اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے تین زبردست انعامات ہیں۔(1)فرقان عطا ہو جاتا ہے(2)اللہ کا خاص فضل وکرم عطا ہوتا ہے(3) گناہوں کی معافی عطا ہو جاتی ہے
فرقان سے مراد نور وہ بصیرت،حکمت اور سمجھ ہے جس کے ذریعے مؤمن حق اور باطل میں فرق،غلط اور صحیح میں فرق اور خیر اور شر میں فرق کرسکتا ہے
حکیم الامت علامہ اقبال فرماتے ہیں
ہو اگر خود نگر، خودگر و خودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
حق کی پہچان نصیب اہل بصیرت کو ہوئی
ورنہ ہر دور میں باطل بھی سجا رہتا ہے
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! ہدایت یافتہ لوگ مصیبت آزمائش کے وقت واویلا چیخ و پکار اور ماتم کی بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی رہتے ہیں اور مزید پُرعزم پُرسکون رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں ہوتے
رب العالمین ہمارے خالق اور مالک ہیں ہم اسے بندے اور غلام ہیں ہم صارف consumer &user ہیں اصل مالک Owner /Producer / Maker Createrجب چاہے ہمارے حق تصرف حق استعمال ختم کردے۔
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی حیات طیبہ پوری سراپا صبر و رضا ہے۔ سانحہ کربلا میں امام عالی مقام حسین ابن علی اولاد حسین اصحاب حسین اخوان حسین علیہم السلام کا بے مثال صبر واستقامت اور انکا کلمہ حق بلند کرنا تاقیامت مشعلِ راہ ہے۔
پکارتے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
صبر و رضا کا دامن کبھی چھوڑتے نہیں
ہر حال میں رہتے ہیں شاکر وممنون
جن کے دل ہیں یقین خدا سے روشن
کربلا میں بھی نہیں ہوتے مغمون
حکیم الامت علامہ محمد اقبال فرماتے
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
اس آیت مبارکہ کی عملی تشریح کے لیے
حضرت امام عالی مقام کے کربلا میں خطابات اور حضرت زینب علیہم السلام کے کربلا کے بعد یزید یوں کے سامنے خطابات کا مطالعہ بہت ضروری ہے ۔
کلمے کے وارثوں کو سلام
جنت کے مالکوں کو سلام
کربلا کے شہیدوں کو سلام
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! الحق رب العالمین ہے الحق کے نائب اور نمائندے انبیاء کرام علیہم السلام اور درجہ بدرجہ صالحین اور اولیاء کرام بھی الحق کے نمائندے ہیں اور ۔ حق اللہ پاک کا حکم ہے۔حق آئین رب العالمین قرآن مجید ہے حق اللہ تعالیٰ کا منشور اور دستور ہے۔حق امن ہے حق انصاف ہے حق ہی سچا ہے اور حق ہی سچ ہے۔ حق کی دو لازم و ملزوم شرائط ہیں : (1)رب العالمین کو ماننا (2) رب العالمین کی ماننا۔ دونوں شرائط میں سے کسی ایک شرط کی غیر موجودگی کے باعث ہر عمل باطل ہو جاتا ہے۔ المختصر حق اور باطل دو دھڑے اور دو نظریے ہیں.
الحق،الحق کے نمائندے اور حق کو زوال نہیں ۔یہ زندہ باد ہیں۔
جبکہ باطل ابلیس ہے ابلیس کے نمائندے ہیں اور ابلیس کا دستور اور ابلیس کا منشور ہے ۔ شیطان کے نمائندے فرعون نمرود یزید اور انکے تمام پیروکار ہیں۔باطل کو زوال ہےیہ مردہ باد ہے
حکیم الامت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
ہرکہ از خویش آمدہ دو قوت پدیر
( حق اور باطل دو دھڑے ہیں اور دو نظریے ہیں)
حق حق ہے،باطل باطل ہے
یہی تو قرآن کا حاصل ہے
یہ درس کربلا کامل ہے
حق حق ہے،باطل باطل ہے
جھک جائے جو ظلم کے آگے
وہ زندہ ہی تدفین کے قابل ہے
جو جان بوجھ کر حق کو کہے باطل ہے
وہ عالم عاقل نہیں، وہ پکاابوجاہل ہے
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو!
