بہادر لوگ لڑتے ہیں آپ نعرے لگاتے ہیں رہا کرو رہا کرو عمران خان کو رہا کرو۔۔آپ کے کہنے پر وہ رہا کر دیں گے؟
جو ظالم لوگ ہوتے ہیں اُن کے خلاف لڑنا پڑتا ہے۔۔اِس دھرتی پر عمران خان جتنا بہادر لیڈر پہلے کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔۔اس کی خاطر ایک کیا ہزاروں نوکریاں قربان، مظہر برلاس
بوٹ والے پتلو کے ساتھ ملکر ان نوجوانوں کے شعور کا مقابلہ کریں گے جنکی آنکھوں کا آپریشن عمران خان نے already کر دیا ہے ۔
ہائبرڈ نظام اور ضمنی انتخابات میں فارم 47 کا پٹہ پہن کر ناچنے والوں کے نام 🔥
اسلام آباد ڈی چوک ہو، کوئٹہ ہو، فاٹا میں ڈرون اٹیک ہو، یا پھر مریدکے ہو۔۔۔
نہ بھولیں گے نہ بھولنے دیں گے
سوال ایک ہی ہے: #گولی_کیوں_چلائی؟
نہتے پاکستانیوں کو شہید کیوں کیا؟
معصوم بچوں کو شہید کیوں کیا؟
جواب تو دینا پڑے گا
#FascismUnderAsimLaw
پنجاب میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہیں اس کو روکنے کے لئے ہمیں آگے آنا ہوگا۔ میں پاکستان کے تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس غیر آئینی حکومت کے خلاف کھڑے ہوجائیں
محمود خان اچکزئی کی گفتگو 🔥
عمران خان کے دور میں ال پارٹیز کانفرنس ہوئیں پی ڈی ایم وجود میں آئی تب بھی آل پارٹیز کانفرنس ہوئی لیکن کسی نگ نہیں روکا یہ آج پہلی بار ہو رہا ہے آل پارٹیز کانفرنس کو حکومت نے روکا ہے۔
حامد میر
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام!!! (۲۲ جولائی ۲۰۲۵)
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف نے اربوں کی کرپشن کی مگر اسے ہر سہولت کے ساتھ جیل میں رکھا گیا۔کسی سیاسی رہنما کی بے گناہ غیر سیاسی اہلیہ کو کبھی ایسے جیل میں نہیں ڈالا گیا جیسے بشرٰی بیگم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ میں صرف اور صرف اپنی قوم اور آئین کی بالادستی کے لیے ملکی تاریخ کی مشکل ترین جیل کاٹ رہا ہوں۔ جبر و فسطائیت کا عالم یہ ہے کہ مجھے وضو کے لیے جو پانی دیا جاتا ہے وہ تک گندہ ہوتا ہے اور اس میں مٹی ملی ہوتی ہے، جس سے کوئی انسان وضو نہیں کر سکتا۔ میری کتابیں جو اہل خانہ کی جانب سے جیل حکام تک پہنچائی جاتی ہیں وہ بھی کئی ماہ سے نہیں دی گئیں، ٹی وی اور اخبار بھی بند ہے۔ بار بار پرانی کتب کا مطالعہ کر کے میں وقت گزارتا رہا ہوں مگر اب وہ سب ختم ہو چکی ہیں۔ میرے تمام بنیادی انسانی حقوق پامال ہیں۔ قانون اور جیل مینول کے مطابق ایک عام قیدی والی سہولیات بھی مجھے میسر نہیں ہیں۔ بار بار درخواست کے باوجود میری میرے بچوں سے بات نہیں کروائی جا رہی۔ میری سیاسی ملاقاتوں پر بھی پابندی اور ہے صرف "اپنی مرضی" کے بندوں سے ملوا دیتے ہیں اور دیگر ملاقاتیں بند ہیں۔
میں واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت پارٹی کا ہر فرد اپنے تمام اختلافات فوری طور پر بھلا کر صرف اور صرف پانچ اگست کی تحریک پر توجہ مرکوز رکھے۔ مجھے فلحال اس تحریک کا کوئی مومینٹم نظر نہیں آ رہا۔ میں 78 سالہ نظام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوں، جس میں میری کامیابی یہی ہے کہ عوام تمام تر ظلم کے باوجود میرے ساتھ کھڑی ہے۔ 8 فروری کو عوام نے بغیر نشان کے جس طرح تحریک انصاف پر اعتماد کر کے آپ لوگوں کو ووٹ دئیے اس کے بعد سب کا فرض بنتا ہے کہ عوام کی آواز بنیں۔ اگر اس وقت تحریک انصاف کے ارکان آپسی اختلافات میں پڑ کر وقت ضائع کریں گے تو یہ انتہائی افسوسناک اور قابل سرزنش عمل ہے۔ پارٹی میں جس نے بھی گروہ بندی کی اسے میں پارٹی سے نکال دوں گا۔ میں اپنی نسلوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہوں اور اس کے لیے قربانیاں دے رہا ہوں ایسے میں پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا میرے مقصد اور ویژن کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
فارم 47 کی حکومت نے چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے مفلوج کر دیا ہے۔ چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں سے ٹاوٹ ججوں کے ذریعے جیسے سیاہ فیصلے آ رہے ہیں وہ آپ سب کے سامنے ہیں۔ ہمیں عدلیہ کو آزاد کروانے کے لیے اپنی بھر پور جدوجہد کرنی ہو گی کیونکہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر کسی ملک و قوم کی بقاء ممکن ہی نہیں ہے۔
ہمارے والد نے اس ملک کے لیے سب کچھ قربان کر دیا – اپنی راحت، سکون اور سلامتی چھوڑ کر پاکستان کے مستقبل کی خاطر جدوجہد کی۔
آج وہ خاموش کر دیے گئے ہیں، اذیت میں ہیں، قید میں ہیں اور ہم سے مکمل طور پر جدا کر دیے گئے ہیں۔ جب سے ہمیں شعور آیا، انہوں نے مجھے اور میرے بھائی کو سکھایا کہ کرپٹ حکومت کتنی تباہ کن ہو سکتی ہے۔ آج انہیں اسی جرم کا الزام دیا جانا ایک سفاک اور ناقابلِ برداشت ستم ظریفی ہے۔
ٹانک کے ان معصوم چہروں کی شہادت پر خاموش رہنا انسانیت کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ میں نے وزیرستان میں اپنی آنکھوں سے ریاستی جبر ڈرون حملے اور معصوموں کی جنازے دیکھے ہیں بدقسمتی سے فیصلے ایوانوں میں ہوتے رہے قبرستان ہمارے بستے رہے اس ظلم پر خاموش رہنے والےبھی شریک جرم ہے
ظلم کی انتہا
پاکستان میں 111 کمپنیوں کو ٹیکس فری کر دیا گیا ہے جن میں سے 35 کمپنیاں فوج سے منسلک ہیں اور سارے کا سارا بوجھ ان 111 کمپنیوں کا ٹیکس بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا گیا ہے تنخواہ دار طبقے پر 10 فیصد اضافہ کا احسان جتایا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف 45 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں ۔
چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