شئیر کر کے پریشان حال فیملی کی مدد کیجیے
یہ جو پیارا سا بچہ نظر آرہا ہے یہ حفظ کر رہا ہے اس کا نام عفان ہے اور یہ ڈیرہ غازی خان کا رہائشی ہے
گزشتہ روز صبح 6:30 منٹ پہ مدرسہ کے لیئے روانہ ہوا۔
گھر والے پرسکون تھے تھے کہ بچہ شام کو واپس گھر آجائے گا لیکن شام کو واپس نہ آیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پریشانی بڑھتی جارہی ہے
جب اس کے مدرسہ سے پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ بچہ آج مدرسہ ہی نہیں آیا ہے
والد صاحب بھی اس کے قاری ہیں لیکن اب سب پریشان ہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے ہیں ۔
اس سے پہلے اس پیارے سے بچے کے ساتھ کچھ برا ہو پلیز مدد کریں اس کے والدین بہت پریشان ہیں
آجکل کا ماحول سب کو پتا ہے اس سے پہلے کہ یہ بچہ کسی غلط ہاتھوں میں جائے اس کا چہرہ ہر جگہ پہنچا دیں کیونکہ آپ کے اختیار میں ہے
😔😔😔😔😔
اسلام آباد پولیس کا کارنامہ چیک کریں : پانچ اگست کو پی ٹی آئی احتجاج پر اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے کچھ ورکرز گرفتار کئے ایف آئی آر کی کہ ان کے پاس ڈنڈے سوٹے گلیلیں تھیں ان میں ایک دونوں ہاتھوں سے معذور شخص بھہ گرفتار کر لیا چھ اگست کو عدالت پیش کیا عدالت نے ایک دن کا ریمانڈ بھی دے دیا پی ٹی آئی وکلا کے بقول انہوں نے عدالت کو بتایا ایک شخص کے دونوں ہاتھ نہیں ہے لیکن پھر بھی ریمانڈ دے دیا گیا 7 اگست دوبارہ پیش کیا گیا تو دوبارہ عدالت کو بتایا گیا تو عدالت نے ملزم کو آگے بلا کرکے کہا ہاتھ کھڑے کرو ، اس نے ہاتھ کھڑے کئے تو دونوں کٹے ہوئے تھے تب جا کر عدالت نے اس کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا ۔۔۔۔ وگرنا پانچ سے سات اگست تک پولیس کو خیال نہیں آیا کہ اس کے تو ہاتھ ہی نہیں ہیں یہ کیسے پتھر پھینکے گا
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2200 ارب روپے کے بلا سود (0% سود) قرضے حاصل کرنے والے 628 بااثر افراد کی فہرست اور ان کے ناموں کی تفصیلات ظاہر کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے
سوچنے کی بات یہ ہے کہ عام شہری کو اگر ایک لاکھ کا قرضہ بھی چاہیے ہو تو درجنوں کاغذات ضامن اور زبردست سود ادا کرنا پڑتا ہے
پھر ان 628 افراد کو اتنی بڑی رقم بغیر کسی سود کے کس بنیاد پر دی گئی؟
اور اب ان کے نام کیوں چھپائے جا رہے ہیں؟
یہ وہ رقم ہے جو پاکستان کے غریب اور محنت کش عوام کا پیسہ ہے لیکن فائدے صرف مخصوص امرا اور بااثر حلقوں کو پہنچائے جا رہے ہیں یہ ہیں وہ اصل لٹیرے جو عوامی وسائل پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ عوام کا پیسہ شفاف ہونا چاہیے اور ان 628 لٹیروں کے نام سامنے آنے چاہئیں تو اس پیغام کو آگے شیئر کریں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں
#Afaqwrites
If it were not for @DrSueTariq, Mir Raza Ali’s parents would never get justice. Her statement on TV, made while ignoring all the consequences of losing her job and going against the status quo, made history by reporting and exposing the forgery committed by the police and the entire health department in this case.
Hats off to her!
Family of #MirRaza has not requested/consented to any judicial commission nor we believe it's required at this stage. New investigation team has been formed which family will meet tomorrow. Sindh Govt should not try to create hurdles/confusion in name of "facilitation".