محمد وآل محمد علیہم السلام کا نام رہے گا بلند سدا
کوئی مثانہ پائے گا یہ نور خدا ہے سدا
ابتر اور بے نام ونشان رہا دشمن سدا
مل گیا خاک میں دیکھو وہ منافق اعداء سدا
سانحہ کربلا کے وقت ظالم آمر ناجائز حکمران یزید بن معاویہ کے 14بیٹے اور 5 بیٹیاں تھیں ۔یزید نے محمد و آل محمد علیہم السلام کی نسل ہمیشہ کے لیے مٹانے کی کوشش کی۔امام عالی مقام علیہ السلام کے صرف ایک بیٹے امام علی بن حسین زین العابدین علیہ السلام شدید علالت کے باعث بچ گئے۔یزید نے شیر خوار بچوں تک قتل کروادیے ۔
مگر آج بھی دنیا میں آل رسول علیہم السلام موجود ہیں اور رہیں گے۔قیامت کے قریب بارہویں امام حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگااور انکی حکومت بھی قائم ہوگی۔
جبکہ دوسری طرف یزید بن معاویہ کی اولاد میں سے ایک بھی باقی نہیں ہے۔اور ظالم سے ظالم باطل انسان بھی خود کو یزید کہلوانا اپنی توہین سمجھتا ہے۔پوری دنیا میں بنوامیہ اور یزید کے طرزِ حکومت کی بظاھر حمایت نہیں کرتا۔سب ظالم جابر نااہل ناجائز باطل حکمران بھی چہرے اور نام بدل کر کام کررہے ہیں۔تمام دنیاوی طاقت کے باوجود کسی ظالم حکمران کی جرآت نہیں کہ خود کو یزید کا پیروکار کہے۔ تمام باطل جابر ظالم حکمران بھی اپنی تقاریر میں حضرت امام حسین سے بظاھر عقیدت اور یزید سے نفرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
ابتر ہوا وہ ،جس نے نبی وآل نبی سے عداوت کی
ژندہ ہے وہی جس نے محبت کی عبادت کی
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو!
سلام رب کا منظر بھی کتنا دل نشین ہوگا
جب اہل بیت آئیں گے فلک بھی آفرین ہوگا
جنت میں آمد پر جنت والوں کے لیے رب العالمین کی سب بڑی نعمت رب رحیم کا براہ راست جنتیوں کو سلام ہوگا۔
اور اہل بیت اطھار علیھم السلام اور بالخصوص جنت کے سرداروں امام حسن اور امام حسین سیدالشہدا امام عالی مقام کی جنت میں آمد کا منظر سبحان اللہ
کلمے دے وارثان نو سلام ہووے
جنت دے مالکاں نوں سلام ہووے
جنت دے سرداراں نوں سلام ہووے
جنتیوں کی سب سے بڑی خوشی کا لمحہ، اللہ پاک کی طرف سے سلام
سلام رب جو مل جائے یہی انعام جنت ہے
یہی تو اہل ایمان کی ازل سے اصل دولت ہے
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو!
