وفاقی وزرا کا دعویٰ ہےتحریک انصاف اندرونی اختلافات کا شکار ہے اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئی ہے یہ تو 10ہزار بندے بھی اکٹھےکرنے کے قابل نہیں اگر یہ درست ہے تو پھر وفاقی حکومت کےپاس سنہری موقع آ گیا تحریک انصاف کو مینار پاکستان یا لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت دیدیں تا کہ یہ ایکسپوز ہو جائیں
🚨اگر ایران میں شہباز شریف جیسا اوپوزیشن لیڈر ہوتا تو سوچیں کیا ہوتا ، ایران میں بھی سائفر آیا تھا لیکن ایران نے سائفر کو جوتے کی نوک پر رکھا اور رجیم چینج نہیں کیا جبکہ دوسری طرف پاکستان میں بھی سائفر آیا جنہوں نے سائفر سے ڈر کر رجیم چینج کی آج پاکستان پر وہ حکومت کر رہے ہیں ۔
صوبائی صدر جنید اکبر
کل خواجہ آصف صاحب نے میرے حوالے سے ایک بات کی تھی۔ میں صرف خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کے ضمیر پر اتنا بوجھ تھا تو آپ صرف اتنا بتا دیں کہ 8 فروری کے الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن آپ جیت چکے ہیں؟ جس طرح 8 فروری کے الیکشن کو رِگ کیا گیا، جس طرح الیکشن لوٹا گیا، جس طرح ہمارے لوگوں کو بٹھایا گیا، یہاں اسمبلی میں ہمارے 100 تک اراکین تھے، انہیں نااہل کرکے دوسرے لوگوں کو لایا گیا، عدالتوں کو منیج کیا گیا، الیکشن کمیشن کو منیج کیا گیا۔ ہمارے لوگوں کو اسمبلی سے نکالا گیا اور جعلی لوگوں کو لایا گیا۔ کیا اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ آپ کے اپنے ضلع کی ریحانہ ڈار کو پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا، اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ گلگت بلتستان میں جو کچھ کیا گیا، کیا اس پر بھی آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دیں اور الیکشن کروا دیں، پھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔
جنید اکبر نے ن لیگیوں کو شدید امتحان میں مبتلا کر دیا
میں 2013 ، 18 اور 24 میں ایم این اے بنا اگر میں جعلی ووٹوں سے ایم این اے بنا ہوں تو مجھ پر بھی لعنت، میری اولاد پر بھی لعنت اب جو بھی حکومتی بینچ سے تقریر کرے وہ یہ جملہ دہرائے ۔ جنید اکبر
ایران ٹیم ⚽️ Five hours at immigration
ایرانی ٹیم کے کپتان کا کہنا ہے کہ ہمیں میچ سے پہلے 5 گھنٹے امیگریشن پر روکنا پڑا جو اس ورلڈکپ کو منصفانہ نہیں بناتا جو ہمارے لیے پریشان کن ہے۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل معاہدے کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات 200 روپے فی لٹر اور گھریلو و صنعتی صارفین کیلئے بجلی 50 فیصد سستی ہونی چاہیئے، بجلی و گیس بلوں میں فکسڈ چارجز والی ڈکیتی بھی بند ہونی چاہیئے۔
کل پہلی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اڈیالہ کے باہر پہنچنے کی آفیشل کال دی گئی ہے
کل اگر تو راستے کھلے رہے تو صرف اڈیالہ کے باہر جلسہ ہوگا لیکن اگر راستے بند کیے گئے تو پورا دارالحکومت جلسہ گاہ بنے گا
I warmly congratulate the US & Iran for having reached a peace deal that provides for an immediate & permanent ceasefire, the reopening of the Strait of Hormuz, as well as a framework for further negotiations. This represents a critical step towards the peaceful settlement of the conflict.
My deep appreciation goes to Pakistan, Qatar, Egypt, Saudi Arabia, Türkiye, and other regional countries, for the constructive role played in supporting the negotiations that led to the peace deal.
میں نے اپنے گھر میں پانی کے لیے بور کروا رکھا ہے کیونکہ واٹر سپلائی نہیں۔ میں نے چوکیدار رکھا ہوا ہے کیونکہ سیکیورٹی نہیں۔ مہنگی ترین بجلی کا حل ہم نے سولر لگوایا حکومت اس کے پیچھے بھی پڑ گئی۔ سرکاری اداروں میں بھیڑیے ہیں، جب ریاست ہمیں کچھ دے نہیں رہی تو لے کیوں رہی ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
مریم نواز کے ادارے CCD ( کرپٹ کرمنل ڈیپارٹمنٹ ) نے 9 سالہ بچی قتل کر دی ! واقعے کے بعد چینلز اور پاکستانی صحافیوں کے گھر پیسے بھجوائے گئے اس لیے کوئی ریپورٹ نہیں آئی پھر آسٹریلیا کے چینلز نے ہم پاکستانیوں کو یہ خبر بتائی !
