عمران خان (21 مارچ، 2026)
@ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
ہم صرف ایک ملاقات نہیں بلکہ تمام حقوق کی بحالی چاہتے ہیں۔ ہماری فیملی کا درد سمجھیں۔ ہم سب سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا علاج چاہتے ہیں۔ ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا ہے، ہمیں اس کی فکر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ان کے مکمل ٹیسٹ ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی قید تنہائی ختم ہو اور ان کے سارے حقوق بحال کیے جائیں۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
بلوچستان کی یہ ترقی دشمن کو ہضم نہیں ہو رہی 👏👏👏 جبکہ دوسری جانب DHA سمیت تمام عسکری کاروبار دشمن کو آرام سے ہضم ہو رہے ہیں ادھر دشمن کو کوئ مسلہ نہیں 🫡
سہیل ظفر چٹھہ صاحب اور سی سی ڈی پولیس کا طاقتور کے آگے سجدہ
۔نائب وزیرِاعظم کے رشتہ دار پر الزام ہو تو CCD کی وردی بھی نرم پڑ جاتی ہے، قانون کو بھی بخار چڑھ جاتا ہے، اور انصاف فائلوں میں منہ چھپا لیتا ہے۔
لیکن اگر کوئی عام شہری ہو تو یہی نظام ٹریگر پر انگلی رکھ کر “قانون کی عملداری” یاد دلانے لگتا ہے۔
مریم نواز صاحبہ، ایک ہی پنجاب میں دو قانون کب تک چلائیں گی؟
ایک قانون طاقتوروں کے لیے، دوسرا کمزوروں کے لیے؟
اگر غیرت ہوتی تو CCD کمزوروں پر دھاڑنے کے بجائے بااثر لوگوں کے دروازے پر بھی اسی زور سے دستک دیتی۔
یہ انصاف نہیں، طاقت کے آگے سجدہ اور کمزور پر دھونس ہے۔
نائب وزیرِاعظم کے رشتہ دار پر بات آئے تو CCD کی بہادری کو بریک لگ جاتی ہے،
عام آدمی ہو تو یہی قانون بندوق تان کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
مریم نواز کا پنجاب نہیں،
یہ “VVIP انصاف” اور “عام آدمی انکاؤنٹر” والا پنجاب ہے۔
جو لوگ کبھی سکول نہیں گئے یا جن کا کتاب سے دور دور تک تعلق نہیں یا جو پڑھ بھی لیں ان پر پڑھائی کا اثر نہیں ہوتا یا کمانے کی کوالٹی نہیں اور جوتے چاٹ کر کماتے یا جو حرام کماتے یا منافق جھوٹے یا خود غرض ہیں وہ کبھی بھی خان کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ ایک لیڈر میں ہوتا کیا ہے؟ وہ سکھاتا کیا ہے؟
پڑھنا سکھائے گا
سچ بولنا
محنت کی بنا پر آگے بڑھنا
دور اندیشی
اپنے علاوہ دوسروں کا سوچنا
خود کو قابل بنانا
اور یہ سب سمجھ بھی تب ہی آتا ہے جب کسی میں پوٹینشل ہو۔