آیت تطہیر نے جس کی طہارت کی گواہی دی
وہی دنیا میں مقدس سب سے گھرانہ ہے
رب العالمین نے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیہم السلام کو باوقار زندگی گزارنے نے خود سلیقے سکھاۓ ۔سبحان اللہ اہل بیت علیہم السلام کےلئے تربیتی ورکشاپ اور اللہ پاک کی اہل بیت سے محبت بے مثال ہے۔اس آیت کے دوسرے حصے میں اللہ پاک نے اہل بیت اطھار علیھم السلام کی اخلاقی وروحانی جسمانی پاکیزگی اور تقویٰ متعلق کے اپنے عزائم اور مقاصد کا اعلان فرمایا ۔
ایسے پاک گھرانے کو ماہ محرم میں کئی روزہ محاصرے اور بھوکے پیاسے رکھ کر ہزاروں کی فوج کے ساتھ آل رسول علیہم السلام ال قتل کردیا۔انکے نومولود اور نابالغ بچوں اور بوڑھے لوگوں کی بھی قتل کردیا اور پھر شھداء کی لاشوں کی بے حرمتی کی۔پاک خواتین کی بے حرمتی کی گئی ۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی امت کے لئے ہر لمحہ اور اور ہر جگہ زمین سے لیکر سدرۃالمنتہی تک اور اپنے وصال کے آخری لمحات اور آخری الفاظ تک امت کی خیر اور بخشش مانگتے ہیں۔
قتل کی وجہ عناد یہ تھی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے بزدل آمر قابض بدمعاشوں دہشت گردوں کو اپنے ناجائز اقتدار کو خطرے کا وہم تھا۔مگر اہل بیت علیہم السلام کی طہارت و پاکیزگی کے باعث ناپاک یزید آل رسول اور نواسہ رسول علیہم السلام سے حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
سلام اہل بیت پر،جو نبی کا گھرانہ ہے
انہی سے دین زندہ ہے،انہی سے ہر زمانہ ہے
سلام اہل بیت پر،جو نبی کا گھرانہ ہے
محبت ان کی ایمان،یہی رب کا فرمانہ ہے
جو مٹاۓ نہ مٹ سکے وہ ایسا گھرانہ ہے
جس کے در کا تو خود سائل یہ زمانہ ہے
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو!
باطل کے پرستار تو اک جھنڈے تلے ہیں
حق والے مگر فرقوں میں بٹے بیٹھے ہیں
باطل اور منافق سب متحد ہیں جبکہ حق والے انتشار کا شکار ہیں۔جب حق والے متحد منظم نہیں ہونگے تب تک مار ہی کھاتے رہیں گے
اس آیت مبارکہ میں بھی رب العالمین نے مسلمانوں کو متحد ہونے کا حکم فرمایا ہے۔جس طرح تمام باطل قوتیں اپنے مشترکہ مفادات کی خاطر مسلمانوں کیخلاف متحد ہیں اس طرح مسلمانوں کو بھی اپنی ذاتی عداوتیں ذاتی انفرادی اختلافات کو ترک کرکے کفار اور منافقین کے خلاف متحد ہونا چاہیے ۔
مسلمانوں کے زوال کی وجہ انتشار ہے
باطل کے سبھی لشکر اک صف میں کھڑے ہیں
حق والے مگر آج بھی ٹکروں میں بٹے ہیں
حکیم الامت علامہ اقبال فرماتے ہیں
منفعت ایک ہے اس قوم کی،نقصان بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! رب العالمین خالق کائنات نے نظام کائنات چلانے کے لیے " عدل و انصاف " کو لازم ترین کردیا ہے۔دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ دو قومیں چلی آرہی ہیں۔
ایک موسی اور حسین کی صورت میں "حق" اور دوسری فرعون اور یزید کی صورت میں "باطل"
حکیم الامت علامہ اقبال فرماتے ہیں
موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
بہرخیزد ازرگ دیں دو تپید
سورۃ محمد کی یہ دو آیات 22 اور 23 اور سورۃ الاحزاب کی آیت 57 سے ثابت ہے۔
قرآن پکارتا ھے کہ ملعون ہے ظالم
برباد ہے دنیا میں اور محشر میں ہے نادم
تمام اصل ائماء مجتہدین فقہاء نے ظلم کیخلاف آواز بلند کی ۔امام جعفر صادق امام اعظم ابو حنیفہ امام حنبل امام شافعی امام مالک علیہم السلام نے یزیدیوں پر صریحاً لعنت کی ہے
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کو بنوامیہ کی حکومت نے قید کیا تشدد کیا اور آپکی شھادت قیدخانے میں ہوئی۔آپ کا قول ہے کہ بنوامیہ کی حکومت کے خلاف جنگ چالیس حج وعمرہ سے بہتر عبادت ہے.