🚨سہیل آفریدی کا اعلان
بجٹ ہم تب تک پاس نہیں کریں گے جب تک ہماری عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی اور عمران خان سے اپروول نہیں مل جاتی، کوئی ہماری حکومت کو ہلا بھی نہیں سکتا
”معیشت، سیاست اور انسانی حقوق اکٹھے چلتے ہیں۔ آج ہم خود کو وقت کا حاکم سمجھنے والوں سے استدعا کرنے آئے ہیں، چاہے وہ فارم 47 والے ہوں یا اُنکے پُشت پناہ، ہم ان سب سے کہتے ہیں کہ ہوش کے ناخن لو، عمران خان کو جیل میں ڈال کر تم نے پوری دُنیا کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک جیل خانہ ہے۔ تمہیں عمران خان کو باہر لانا ہوگا، وہ اس مُلک کی سیاست کا محور اور پاکستان کو اکٹھا رکھنے والی واحد شخصیت ہے۔ تم الیکشن لوٹ کر اور گولیاں برسا کر حکمران نہیں بن سکتے، بلکہ صرف جابر رہتے ہو۔“
سیکرٹری جنرل تحریکِ انصاف سلمان اکرم راجہ (@salmanAraja)
نہ میں گرفتار ہوا ہوں نہ ہی مجھے کوئی مسئلہ ہے الحمد للہ میں بالکل ٹھیک ہوں اور اپنی عوام کے ساتھ جڑا ہوا ہوں، مجبوری ایسی ہے کہ پلاننگ کے مطابق مجھے عوام سے دور رہنا ہے، ایک وقت ضرور آئے گا جو ہمارے اوپر دہشتگردی کے الزم لگائے گئے ہیں وہ انہیں واپس لینے پڑیں گے، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی شوکت نواز میر
“آپ بتائیں عمران خان کس چیز سے Step back کریں؟ عمران خان آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، کیا اس سے step back کریں؟ عمران خان نے کہا شفاف انتخابات قوم چاہتی ہے، کیا اس سے پیچھے ہٹنا ہے؟ آپ قوم سے پوچھیں عمران خان کس چیز سے پیچھے ہٹیں؟ عمران خان جیل میں اس لیے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں قبول کررہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
ایک منتخب وزیر کو جرمنی نہیں جانے دیا جاتا اور پاسپورٹ بھی بلاک ہے ؛ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ فسادی ہیں اور احتجاج دھرنوں پر یقین رکھتے ہیں نہ کہ مذاکرات.
بندہ پوچھے آپ نے منتخب لوگوں کے پاسپورٹ کس قانون اور جرم کے تحت بلاک کر رکھے ہیں؟
ششٹم اپنے لیئے ہر طرف سے نفرتیں سمیٹ رہا ہے
پاکستان میں عمران خان صاحب کی وفاقی جمہوری حکومت کو ۹ اپریل ۲۰۲۲ کو بیرونی سازش پر اندرونی غداروں کے ذریعے گرایا گیا۔ تابعدار قیادت کو ملک پر مسلط کر کے مستحکم پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم اور مقبول لیڈر کو جعلی کیسز میں ناحق جیل بھیج دیا گیا۔ تمام صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وفاداریاں خرید کر حکومتیں تبدیل کی گئی۔ تمام اداروں نے مل کر عمران خان صاحب کو شکست دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو پاکستانی قوم نے تمام تر ظلم جبر فسطائیت کے باوجود عمران خان صاحب کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ عسکریت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے پاکستان پر ایک دفعہ پھر نا اہلوں کا ٹولہ مسلط کیا۔
آج ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے غیور پاکستانیوں نے طاقتوروں کو شکست دے کر عمران خان صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں پر بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ریاست بندوق کے زور پر لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عمران خان صاحب کو جھکانے اور اُن کی پارٹی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور انشاء اللّٰہ یہ خواب عمران خان صاحب کے دشمنوں کا ہمیشہ ادھورا ہی رہیگا۔
زور زبردستی، ڈنڈے اور بندوق کے زور پر حکومت کرنے سے ۴ سال میں ہمارا پیارا پاکستان اور پاکستانی قوم تاریخ کے سب سے کمزور موڑ پر آگئی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری، بدامنی، تباہ حال معیشت اور ناکام پالیسیوں نے پاکستانی قوم کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ گلگت میں غم و غصہ ہے۔ تو فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ نا اہلوں کا اقتدار بچانا ہے یا پاکستان کو ؟ نتیجے بدلنے سے نظریے نہیں بدلتے۔ نتیجے بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتے۔ لہٰذا نتیجے نہیں اپنی پالیسی بدلو۔
گلگت والوں اپنے ووٹ کی حفاظت آپ کی قومی ذمہ داری ہیں ورانہ چار سال تک آپ کے صوبے پر غیر منتحب شدہ لوگ مسلط کردئیے جائنگے نکلو پُرامن طریقے سے آر او آفس کے سامنے تب تک دھرنے دے جب تک آپ کو فارم 47 میں رزلٹ نہیں ملتا