کچھ ٹویٹر اکاؤنٹس کے مطابق ہم نے عمران خان صاحب کو بلڈ پریشر کی وجہ سے پمز لانے والی خبر جھوٹی دی ہے اور یہ خبر ہمیں انٹیلیجنس ایجنسیز کی طرف سے دی گئی ہے ، میں وی لاگ میں واضح کر چکا ہوں کہ اس خبر کے دو سورسز ہیں اور اگر عمران خان صاحب کی بہنوں نے دو تین دن میں اس خبر کو کنفرم نہ کیا تو دونوں سورسز کے نام اس لیے بتائے جا سکتے ہی�� لیکن دو ڈھائی ماہ بعد کیونکہ ان کے نام ��وراً بتانے سے مزید معلومات ملنے کا سلسلہ رک سکتا ہے ،
میرے اس ٹویٹ کو بک مارک کر لیں، سیوو کر لیں،
لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ عمران خان صاحب کی صحت کے معاملے سے جڑی خبروں کو متنازعہ بنانا ایک نیو نارمل ہے جو کہ تشویشناک ہے ،
عمران خان صاحب کی صحت کے معاملے پر تو کم از کم پی ٹی آئی قیادت اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کو عمران خان صاحب کی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ایک موقف دینا چاہیئے،
پہلے بھی یہی ہوا تھا جب آنکھ کا معاملہ سامنے آیا تو کہا گیا کہ یہ ایجنسیوں کی خبر ہے جس کا مقصد 8 فروری کے احتجاج سے توجہ ہٹانا ہے ، اچکزئی صاحب نے ویڈیو پیغام جاری کیا کہ سارا فوکس 8 ��روری پر رکھیں، میں بتا رہا ہوں کہ عمران خان کی آنکھ بالکل ٹھیک ہے ، بعد میں پتا چلا کہ 85 فیصد آنکھ ضائع ہو چکی ہے ،
پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ عمران خان کی زندگی کے معاملے پر بھی پی ٹی آئی کی قیادت، تحریک تحفظ آئین پاکستان اور دیگر متعلقہ شخصیات ایک ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں، یہ بہت خوفناک ہے
Mir Raza family is a middle-class family from Karachi fighting for justice, and I truly hope this legal battle continues until they get it
Their struggle reminds me of Nazim Jokhio’s case, where an entire village was pressured to boycott his wife because she refused to accept diyat. She was left isolated, with little support and no real protection from the system.
This is the tragedy of Sindh.. whether you are from Karachi or any other part of the province, ordinary families are too often left to fight for justice on their own.
I still remember when Murtaza Wahab (@murtazawahab1) personally went to the airport to receive PPP MNA Jam Abdul Karim, a main culprit in the Nazim Jokhio murder case, and drove him straight to the Sindh High Court to secure protective pre-arrest bail. That image says a lot about how power works in Sindh.
If you are in Karachi, please join the protests and show solidarity with Mir Raza’s grieving parents.
اورنگی ٹاؤن والوں کی حرکتیں کب سُدھریں گی؟
اورنگی ٹاؤن کے ایک اور نوجوان نے ایک عجیب حرکت کر دی۔ ظاہر ہے اورنگی، کورنگی یا لانڈھی کا نام آ رہا ہے تو کوئی فضول حرکت ہی زیرِ گفتگو ہوگی۔
سو بس اس نوجوان نے ��ھی ایسا ہی کیا۔ دن رات ایک کر کے محنت کی، صرف 25 سال کی عمر میں NED University کا کم عمر PhD Scholar اور لیکچرر بن گیا، اور اس کی ریسرچ دنیا کے معروف Nature Portfolio کے جرنل Scientific Reports میں شائع ہو گئی۔
لیکن چونکہ اس نوجوان نے کوئی غیر اخلاقی حرکت نہیں کی، نہ کوئی لڑائی کی، نہ کوئی اسکینڈل بنایا، تو پھر کیسے ہم اس نوجوان کو مشہور کریں؟ آخر یہ کیسے کہہ سکیں گے کہ اورنگی، کورنگی یا لانڈھی والے تو ایسے ہی ہوتے ہیں؟
ہاں، اگر ہمیں ان علاقوں کا نام بدنام کرنا ہو تو پاکستان کے کسی بھی کونے میں ہونے والی کوئی فضول حرکت بھی اورنگی، کورنگی یا لانڈھی کے نام سے چلا کر تذلیل ضرور کریں گے۔
بہرحال، یہی نوجوان اورنگی ٹاؤن، کراچی اور پاکستان کا اصل چہرہ ہیں۔
اب ہم بھی دیکھ لیتے ہیں کہ محمد شاہمیر سیف کی اس عالمی کامیابی کو کتنی پذیرائی ملتی ہے۔
🇵🇰 پاکستان زندہ باد۔
کاپیڈ
@AbdullahButt7@CNN They meet him every week?? In which parallel universe? There are countless eye witnesses who go with them to jail, every Tuesday. Sometimes they are stopped miles away and at other times they wait outside Adiala and are not allowed to see him....NOT EVEN ONCE IN PAST SIX MONTHS
The sons of the imprisoned former leader of Pakistan Imran Khan told CNN they fear for their father's health, claiming authorities in the South Asian country are preventing them from seeing him.
Pakistan's government said it "categorically rejects" the claim that Khan has faced a communication blackout or been denied access to his family, lawyers and doctors. Read more: https://t.co/e7nMvqM6XF
Today marks 3 years since Imran Khan was unjustly incarcerated.
He is still being denied basic human rights and remains in solitary confinement.
His abominable treatment is an affront to democracy. I will continue to demand the release of all political prisoners, everywhere.
Amnesty International on Tuesday called on the federal government to release Pakistan Tehreek-e-Insaf founder and former premier Imran Khan ahead of the completion of three full years in incarceration.
For more: https://t.co/XVYTPIWmzz
#etribune#news#Latest
PAKISTAN: Ahead of the third anniversary of former Prime Minister Imran Khan’s ongoing detention, Isabelle Lassee, Amnesty International’s Acting Regional Director for South Asia, said:
“For three years, Pakistan’s authorities have systematically denied Imran Khan the right to a fair trial, subjected him to prolonged solitary confinement, and limited his access to medical care and visitation rights. He has not been allowed to meet his family for more than eight months and his vision has reportedly deteriorated significantly. Both he and his wife, Bushra Bibi Khan, have now been denied regular access to legal counsel since December 2025."
Read more: https://t.co/hc6eKnIITh