ضمیر فروش مولویوں نے اسلام کے اصل مقصد "اجتماعی سطح کے ایمان اور عبادت "یعنی حق کی سیاست سے ہٹاکر انفرادی سطح کے ایمان اور عبادت پر تبلیغ شروع کردی اور ہر آمر ظالم طاقتور یزید کی حمایت کی۔
تنہا یزید ہی نہیں لعنت کا مستحق
کچھ لوگ آج بھی اسی نقش قدم پر ہیں
حبیب جالب فرماتے ہیں
ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے تم ہی کہو
بیتے دن کی لاش پہ اے دل
میں روتا ہوں توبھی رو
میری زباں کو مت روکو
تم کو اگر توفیق نہیں تو
مجھ کو ہی سچ کہنے دو
ظلم رہے اور امن بھی ہو؟
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام امتوں پر لامحدود لا قیود احسانات ہیں۔ رب العالمین نے تمام کائنات ہی اپنے محبوب نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بنائی ۔اللہ پاک نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا کہ اپنی امت سے فرمائیں کہ آپکو شب وروز کی محنت کے بدلے کوئی معاوضہ اجرت یا کوئی مال ودولت یا مال غنیمت میں کو ئی حصہ نہیں چاہیئے بلکہ صرف اور صرف اپنے عزیز و اقارب اہل بیت اطہار علیہم السلام کا احترام اور ان سے مؤ دت پیار محبت چاہیے ۔اہل بیت علیہم السلام کو اذیت اور تکلیف پہچانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت اور تکلیف پہچانے کے مترادف ہے ۔
مگر بدبخت یزیدیوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیہم السلام کی بے حرمتی کی۔بے دردی سے قتل کیا انکے جسم اقدس کی بے حرمتی کی خواتین کی بے حرمتی کی۔ اتنا ظلم کبھی غیر مسلم فوج نے نہیں کیا جتنا لعین شیطاں یزیدیوں نے کیا۔یہ سب اہلِ بیت کے ساتھ انکے بغض اور بے ایمانی کا اظہار تھآ۔ اہل بیت اطہار علیہم السلام سے محبت کے بغیر کوئی مسلمان نہیں بلکہ وہ شیطان ہیں۔
درود ان پر،سلام ان پر کہ جن سے دین زندہ ہے
نبی پاک کے پاک گھرانے سے ہمارا ایمان زندہ ہے
جنت کے مالکوں کو سلام
جنت کے سرداروں کو سلام
سلام آل نبی پر ہو ہمیشہ صبح وشام
یہی ہے تمام عاشقوں کاورد،یہی دل کا پیام
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! رب العالمین نے مسلمانوں کو سیاسی شعور کا حکم فرمایا ہے۔سیاست بھی فرض عبادت ہے دین اسلام صرف نماز روزہ حج کے فرائض تک محدود نہیں ہے ۔سیاست اور الیکشن کے بارے میں ووٹرز سپورٹرز کو آئینی حکم ہے کہ ظلم کرنے والوں کی بیعت اور حمایت مت کرو۔جو ظالموں کی حمایت کرتے ہیں ظالموں کی طرف داری کرتے ہیں ظالموں کو ووٹ دیتے ہیں ان ووٹرز سپورٹرز کو بھی وہی جہنم کی سزا ملے گی جو ظالموں کو ملے گی۔ایسے لوگوں سے اللہ پاک کوئی رعایت نہیں فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم ہو جاۓ گا ۔
ظالم کی حمایت بھی ستم میں ہے شراکت
حق گو کی حمایت ہی فلاح وطن ہے
امام عالی مقام سیدنا حسین بن علی علیہ السلام نے آمر ظالم فاسق حکمران یزید بن معاویہ کی بیعت اور حمایت کرنے سے انکار کردیا تو اللہ پاک کی اس آیت کی عملی تفسیر فرمادی۔ عالی مقام علیہ السلام نے اپنی اپنے عزیز واقارب اپنے اصحاب علیہم السلام کی قربانی دے دے کی مگر ظالم کی بیعت نہ کی اور اس طرح دین اسلام کو بچایا اور آپ علیہ السلام کی عملی تفسیر ہی عین دین اسلام ہے۔
