شکریہ منیب اہم ترین گواہی دینے کا۔۔۔۔
رجیم چینج آپریشن کا آغاز عمران خان کے پہلے سال ہی کردیا گیا تھ�� اور جنرل صاحب نے عمران خان کو نالائق نااہل قرار دینے کا بیانیہ بنانے کا کہہ دیا تھا لیکن آج کے جنرل صاحب نے ابھی تک ایسا کچھ کرنے کا نہیں کہا۔(باقیوں کو کہہ دیا گیا ہے)
🚨پاکستان میں 9 مئی کا ڈرامہ رچایا گیا جب اس ڈرامے کے بعد بھی ظلم سے دل نہیں بھرا تو 26 نومبر کو ڈی چوک میں قتل عام کیا گیا.
قاسم سوری کا واشنگٹن میں خطاب
Temperatures in Adiala, Rawalpindi have soared above 100°F, yet former Prime Minister Imran Khan remains confined in a sweltering cell under inhumane conditions in complete isolation. Shame on these Judges who have sworn an oath under Pakistan’s constitution to dispense Justice have sold their souls for perks and privileges to #AsimLaw. #ShameOnJudges
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
اسرائیل جنگ ہار چکا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران نے اس کا ریڈار سسٹم تباہ کر دیا ہے۔ دفاعی ن��ام (آئرن ڈوم) کمزور کر دیا ہے۔
ایرانی میزائل اب اسرائیل کے سینے میں پیوست ہو ریے ہیں۔
ایران کو چاہیے اب سیزفائر قبول نہ کرے۔ پورا آپریشن کرے۔
ایران کی آٹھ ملکوں سے جنگ چل رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل روز بمباری کرتے ہیں۔ دہائیوں سے عالمی پابندیاں ہیں۔
لیکن ابھی بھی وہاں اتنے لوگ نہیں مرے جتنے پاکستان میں جرنیلوں کی ناقص پالیسیوں کے ہاتھ مر ��ئے۔ شرح خواندگی وہاں زیادہ ہے۔ فی کس آمدن وہاں زیادہ ہے۔
غیرت ہے بڑی چیز
جب علی امین صاحب چیف منسٹر تھے تو ڈی آئی خان میں طالبان نظر آتے تھے، اور اب جب سہیل آفریدی صاحب چیف منسٹر بن گئے ہیں تو خیبر میں طالبان نظر آ جاتے ہیں۔ کہیں طالبان کی یہ موجودگی فرمائشی تو نہیں، تاکہ منتخب چیف منسٹر کو ڈس کریڈٹ کیا جا سکے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی فوری شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ چیف کمشنر فوری طور پر ایک طبی بورڈ تشکیل دیں جس میں پمز اور شفا ہسپتال کے ڈاکٹر شامل ہوں۔ طبی بورڈ رپورٹ جمع کرائے گا جس کی بنیاد پر چیف کمشنر فیصلہ کریں گے کہ ہسپتال منتقلی ہو یا نہیں۔
قیدی کی سنگین طبی حالت سے اہلِ خانہ کو آگاہ کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ جیل انتظامیہ میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان کی صحت ��یں بہتری ہے۔
یہ فیصلہ عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھاتا ہے:
- چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کے بعد عدلیہ انتظامیہ کے کنٹرول میں آ گئی ہے۔ عدلیہ اب موجودہ انتظامیہ کے زیرِ اثر ہے۔ قانون اور انصاف کی بجائے طاقت اور اختیار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔عمران خان کے بنیادی طبی حق کو موجودہ ترمیمات کے تحت دباؤ اور سودے بازی کا آلہ بنایا جا رہا ہے۔
طبی ہنگامی صورتحال کو تاخیر اور انتظامی اختیار کے حوالے کر دینا انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ عمران خان کی صحت کا معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے عدالتی اور ریاستی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔
#ImranKhanHealthRedAlert
دنیا میں عدالتی نظام کی درجہ بندی میں پاکستان ۱۲۹ویں نمبر پر کیوں ہے، اس کی ایک جھلک القادر ٹرسٹ کیس کی اس ٹائم لائن میں دیکھی جا سکتی ہے۔
عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلوں کا معاملہ جس انداز میں تاریخوں، اعتراضات اور مسلسل التوا کے گرد گھوم رہا ہے، شاید اس ۱۲۹ ویں نمبر پر ہونے کے لئیے کسی اور مثال کی ضرورت ہی نہیں۔
علاوہ ازیں حالیہ آئینی ترمیم نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اب وہی جج فیصلے کے ذمہ دار ہیں جن کی غیر جانبداری اور آزادی پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں انصاف کی رفتار اور ساکھ، دونوں آزمائش میں ہیں اور صحت کی فراہمی جیسے بنیادی حق کو عمران خان اور ان کے اہل خانہُ پر پریشر ڈالنے کے لئیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
#ImranKhanHealthRedAlert
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے میڈیکل چیک اپ کیلئے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا، میڈیکل بورڈ میں عمران خان کے ذاتی ڈاکٹرز کو شامل کیا جائے۔
سوال تو وہیں ہے کہ اتنی تاخیر پر کوئی جوابدہ ہے؟ عدالت کسی کو اس نااہلی اور جان بوجھ کر علاج میں تاخیر پر سزا سنائے گی؟
عمران خان جب طبی معائنے کے لیے اسپتال لائے گئے تو انہوں نے ڈاکٹر سے بار بار پوچھا: “میرا جرم کیا ہے کہ مجھے دو سال سے جیل میں رکھا گیا ہے؟ “یہ سب گیدڑ ہیں مجھے سے ڈرتے ہیں میں ان گیڈروں اور انکے سردار کو دیکھ لوں گا” الفاظ عمران خان کی زبان سے سن کر وہاں موجود ڈاکٹرز کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے، کیونکہ اسپتال میں سادہ کپڑوں میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے۔