دیں است حسین علیہ السلام
دیں پناہ است حسین علیہ السلام
دین اسلام ایک نظام سیاست اور نظام حکومت ہے مگر ظالم مکار آمر ہمیشہ بنو امیہ کی طرح زر اور زور کی سیاست سے ضمیر فروش سرداروں جاگیر داروں سرمایہ داروں مولویوں مفتیوں کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بناکر حکومت کرتے ہیں۔
حکیم الامت علامہ اقبال فرماتے ہیں۔
مصلحت آمیز ہو تو حق سے نہ پھر اے مؤمن
کہ حق بات کہنے میں کبھی ڈرنا نہیں چاہیئے
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! جیسے اللہ کی نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کیخلاف فرعون نے اپنے اقتدار کی خاطر ظلم وستم ڈھائے اور شہید یا ملک بدر کرنے کی کوشش کی ۔فرعون غرور تکبر کے نشے میں موت بھول گیا۔
اور یزید بن معاویہ نے اپنے اقتدار بچانے کے لیے نواسہ رسول امام عالی مقام سیدنا حسین بن علی علیہ السلام و آل واصحاب علیہم السلام کو حرمت والے مہینے محرم میں شہید کیا اور غرور و تکبر میں موت بھول گیا۔اقتدار اور زندگی جلد نشان عبرت بن گئے۔
اسی طرح ہر دور کے آمر جابر ظالم حکمران ظلم و ستم کرتے ہیں اور غرور و گھمنڈ میں موت بھول جاتے ہیں۔
ظلم کی رات سہی، رات ہی آخر تو ہے
صبح انصاف کو آنے سے کوئی روک نہ پاۓ گا
شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
تکبر از خاک آفریدہ نہ سرد
کہ گردن فرازی زیگانہ سرد
خاک سے پیدا ہوۓ انسان کو تکبر زیب نہیں دیتا
ستم گروں کی حکومت زیادہ دیر نہیں
خدا کے گھر میں اندھیرا زیادہ دیر نہیں
فیض احمد فیض رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
حکیم الامت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
ہے وہی تیرے زمانے کا امام بر حق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! ہدایت یافتہ لوگ مصیبت آزمائش کے وقت واویلا چیخ و پکار اور ماتم کی بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی رہتے ہیں اور مزید پُرعزم پُرسکون رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں ہوتے
رب العالمین ہمارے خالق اور مالک ہیں ہم اسے بندے اور غلام ہیں ہم صارف consumer &user ہیں اصل مالک Owner /Producer / Maker Createrجب چاہے ہمارے حق تصرف حق استعمال ختم کردے۔
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی حیات طیبہ پوری سراپا صبر و رضا ہے۔ سانحہ کربلا میں امام عالی مقام حسین ابن علی اولاد حسین اصحاب حسین اخوان حسین علیہم السلام کا بے مثال صبر واستقامت اور انکا کلمہ حق بلند کرنا تاقیامت مشعلِ راہ ہے۔
پکارتے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
صبر و رضا کا دامن کبھی چھوڑتے نہیں
ہر حال میں رہتے ہیں شاکر وممنون
جن کے دل ہیں یقین خدا سے روشن
کربلا میں بھی نہیں ہوتے مغمون
حکیم الامت علامہ محمد اقبال فرماتے
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
اس آیت مبارکہ کی عملی تشریح کے لیے
حضرت امام عالی مقام کے کربلا میں خطابات اور حضرت زینب علیہم السلام کے کربلا کے بعد یزید یوں کے سامنے خطابات کا مطالعہ بہت ضروری ہے ۔
کلمے کے وارثوں کو سلام
جنت کے مالکوں کو سلام
کربلا کے شہیدوں کو سلام
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجنا مقبول ترین فرض عبادت ہے۔
اہم ترین بات یہ ہے کہ خالق کائنات رب العالمین خود بھی اور فرشتے بھی نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجتے ہیں۔یعنی ایسا بے مثال یکتا عمل جو خالق اور مخلوق دونوں کا محبوب ترین اور مقبول ترین عمل ہے۔
حکیم الامت علامہ اقبال اللہ پاک کی اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے حکم کو یوں تشریح فرماتے ہیں فرماتے ہیں
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا،لوح و قلم تیرے ہیں
اے مؤمنو اگر آپ اپنے آقا و مولا نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ان کی تعلیمات اور ان کے اسوۃ حسنہ سے سچی وفاداری کروگے تو اللہ پاک کی رحمت اور نصرت یقیناً تمہارے شامل حال ہوگی۔
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! اسلام میں نہ مؤمن کی جان کی حرمت بلکہ ہر انسان کی جان کی حفاظت آئینی فرض ہے۔رب العالمین نے بالخصوص مؤمن کو ماورائے عدالت اور عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے بغیر قتل کرنا حرام کیا ہے اور اللہ کے احکامات کے خلاف اقدام قتل کرنیوالے ہر دور کے یزیدی قاتل پر لعنت اور ہمیشہ عذاب جہنم کا واضح اعلان فرمایا ہے۔ اسلامی ریاست میں کسی بھی پُرامن غیر مذہب انسان کو بھی غیر آئینی اور غیر قانونی اور ماورائے عدالت قتل کرنا ممنوع ہے۔
حکیم الامت علامہ اقبال تشریح فرماتے ہیں
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا ،نعرہ تکبیر بھی فتنہ
مظفر وارثی حرمت مؤمن کی شان میں فرماتے ہیں
یہ جو مسلمان ہیں،یہ تو خدا کا گھر ہیں
کون کہتا ہے کہ ان کا قتل جائز ہے؟
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! یہ رب العالمین کا واضح حکم ہے شھداء علیہم السلام زندہ ہیں انہیں مردہ کہنا ممنوع ہے۔
دراصل حق و انصاف کی جدوجہد میں قربانی سے موت واقع نہیں ہوتی شھادت زندگی ہے جبکہ اسکے برعکس غلامی اور ظلم و نافرمانی کی زندگی نہیں وہ موت ہے۔ دل کے اندھوں کو سمجھ نہیں ۔
ہدایت کے دو دو پہلو ہیں (1) انفرادی سطح کی ہدایت ۔(2) اجتماعی سطح کی ہدایت
اجتماعی سطح کی ہدایت ہی وہ مقام ہے جہاں مسلمان افراط و تفریط کا شکار ہو تا ہے اور یہ ایمان کے دونوں حصوں "اقرار اور تصدیق"کا فائنل امتحان ہے ۔عملی اخلاقی اور سیاسی ہدایت ہی اجتماعی سطح کی ہدایت ہے۔
آمر ظالم جابر نااہل کا نظریہ ہے کہ طاقت ہی حق ہے یعنی جس کے پاس طاقت اور حکومت ہے وہ حق پر ہے۔یہ طاقت خواہ غیر آئینی غیر قانونی غیر اسلامی ہو۔ جیسے بھی زر اور زور کے ذریعے ڈھونس دھاندلی کے ذریعے قابض ہو جاۓ وہ ہی حق ہے اور اسکی اطاعت لازم ہے یہ ملوکیت یزیدیت فرعونیت یا آمریت کہلاتی ہے۔
دوسرا نظریہ حق ہی طاقت ہے۔ طے شدہ آئین قانون و اصول وضوابط پر قائم رہنا طاقت ہے اور اور غیر قانونی غیر آئینی غیر اسلامی طاقت و حکومت کی اطاعت لازم نہیں ہے۔ایسی غیر آئینی حکومت کے خلاف جدوجہد حق ہے۔یہ حسینیت کہلاتی ہے۔
اجتماعی سیاسی ھدایت یہ ہے کہ حسینیت حق ہے اور یزیدیت باطل ہے اور کربلا حق و باطل کی تمیز اور عمل کی امتحان گاہ ہے۔
قتل حسین علیہ السلام اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہرکربلا کے بعد
سیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام زندہ ہیں جبکہ بدبخت آمر ظالم قاتل جابر یزید مردہ ہے اور یزید پر لعنت ہے۔
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! اللہ حضرت نوح علیہ السلام نے حق و انصاف کے لیے صدیوں طویل جدوجہد کی اور حق کی جدوجہد کا نچوڑ بتایا کہ جاہل مفاد پرست قوم نے حق وانصاف پر مبنی اہل قیادت کی بجائے طاقتور جاگیر دار سرمایہ دار نااہل قیادت کی پیروی کی۔
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
جاہل مفاد پرست بزدل اور منافق قومیں ہمیشہ طاقتور سرمایہ دار جاگیر دار کرپٹ چور مافیا اور آمروں ظالموں کی ہی حمایت کرتے ہیں۔
جس کے ہاتھ میں لاٹھی اسی کی بھینس کا قانون ہے
یہاں غریب کا حق چھیننا بھی اک مضمون ہے
تمام انبیاء علیہم السلام نے ناانصافی ظلم وزیادتی اور قوموں کے جھوٹے خداؤں اور انکے ظاہری و باطنی بتوں کے خلاف جدوجہد کی۔
مکار اور فراڈی بہر و پیوں اور طاقت طاقتور وں نے چہرے اور نعرے بدل بدل کر جاہل قوموں کو خوب بے وقوف بنایا۔حق اور سچ کی قیادت کو جھوٹا جبکہ جھوٹی قیادت کو سچا مسیحا ثابت کرنے کی جدوجہد کی۔
اسلام کا عروج دیکھ کر اسلام میں ظاہری طور پر شامل ہوگئے اور اپنی شکلیں بدل لیں مگر نیت نہیں بدلی۔سازشیں جاری رکھیں۔جیسے ہی موقع ملا حقدار قیادت کے خلاف جوڑ توڑ اور زر اور زور کی سیاست شروع کردی۔ناجائز طریقے سے طاقت حاصل کرلی اور اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہچایا ۔اسلام کا نظام ہی بدل دیا۔اسلام کے خلاف اپنی بادشاہت اور خاندانی سیاسی نظام قائم کردیا۔زر اور زور سے مسلمانوں کی اکثریت اپنے ساتھ ملا کر خلفاء راشدین کا قتل کیا اور نواسہ رسول حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین اور عزیز واقارب علیہم السلام کا قتل کیا۔مگر نادانوں کو کبھی سمجھ نہیں آئے گی کہ حق کی راہ کے شہداء زندہ ہیں اور انکو رزق بھی ملتا ہے انکا نظریہ ژندہ ہے وہ ہر لمحہ اپنے فیض سے حق کی قیادت کی رہنمائی فرماتے ہیں قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہرکرب و بلا کے بعد
۔حکیم الامت علامہ اقبال فرماتے ہیں۔
غریب و سادہ رنگیں ہے داستان حرم
نہایت اسکی حسین ابتداء ہے اسماعیل
اور حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰہ فرماتے ہیں
شاہ است حُسین بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! ایمان کے دو حصے ہیں حق کا اقرار کرنا اور تصدیق کرنا ۔جیسے اللہ کو ماننا حق کا اقرار ہے جبکہ اللہ کی بات ماننا حق کی تصدیق ہے۔
تیری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
میری دعا ہے کہ تیری بصیرت بدل جائے
رب العالمین نے حق بینی یعنی حق کو پہچاننے کے تمام ذرائع فراہم کردئیے ہیں۔جو انسان ان ذرائع کا استعمال کرے گا وہ حق کی راہ کو پا لے گا اور جو ان ذرائع سے جان بوجھ کر محروم رہے گا وہ دل کے اندھے نامراد لوگوں میں شامل ہو جائے گا۔قرآن مجید کی مطابق حق بینی کے ذرائع عقل و شعور ،حواس خمسہ ،وحی الہی ،انبیاء ورسل صالحین اور تدبر و غور وفکر انسان کو عطا کردئیے ہیں۔
حق بینی و ہدایت کے دو پہلو ہیں ۔(1)انفرادی سطح کی ہدایت (2) اجتماعی سطح کی ہدایت ۔
انفرادی سطح کی ہدایت جیسے ہر انسان جانتا ہے کہ سچ بولنا اچھی بات ہے اور جھوٹ بولنا بری بات ہے۔انسان کو سمجھ آجائے کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں ؟
اجتماعی سطح کی ہدایت جیسے سیاسی شعور ۔اصل ضرورت اجتماعی سطح کی ہدایت ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سانحہ کربلا کی ضرورت پیش آئی ۔دونوں گرو بظاہر مسلمانوں کے تھے مگر نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام نے ہمیشہ کے لئے حق اور باطل میں فرق واضح کردیا ۔حضرت امام حسین علیہ السلام اور اصحاب نے ایمان کے تمام حصے اور درجے کے لحاظ سے کامل مؤمن مسلمان ہونے کی مثال پیش کی۔ حضرت معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے درست فرمایا
دیں است حسین علیہ السلام
دیں پناہ است حسین علیہ السلام
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو! اللہ پر کامل توکل اور خوف خدا مسلمان کو ہر طرح کی غلامی سے نجات دلاکر اسے حقیقی معنوں میں آزاد کر دیتا ہے۔
توکل کی یہ دولت ہے کہ جس کے پاس آۓ
نہ رہتا خوف باطل ،نہ خطر اندیشہ فردا
اللہ پر بھروسہ کرنے والا مستقبل کے خوف اور باطل طاقتوروں کی دھمکیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ
آئین جواں مرداں ،حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
(روباہی کا مطلب بزدلی)مؤمن صرف خدا سے ڈرتا ہے۔اسی لیے وہ دنیا کے کسی یزید ظالم جابر کے سامنے نہیں جھکتا ۔
اے مؤمنو اے اللہ کے پیارو!
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
قرآن پاک میں اس رویے کی بارہا نشاندھی کی گئی ہے جہاں لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے آباؤ اجداد کو جس راستے اور رسم وروایات پر پایا ہے اسی پر چلیں گے چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔مفاد پرست اور جاہل لوگوں نے ہمیشہ قدامت پرستی (Status quo) پرانے فرسودہ نظام کی حمایت کی ہے اور حق سچ پر مبنی نظام اسلام کی مخالفت کی ہے۔
حکیم الامت علامہ اقبال کی تشریح ملاحظہ ہو
تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو
کر اسکی حفاظت کہ گوہر ہے یگانہ
ایک اور کلام حکیم الامت
خرد نے کہہ بھی دیا لاالہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
مولانا ظفر علی خان تشریح فرماتے ہیں
تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف
صرف پرانی روایات سے چمٹے رہنا اور حق سچ پر مبنی نظام کو قبول نہ کرنا قوموں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